خوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جا چکا ہے۔ مقصد صرف مستحکم بلوچستان ہے، آج ویژن بلوچستان 2030ء کی بنیاد پر صوبے پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی بلوچستان ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ اس پروگرام کے تحت کمیونی کیشن انفراسٹرکچر، ڈیموں کی تعمیر، پانی کی قلت کو دور کرنے سمیت دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بلوچستان کا آئندہ مالی سال کے لیے 1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس میں ترقیاتی پروگراموں کے 240 ارب روپے مختص کیے گئے، بلوچستان مالی سال 2025-26 کا بجٹ صوبے کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ بجٹ کا حجم گذشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جس میں تعلیم، صحت اور روزگار اہم ترجیحات ہیں۔ صوبائی اسمبلی پوسٹ بجٹ اجلاس سے خطاب ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبے رکھے گئے ہیں، صوبے کی ترقی و خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عوام کے سہولیات کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ کئی سال سے غیر فعال صحت کے مراکز کو بحال کیا، ایک سال میں محکمہ تعلیم میں سولہ ہزار بھرتیاں کیں، تین ہزار سے زائد بند سکولوں کو کھولا گیا۔ بلوچ نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں پیپلز ائیر ایمبولینس سروس شروع کی جا رہی ہے جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے 8 ہزار مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جلد چابیاں دی جا رہی ہیں۔ سریاب تا کچلاک پیپلز ٹرین سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ چاغی میں انڈسٹریل سٹیٹ بنایا جا رہا ہے، اس کے علاوہ صوبے میں نکلنے والی گیس کے لیے کھاد فیکٹری لگائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف عالمی بینک نے پاکستان کے لیے اہم مالی تعاون کی منظوری دیدی، جس کے تحت 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقم بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ جو نہ صرف صوبے کے بنیادی مسائل کے حل میں مدد گار ثابت ہو گی، بلکہ مقامی سطح پر معیشت اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کا باعث بنے گی۔ یہ رقم بلوچستان میں دو اہم نوعیت کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پہلا منصوبہ تعلیم کے شعبے سے متعلق ہے، جس کا بنیادی مقصد بچوں کو معیاری اور مؤثر تعلیمی مواقع کی فراہمی ہے اور دوسرا منصوبہ بلوچستان کی پانی ضروریات سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت واٹر سکیورٹی کے اقدامات کو مؤثر بنانے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بلاشبہ یہ منصوبے بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں کلیدی اہمیت کے حامل ہونگے، ان منصوبوں کا مقصد بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی خلا کو پُر کرنا ہے، کیونکہ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو طویل المدتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور جب تعلیمی معیار بہتر ہو گا تو معاشی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔ بلوچستان واٹر سکیورٹی پراجیکٹ صوبے کو خشک سالی، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے دیگر منفی اثرات سے محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ صرف پانی کے ذخیرے یا ترسیل تک محدود نہیں بلکہ اس میں واٹر مینجمنٹ، سسٹین ایبل ایگریکلچر اور مقامی آبادی کی تربیت جیسے عناصر شامل ہونگے۔ واضح رہے کہ جب بلوچستان جیسے خطوں میں ایک ساتھ انسانی ترقی، انفرا اسٹرکچر اور قدرتی وسائل پر کام کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، معیشت بہتر اور غربت کم ہوتی ہے۔ اس وقت ریاست صوبہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، سٹرکوں اور پلوں کی تعمیر اور تجارت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ نوجوانوں کو جدید مہارتوں، معیاری تعلیم اور اندرون و بیرون ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کر کے ان کی پوشید ہ صلاحیتوں کو ملک و قوم کے مفاد میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بلوچستان کے غریب طالب علموں کی سپورٹ کرنے کیلئے 2013ء میں ’’بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ‘‘ (BEEF) کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ ضرورت مند طلبا و طالبات کو پارشلی فنڈڈ اور فلی فنڈڈ وظائف فراہم کرتی ہے، بیف
کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکریا خان نورزئی کے مطابق بلوچستان ایجوکیشن انڈوومنٹ کی جانب سے فروری 2024 سے لیکر فروری 2025ء تک جماعت نہم سے لیکر ایم فل کرنیوالے طلبا و طالبات کو 32 ہزار 550 سکالر شپ دی گئیں جن کی کل لاگت 2-66 بلین روپے ہیں۔ رواں سال 2025ء میں ’’بلوچستان انڈوومنٹ فنڈ‘‘ کے تحت بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے ہونہار طلبہ وطالبات کے لیے فلی فنڈڈ سکالر شپ پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ جس کا مقصد طلبا کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس سکالر شپ پروگرام میں 2025 کے تعلیمی سال کے لیے 11 منتخب اضلاع کے 100 طلبہ کو فلی فنڈڈ سکالرشپ فراہم کی جائے گی جن میں شیرانی، کوہلو، جھل مگسی، آواران، بارکھان، قلعہ عبداللہ، واشک، زوب، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، جعفر آباد شامل ہیں۔ بیف نے 2024ء کی پالیسی کے تحت بلوچستان کے طلبا و طالبات میں فنی مہارتوں کے فروغ اور تکینکی تعلیم کے میدان میں دلچسپی بڑھانے کے لیے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE) میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو مالی معاونت فراہم کیں۔ اس سکیم کے تحت 501 مستحق طلبا و طالبات میں تقریباً 2 کروڑ روپے کی رقم سکالرشپ کی مد میں تقسیم کی گئیں۔ مزید برآں، سپیشل کوٹہ کے تحت صوبہ بلوچستان کے یتیم، معذور، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اور دیگر مستحق طلبا و طالبات کے لیے 51 نشستیں مختص کی گئیں تاکہ کوئی بھی با صلاحیت طالب علم تعلیمی مواقع سے محروم نہ رہ جائے، ریاست اس وقت بلوچستان میں شعبہ ’’تعلیم‘‘ پر خصوصی توجہ دے رہی کیونکہ تعلیم ہی تمام مسائل کا حل ہے دہشت گردی کا خاتمہ تعلیم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے ایجنٹ بلوچستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچ نوجوان تعلیم حاصل کریں کیونکہ اس طرح ان کا ریاست مخالف من گھڑت بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا، اسی لیے وہ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتابیں چھین کر ہتھیار تھما رہے ہیں۔ طلعت عزیز جیسے پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوانوں سے انہیں دہشت گرد، قاتل، مفرور، بھتہ خور اور سمگلر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر تعلیم یافتہ نوجوان نسل اب ان کالعدم تنظیموں کی اصلیت اور حقیقت کو جان چکی ہے۔ دشمن ناکام ہو چکا ہے اور میرا بلوچستان خوشحالی کی راہ پر گامزن۔