دریا کے سینے میں دل نہیں ہوتا، بپھرے ہوئے ریلے رحم نہیں کرتے۔ وہ سامنے آنے والی ہر شئے کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتے ہیں۔ بہتے دریا کو خالی ہاتھوں روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا رخ موڑنے کے لئے ان پر بند باندھنے کیلئے بہت کچھ درکار ہوتا ہے جو دریائے سوات کے کنارے پک نک منانے والوں اور پھر بیچ دریا جا کر سیلفیاں بنانے والوں کے پاس نہ تھا یوں بھی وہ دریا کا رخ موڑنے نہیں موج میلہ کرنے گئے تھے کہ دریا کی موجیں انہیں ایسی وادی میں بہا لے گئیں جہاں سے وہ اب واپس نہیں آسکتے۔ حادثہ افسوسناک ہے، جنہوں نے اس حادثے کی خبر پڑھی، اس کی ویڈیو دیکھی، ان کے جنازے اٹھائے، وہ سب اس حادثے سے کوئی سبق حاصل کریں گے تو جواب ہے نہیں، ہرگز نہیں، دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرنے کا چلن نہیں ہے، ہر شخص خود تجربہ کرنا چاہتا ہے۔ خواہ موت کے منہ میں جانے کا ہی تجربہ کیوں نہ ہو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس سے پہلے یہ تجربہ کرنے والے نالائق تھے، موت سے شکست کھا گئے، وہ دریا میں یا آگ کے الائو میں چھلانگ لگائے گا اور موت کو شکست دے کر واپس آئے گا۔ ایک پہیے پر تیز رفتاری سے موٹرسائیکل چلانے والے کو بھی یہی یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنا توازن برقرار رکھے گا اور شرط جیت کر آج ہی اس کا جشن منائے گا۔ تیز رفتاری سے کسی بھی شاہراہ پر گاڑی دوڑانے والے دوست سمجھتے ہیں، دنیا الٹ سکتی ہے، ان کی گاڑی نہیں الٹ سکتی پھر ان ہی کے ہاتھوں ان کی گاڑی نہر میں جا گرتی ہے، گاڑی میں بیٹھا کوئی نوجوان باہر نہیں نکل پاتا، گاڑی ان کی قبر بن جاتی ہے، ان کی گاڑی اور ان کی لاشیں رسوں کی مدد سے نکالی جاتی ہیں جو گاڑیاں موٹرسائیکلیں ان سے پیچھے رہ گئی تھیں، وہ جائے حادثہ پر رکتی ہیں لوگ باہر نکلتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں۔ یہ گاڑی جب ان کے قریب سے زگ زیگ بناتی فراٹے بھرتے گزری تو انہیں یقین تھا کہ یہ حادثے کا شکار ہو گی، سب اس پر افسوس کرتے ہیں، اس حادثے پر افسوس کرنے والوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ٹھیک اگلے چوک میں پہنچ کر اس حادثے کو اس میں مرنے والوں کو بھول جاتے ہیں پھر وہ بہت جلد ان ہی کے نقش قدم پر چلتے، ایک پہیے پر موٹرسائیکل چلاتے گنجان سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اسی طرح چلتا رہے گا۔ آپ کسی کو احتیاط کا مشورہ دیں آپ کو فوراً بزدلی کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا لہٰذا کسی کو مشورہ نہ دیں جو اس قسم کی بہادری کی موت مرنا چاہتا ہے، اسے کوئی نصیحت نہ کریں، اسے یہ بھی نہ سمجھائیں کہ ٹھیک ہے ایک روز سب نے مرنا ہے، موت سب کو آنی ہے لیکن زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام کر کے مریں، یوں زندگی رائیگاں نہ کریں جو زندگی کی قدر و قیمت جانتے ہیں جو بلند نصب العین رکھتے ہیں، جن کا کوئی مشن ہوتا ہے وہ ون ویلنگ نہیں کرتے نہ ہی گاڑی چلاتے وقت خرمستیاں کرتے ہیں۔
دریائے سوات میں ڈوبنے والے سیلفیاں بنانے والے مرد و زن بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے، انہوں نے درجنوں مرتبہ ایسے کلپ دیکھے ہونگے کہ سیلفی بناتے بناتے کوئی بلند عمارت سے گرا اور موت کے منہ میں جا پہنچا۔ دریا کے گہرے پانی میں کودا کہ دوسرے کنارے پہنچ کر بازی جیت لے گا۔ اس نے اپنی ویڈیو بنوانے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا، اس کی دریا میں چھلانگ زندگی کی آخری چھلانگ ثابت ہوئی۔ وہ چند لمحوں کیلئے نظروں سے اوجھل ہوا تو دوستوں نے سمجھا غوطہ زن ہے، ابھی سطح آب پر ابھرے گا، کوئی نہ جانتا تھا وہ کبھی نہ ابھرنے کیلئے ڈوب چکا ہے، کئی روز بعد اس کی لاش ابھری بھی تو اس طرح کہ اس کے وزن سے زیادہ پانی اس کے جسم میں تھا وہ کسی سے پہچانا نہ جاتا تھا۔
دریائے سوات میں ڈوبنے والوں نے یقینا وہ کلپ بھی دیکھا ہو گا۔ دریا پر نہانے کیلئے جانے والے دوستوں میں سے ایک نے گہرے پانی میں جانے کے بعد شور مچایا، بچائو بچائو میں ڈوب رہا ہوں، کنارے پر کھڑے ویڈیو بنانے والے دوست سمجھے مذاق کر رہا ہے، ویڈیو شوٹ کیلئے ایکٹنگ ایکشن کر رہا ہے، وہ ویڈیو بنانے میں مگن رہے، بچائو بچائو کا شور مچانے والا ڈوب گیا، اب اس کے سب دوست اور اہل خانہ اس کی برسی کے روز جمع ہوتے ہیں، اس کے موت کے منہ میں جانے کی ویڈیو دیکھتے ہیں پھر دعائے خیر کیلئے ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔ نہر میں ڈوبنے کا ایک واقعہ ایسا ہے جو ملک کے مختلف شہروں میں متعدد مرتبہ ہو چکا ہے۔ تین بھائی یا دوست گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود نہریا دریا پر گئے۔ ایک نے دریا میں چھلانگ لگائی باقی دو کو یاد آیا ماں یا باپ نے پانی میں اترنے سے منع کیا تھا۔ دریا میں کودنے والا ڈوبنے لگا تو اس نے مدد کیلئے آواز دی، کنارے پر کھڑا دوسرا لڑکا اسے بچانے کیلئے پانی میں گیا تو پانی سب کو بہا کر دور لے گیا، تینوں ڈوب گئے، دوستوں کی خواہش پوری ہو گئی، ڈوبنے والے تینوں کی جان ایک دوسرے میں تھی، دریا نے بھی انہیں جدا نہ کیا، تینوں کو اکٹھے اپنی لپیٹ میں لیا اور ہمیشہ کیلئے اکٹھا کر دیا، تینوں کی قبریں ایک ساتھ بنا لی گئیں، تینوں زندگی بھر اکٹھے رہے حتیٰ کہ موت کے بعد بھی ایک دوسرے کے پہلو میں پہنچ گئے۔ تینوں کے اہل خانہ ہمسائے دوست احباب عیدین کی نماز پڑھنے کے بعد اب ان کی قبروں پر اکٹھے ہوتے ہیں، ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ دوسرے کا بیٹا ان کے بیٹے کی موت کا سامان بنا، اپنے اپنے بیٹوں کے غم میں ان کی مائوں کی آپس میں بول چال ملنا جلنا بند ہے، کوئی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں حالانکہ دکھ سب کا سانجھا ہے۔
اپنے امروز کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ ضرور کیجئے لیکن اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر، یادگار لمحے تو زندگی کے ہوتے ہیں، موت کے دن یا موت کے بعد کے نہیں، سیلفیوں کا ذوق اور شوق رکھنے والے دریائے سوات میں ڈوبنے والوں کو چاہے بھول جائیں لیکن اپنی نئی سیلفی بنانے سے قبل انہیں ایک لمحے کیلئے یاد کر لیں تاکہ دیکھ سکیں سیلفی بنانے کے بعد وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی سکیں گے یا پھر اسے صرف ان کے اہل خانہ ہی دیکھا کریں گے اور آنسو بہایا کریں گے۔