Wed, September 16, 2026

ٹیرفز امریکا کو دوبارہ مضبوط اور خوشحال بنا رہے ہیں: ٹرمپ

ٹیرفز امریکا کو دوبارہ مضبوط اور خوشحال بنا رہے ہیں: ٹرمپ

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک پر عائد کیے گئے تجارتی محصولات (ٹیرفز) امریکا کو دوبارہ طاقتور اور مالدار بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف حکومتیں یکم اگست کی مقررہ تاریخ سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کرنے کے لیے جلد بازی میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر تحریر کیا کہ ’’ٹیرفز امریکا کو دوبارہ عظیم اور خوشحال بنا رہے ہیں۔ ایک سال پہلے امریکا زوال پذیر ملک تھا، مگر آج یہ دنیا کا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا ملک بن چکا ہے۔‘‘

انہوں نے حال ہی میں کئی بڑے تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرفز عائد کیے، جس سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔ جنوبی کوریا نے آخری وقت میں 15 فیصد ٹیرف قبول کر کے 25 فیصد سے کم شرح پر اتفاق کیا، جبکہ برازیل پر 50 فیصد اور بھارت پر 25 فیصد محصولات لگائے گئے ہیں۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ جاری رکھتا ہے تو اسے تجارتی معاملات میں سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کینیڈا کی یہ پالیسی امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مشکل بنا دے گی۔‘‘

برازیل کے سابق صدر بولسونارو کے خلاف مقدمات کی نگرانی کرنے والے جج پر بھی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر ٹرمپ نے اپنی سخت ناراضی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو روس سے دفاعی سازوسامان اور توانائی کی خریداری پر بھی ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی دوران، کچھ مصنوعات جیسے کہ اورنج جوس، سول ایئرکرافٹس اور لوہا کو ان ٹیرفز سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ یورپی یونین، جاپان، برطانیہ اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک نے امریکا کے ساتھ ابتدائی معاہدے کیے ہیں تاکہ سخت تجارتی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیرفز امریکا کو مختصر مدت میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں مہنگائی میں اضافہ اور تجارتی کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

 
 

ٹیگز: