چھ سالہ حورین اب اس دنیا میں نہیں۔ لاہور کے نواحی علاقے ہیر گاؤں کی ایک کچی گلی میں، اس کے ننھے سے وجود کو آوارہ کتوں نے زندہ چیر پھاڑ کر کھا لیا۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں اور نہ ہی کوئی جذباتی مبالغہ ہے۔ یہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں 2025 کے جون کی حقیقت ہے۔ وہی لاہور جو وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا حلقہ انتخاب بھی ہے۔ مگر اس بچی کے لیے کوئی وزیر آیا نہ مشیر۔ ریاست خاموش ہے۔ حکومت مصروف ہے اور میڈیا کسی اور حادثے کی تیاری میں۔ حورین کی موت صرف ایک بچی کی ہلاکت نہیں۔ یہ ایک سوال ہے، جو ہر شہری، ہر حکمران اور ہر عدالت کی میز پر دھرا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم ایک ایسا ملک بن چکے ہیں جہاں ایک انسان کی زندگی سے زیادہ اہم ایک کتا ہو گیا ہے؟
لاہور میں آوارہ کتوں کی تعداد اب پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ کچھ بین الاقوامی اداروں اور مقامی سروے کے مطابق یہ تعداد ساٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یکم فروری سے 15 مارچ 2025 تک صرف پنجاب میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے پینتیس ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ اس قوم کی وہ بھیانک تصویر ہے جو روزانہ اخبار کی آخری لائنوں میں چھپ کر رہ جاتی ہے۔ جہاں زخمی جسموں کی تصویر نہیں ہوتی، بس خاموشی ہوتی ہے۔ گلبرگ کی طالبات ہوں یا باغ جناح کے بزرگ، کوئی محفوظ نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ریبیز ویکسین موجود نہیں اور مریضوں کو بازار سے خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یعنی جو انسان کتوں کے دانتوں سے بچ جائے، وہ ریاست کی بے حسی میں دم توڑ دے۔
پنجاب حکومت سالانہ سات ارب روپے میڈیا پر خرچ کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر صاف ستھری گلیوں، نیلی بسوں اور پھولوں کے گلدستوں کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ مگر وہ ویڈیوز ان گلیوں میں کیوں نہیں جاتیں جہاں حورین جیسی بچیاں خون میں لت پت ملتی ہیں؟ کیوں وہاں نہ کیمرا جاتا ہے، نہ حکومت؟ آج عدالتیں جانوروں کے حقوق پر فیصلے دے رہی ہیں۔ یہ قابلِ ستائش ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ایک انسان، ایک بچی، ایک طالبہ، ایک مزدور ۔۔۔ آوارہ کتوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے تو انسانوں کے حقوق پر عدالت کیوں خاموش ہے؟ ہمیں جانوروں سے محبت ضرور ہے مگر اس محبت سے پہلے انسان دوستی لازم ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو انسان کو مار کر جانور کو بچائے، وہ مہذب نہیں، وحشی ہے۔
ہم اکیسویں صدی میں ہیں، اور ہمارے مسائل ابھی تک پچھلی صدی کے بھی نہیں حل ہو سکے۔ دنیا نے آوارہ کتوں سے نمٹنے کے لیے جدید، سائنسی اور انسانی طریقے اپنائے ہیں۔ جیسے بھارت میں ممبئی، دہلی، چنئی ان سبھی شہروں میں ٹی این آر (Trap Neuter Return) پالیسی نافذ ہے۔ کتوں کو پکڑا جاتا ہے، نس بندی اور ریبیز ویکسین لگائی جاتی ہے اور پھر نشانی کے ساتھ وہیں چھوڑا جاتا ہے۔ لاکھوں کتے ہر سال ویکسینیٹ ہوتے ہیں اور انسان محفوظ رہتے ہیں۔ اسی طرح ترکی استنبول میں ہر آوارہ کتا رجسٹرڈ ہے۔ ان کے لیے پناہ گاہیں بنی ہیں۔ عوام کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ کچرا پلاسٹک کوڑا دان میں ڈالیں، جس کے بدلے انہیں جانوروں کے لیے خوراک گرتی نظر آتی ہے۔ صفائی اور ہمدردی دونوں اکٹھی چلتی ہیں۔ 2006 میں سری لنکا نے کتے مارنے کے بجائے ٹی این آر پالیسی اپنائی۔ آج بیشتر علاقوں کو ’’ریبیز فری زون‘‘ قرار دیا جا چکا ہے، اور ڈبلیو ایچ او بھی ان کی تعریف کرتا ہے۔
تو سوال یہ ہے: لاہور جیسے شہر میں ہم نے کیا کیا؟ کیا ہم نے ٹی این آر پروگرام شروع کیا؟ نہیں۔ کیا ہر یونین کونسل میں ڈاگ کنٹرول یونٹ موجود ہے؟ نہیں۔ کیا لاہور میں آوارہ کتوں کے لیے مخصوص شیلٹرز بنائے گئے؟ نہیں۔ کیا ہم نے ریبیز ویکسین کی قومی مہم چلائی؟ نہیں۔ تو کیا کیا؟ صرف ایک کام ہوا: بے حسی۔
لاہور شہر، جو دو کروڑ لوگوں کا مسکن ہے، صرف چھ سڑکوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جہاں سے گزر کر کوئی وی لاگر، کوئی سفارتکار، یا کوئی وزیٹنگ ٹیم آتی ہو۔ باقی شہر؟ گندگی، آوارہ کتے، دم توڑتی ویکسین اور خاموش جنازے اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ لاہور کی میونسپل کارپوریشن اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں صرف پریس ریلیز جاری کرنے کے قابل رہ گئی ہیں۔ اگر آوارہ کتوں کی افزائش میں کچرا کردار ادا کرتا ہے تو شہر میں کوڑا کیوں جگہ جگہ بکھرا ہوا ہے؟ اگر یہ معاملہ بلدیاتی سطح پر حل ہو سکتا ہے تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کیوں نہیں دئیے گئے؟ شہر میں منتخب کونسلرز موجود ہیں، مگر وہ خالی ہاتھ ہیں اور کتوں کے پاس پوری سڑک ہے۔
ہماری مطالبات اب گزارش نہیں زندہ رہنے کا حق ہیں: ٹی این آر پروگرام کا فوری نفاذ، پورے شہر میں ریبیز ویکسین مہم کا آغاز، بلدیاتی سطح پر تربیت یافتہ ڈاگ کنٹرول یونٹس کا قیام، 24/7 ہیلپ لائن کا اجرا،سٹریٹ ڈاگ شیلٹرز کا قیام اور ایڈاپشن سسٹم اور ویسٹ مینجمنٹ میں بنیادی اصلاحات۔ یہ سب کچھ ممکن ہے اگر نیت میں اخلاص ہو، اگر دلوں میں انسانیت کی رمق باقی ہو، اگر اقتدار کے ایوانوں میں خدمت کو سیاست پر فوقیت دی جائے۔ مگر فی الحال، حورین کی قبر ابھی نم ہے۔ اس کے ننھے ہاتھ مٹی کے نیچے سہمے ہوئے ہیں، اور اس کے ماں باپ کی آنکھوں میں نیند نہیں صرف ایک سوال ہے جو ہر رات جاگتا ہے کہ کیا ہماری بیٹی صرف اس لیے مر گئی کہ ہم غریب تھے؟
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہو گا صرف بحیثیت شہری نہیں، بحیثیت انسان۔ اگر اس قوم میں انسان ہونا جرم بن چکا ہے۔ اگر یہاں آنکھوں میں آنسو، بازووں میں لاشیں اور گلیوں میں چیخیں بے معنی ہو چکی ہیں، تو ہاں ہمیں یہ جرم قبول ہے لیکن ہمیں خاموشی قبول نہیں۔ کیونکہ اگر آج ہم نے زبان نہ کھولی، اگر ہم نے ظلم کے خلاف سوال نہ کیا، تو کل پھر کوئی اور بچہ حورین بنے گا۔ کسی اور ماں کی گود ویران ہو گی، اور ریاست پھر ایک کاغذی بیان جاری کر کے اگلے حادثے کی تیاری کرے گی۔ یاد رکھیے یہ کالم الفاظ سے نہیں لکھا گیا، یہ ایک معصوم بچی کے چبائے گئے جسم اور اس کے والدین کے سسکتے دل کی سیاہی سے لکھا گیا ہے۔