کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا، ”بتاو، رعایا کو خوش رکھنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟“ وزیر نے جواب دیا، ”حضور! اگر خزانہ بھرا ہو تو لوگوں کے مسائل حل کر دیجیے، اور اگر خزانہ خالی ہو تو لوگوں کو امیدیں بانٹ دیجیے“۔ بادشاہ نے دوبارہ پوچھا، ”اگر امیدیں بھی ختم ہو جائیں تو“؟ وزیر مسکرایا اور بولا، ”پھر تقریبات کیجیے، تصویریں بنوائیے اور اعلان کیجیے کہ انقلاب آ چکا ہے“۔ یہ محض ایک فرضی قصہ نہیں، بلکہ ہمارے طرزِ حکمرانی کی تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، نعرے بدلتے رہتے ہیں، منصوبوں کے نام بدلتے رہتے ہیں، لیکن ایک چیز نہیں بدلتی؛ اور وہ ہے نمائشی حکمرانی۔ ایسی حکمرانی جس میں منصوبے کی کامیابی اس کے نتائج سے نہیں بلکہ اس کی میڈیا کوریج سے ناپی جاتی ہے۔ چند روز قبل پنجاب کے ایک گاو¿ں میں ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ حکومت کی جانب سے غربت میں کمی کے لیے ایک منصوبہ متعارف کرایا گیا کہ ہر گاو¿ں کا نمبردار ایک ایکڑ زمین پر سبزیاں کاشت کرے گا تاکہ غریب خاندانوں کو مفت سبزی فراہم کی جا سکے۔ بظاہر یہ خیال بُرا نہیں۔ اگر اس کے پیچھے مکمل زرعی منصوبہ بندی، مالی وسائل، تکنیکی معاونت، نگرانی اور شفاف تقسیم کا نظام موجود ہو تو ایسے منصوبے مقامی سطح پر غذائی تحفظ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اکثر منصوبوں کی بنیاد تحقیق پر نہیں بلکہ تشہیر پر رکھی جاتی ہے۔ گاو¿ں میں صبح سے سرکاری گاڑیوں کے قافلے پہنچنا شروع ہو گئے۔ مختلف محکموں کے افسر، سیاسی شخصیات، زرعی ماہرین، میڈیا ٹیمیں، سکیورٹی اہلکار اور ڈرون کیمرے سب موجود تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی عالمی منصوبے کا افتتاح ہونے جا رہا ہو۔ کافی دیر تک اس بات پر غور ہوتا رہا کہ تصویر کہاں اچھی آئے گی۔ آخرکار ایک ایسی جگہ منتخب ہوئی جسے ایک مقامی زمیندار پہلے ہی مکئی کی فصل کے لیے تیار کر چکا تھا۔کیمرے آن ہوئے، مٹی ہاتھوں میں اٹھائی گئی، مسکراہٹیں بکھریں، تصویریں بنیں اور یوں محسوس ہونے لگا جیسے فصل اُگ بھی گئی ہے اور غریبوں کے گھروں تک پہنچ بھی گئی ہے۔ اسی دوران کسی نے معصومانہ سوال کر دیا: ”سر! اس موسم میں کون سی سبزی لگے گی؟ بیج کہاں ہیں؟“ چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر کسی نے معاملہ سنبھالتے ہوئے مٹی ہی کو علامتی طور پر مختلف سبزیوں کے بیج قرار دے دیا تاکہ تقریب کی روانی متاثر نہ ہو۔ تصاویر مکمل ہو گئیں، ویڈیوز اپ لوڈ ہو گئیں اور سرکاری صفحات پر یہ پیغام جاری ہو گیا کہ حکومت غریب عوام کو مفت سبزیاں فراہم کرنے کے مشن پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ یہ منظر صرف ایک منصوبے کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے پورے انتظامی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔ آج ہمارے ہاں ترقی کا مطلب اکثر رنگین بینرز، خوبصورت بیک ڈراپس، ڈرون فوٹیج، سوشل میڈیا پوسٹس اور اخباری سرخیاں بن چکا ہے۔ منصوبہ مکمل ہوا یا نہیں، اس سے عوام کی زندگی بدلی یا نہیں، اس کی لاگت کے مقابلے میں فائدہ کتنا ہوا، ان سوالات پر کم ہی بات ہوتی ہے۔ کبھی بازاروں کی خوبصورتی کو ترقی قرار دیا جاتا ہے، کبھی سڑکوں کے کنارے پھول لگا کر معاشی کامیابی کا تاثر دیا جاتا ہے، کبھی دیواروں پر رنگ کر کے شہری ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں، کبھی نمائشی شجرکاری مہم چلتی ہے اور چند ہفتوں بعد پودا باقی رہتا ہے اور نہ مہم کا ذکر۔ دنیا کی کامیاب ریاستیں اپنے شہریوں کو روزگار دیتی ہیں، ہم انہیں افتتاحی تقریبات دکھاتے ہیں۔ وہ صنعت لگاتی ہیں، ہم یادگاری تختیاں لگاتے ہیں۔ وہ اعداد و شمار کے ذریعے اپنی کارکردگی ثابت کرتی ہیں، ہم تصاویر کے ذریعے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غربت کا خاتمہ مفت سبزی تقسیم کرنے سے ہو گا؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے غریب ترین ممالک آج خوشحال
ہوتے۔ غربت اس وقت کم ہوتی ہے جب معیشت بڑھتی ہے، صنعت چلتی ہے، کاروبار آسان ہوتا ہے، سرمایہ کاری آتی ہے، کسان کو منافع ملتا ہے، نوجوان کو روزگار ملتا ہے اور تعلیم و صحت تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔ اگر کسان کی لاگت کم کر دی جائے، معیاری بیج، پانی، کھاد اور منڈی تک رسائی فراہم کر دی جائے تو سبزی خود بخود سستی ہو جائے گی۔ اس کا فائدہ صرف چند منتخب خاندانوں کو نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کو ہو گا۔ لیکن یہ راستہ مشکل ہے، اس میں محنت، منصوبہ بندی اور مسلسل نگرانی درکار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک تقریب منعقد کرنا، تصاویر بنوانا اور کامیابی کا اعلان کر دینا کہیں آسان ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب سرکاری افسر بھی اصل نتائج سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ میڈیا کوریج کیسی ہو گی۔ بعض اوقات منصوبہ ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے جبکہ فوٹو سیشن بنیادی مقصد بن جاتا ہے۔ یوں عوامی خدمت آہستہ آہستہ پبلک ریلیشن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری خیرات بانٹنا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ شہری اپنی محنت سے عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ایک تھیلی سبزی وقتی ضرورت پوری کر سکتی ہے، لیکن مستقل روزگار، بہتر تعلیم، معیاری صحت، کم مہنگائی اور مضبوط معیشت ہی غربت کا حقیقی علاج ہیں۔ تقریب ختم ہوئی۔ مہمان واپس جانے لگے۔ نمبر دار خاموشی سے سب کو رخصت کرتا رہا۔ آخر اس نے نہایت سادگی سے ایک سوال پوچھ لیا: ”سر! ایک بات بتا دیں .... جب یہ سبزیاں تیار ہو جائیں تو غربا کے گھروں میں کچی بھیجنی ہیں یا دیگیں پکا کر؟“ سب خاموش ہو گئے۔ اس لیے نہیں کہ سوال مشکل تھا، بلکہ اس لیے کہ یہ سوال سبزی کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ سوال ہماری حکمرانی کے انداز کے بارے میں تھا۔ یہ سوال ان ترجیحات کے بارے میں تھا جن میں کیمرہ حقیقت پر غالب آ چکا ہے، اور تصویر کارکردگی کی جگہ لے چکی ہے۔ جس دن ہماری حکومتیں تصویروں کے بجائے نتائج پر توجہ دینا شروع کر دیں گی، اس دن شاید نمبردار کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی، کیونکہ اس وقت غریب کے گھر سبزی خیرات کے طور پر نہیں بلکہ اس کی اپنی کمائی سے پکے گی۔