Wed, September 16, 2026

شیر آ گیا، شیر آ گیا

شیر آ گیا، شیر آ گیا


ہم بچپن سے ایک گڈریے کی کہانی پڑھا اور سنا کرتے تھے جس میں ایک گڈریا گاو¿ں والوں سے جھوٹ بولا کرتا تھا کہ شیر آ گیا، شیر آ گیا۔ کہانی اخلاقی سبق دیتی ہوئی اپنے اختتام تک پہنچتی تھی۔ گڈریے کے مسلسل جھوٹ بولنے کی وجہ سے بستی کا کوئی شخص بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور بالآخر اچانک حملے کرنے والا شیر اس کا سارا ریوڑ کھا جاتا ہے۔
ہماری دنیا میں بچوں کو سچ کی اہمیت بتانے اور اخلاقی اقدار سمجھانے کے لیے ایسی کہانیاں سنائی اور پڑھائی جاتی تھیں۔ یہی روایت گھروں میں میں بھی ہوا کرتی تھی۔ رات کو سونے سے پہلے بڑی بوڑھیاں گرمیِ آواز کے ساتھ بچوں تک سبق آموز کہانیاں منتقل کیا کرتی تھیں جن کی بدولت بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہوتی تھی اور سبق آموزی ان کے مزاج کا حصہ بن جاتی تھی۔ عبرت حاصل کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا جو نامیاتی طریقہ کہانی ہمیں دیتی ہے وہ بڑی بڑی نصیحتوں سے بھی نصیب نہیں ہوتا اور اگر یہ کہانی گھر کے کسی بڑے بوڑھے کی حکمت آفرین آواز کے ساتھ سننے کو ملے تو سننے والے کے لیے جگ بیتی بھی بن جاتی ہے اور کہانی کے کرداروں کے ساتھ ایک غیر مرئی تعلق بھی قائم ہو جاتا ہے۔ ناقدانہ نظر اسی سلسلے کی دین ہے۔ ہم آج کے تعلیم یافتہ لوگوں میں حکمت اور سمجھ بوجھ کی جس کمی کا ذکر کرتے ہیں وہ ہماری کہانی کہنے کی روایت کے ساتھ نہیں کھو گئی ہے۔ اتفاق میں برکت ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے جیسی کہانیاں چھوٹی عمر سے ہی بچوں میں سماجی عوامل کی سمجھ پیدا کرنے اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کے عمل میں نہایت اہم کردار ادا کیا کرتی تھیں۔
اس عمل کے جمالیاتی لوازمات اور آداب کو سمجھنے کے لیے اشفاق احمد کا افسانہ بھولا پڑھیے۔ کہانی کا سلسلہ اپنی فسانوی اہمیت اور اساطیر کے ساتھ کلچر میں کیسے اپنی جگہ بناتا ہے۔ روایات کیسے انسانی سماج میں پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ کہانی کی ایجاد اور اس کے بیان کا رات کی خاموشی سے کتنا گہرا تعلق رہا ہے کہ سننے والے کا تخیل بہک ہی نہیں سکتا تھا۔ بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ دن میں کہانی سننے سے مہمان رستہ بھٹک جاتا ہے۔ یہ رات ہی کی تخلیق ہے اور اس نے رات ہی کی جمالیات کے سہارے انسانی ذہن میں نیند تک کا سفر طے کرنا ہے۔
ہمارے ساتھ ظلم یہ بھی ہوا کہ ہماری نسل نے زندگی کی حقیقتوں کو بیان کی جانے والی حکایات اور کہانیوں کے انجام سے بالکل مختلف پایا ہے۔ ہم اب جس زمانے میں جی رہے ہیں اس میں کئی گڈریے صبح شام جھوٹ بولتے ہیں لیکن نہ تو شیر آ کر ان کے ریوڑ کھاتا ہے اور نہ ہی بستی کے لوگ ان کی باتوں پر کان دھرنا چھوڑتے ہیں۔ لالچ بُری بلا ہے، کی حکمت کو جاننے والی نسل نے لالچ کو فلاح اور کامیابی کا وسیلہ بنتے دیکھا اور لالچی لوگوں کو حرص و ہوس کے طفیل دنیا کے مادی وسائل پر قبضہ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ اب لالچی کتا اپنے حصے کی ہڈی منہ میں دبا کر پورے براعظم کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ نئی دنیا نے کفایت شعاری اور قناعت پسند جیسی اقدار کو گالی بنا دیا ہے اور جنگل میں گوشت کے ایک ٹکڑے پر جھپٹنے یا کسی زمیں کے ایک ٹکڑے پر اپنی حکمرانی کا اعلان کرنے والے درندوں کی صفات کو انسانی شخصیت سازی کا لازمہ بنا دیا ہے۔ یعنی آپ امیر تب تک نہیں ہیں جب تک دوسرے آپ کے محتاج نہیں ہیں۔ آپ تب تک طاقتور نہیں ہیں جب تک کہ آپ دوسروں کا حق نہیں مارتے اور تب تلک بڑے نہیں ہیں جب تلک کہ آپ دوسروں کو تنگ نہیں کر لیتے۔
ہم بین الاقوامی منظر نامے پر دنیا کی اقوام کو مادی ترقی سے زیر تسلط رکھنے والے گڈریے کو روز جھوٹ بولتا ہوا دیکھتے ہیں۔ مادی غلامی کا شکار اقوام عالم صبح شام جھوٹ بولنے والے گڈریے کی رپورٹنگ کرتی ہیں اور اسی جھوٹ کی بنیاد پر اپنے تجزیوں، پالیسیوں حتیٰ کہ مستقبل کی امیدوں کا تعین بھی کرتی ہیں۔ اس گڈریے کی آواز پر سب یہی مانے بیٹھے ہیں کہ شیر آ گیا ہے اور وہ کذاب گڈریے کے ریوڑ کو چھوڑ کر تمام بستی کو کھا جائے گا۔
صبح و شام جھوٹ اور فریب کاری سے اقوام عالم کو بیوقوف بنانے والے گڈریے کا عمل اقوام عالم کی اخلاقی تربیت اور ذہنی پختگی کا امتحان بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ اسی گڈریے کی آواز کے سراب میں جل رہا ہے۔ کوئی اس کذاب کی بات پر کان دھرنے سے باز نہیں آ رہا۔ کہانیوں کے اخلاقی سبق کہیں کہانی کی روایت کے ساتھ ہی عالمی ادب اور تربیت سازی کے عمل سے دور ہو گئے ہیں۔ ماضی کی دھندلی کہانیاں نیم نگاہی سے جدید انسان سے شکوہ کر رہی ہیں کہ ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا

ٹیگز: