ہمارا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالامال ہے یہاں کے لوگ ذہانت اور ان گنت صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کا بہترین استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں سب سے پہلی مشکل میرٹ کی آتی ہے۔حل یہ ہے کاروبار اور ملازمت سے لے کر کھیل کے میدان تک ہمیں میرٹ کو یقینی بنانا ہو گا تا کہ ملک معاشی میدان میں تیزی سے ترقی کرے۔ کرکٹ پاکستان میں مقبول ترین کھیل سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برس میں کرکٹ نے خاصا فروغ پایا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ مبارک باد کا مستحق ہے۔
سال 2025 میں پاکستان نے 56 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 30 میں کامیابی حاصل کی، جس میں ٹی20 فارمیٹ میں 34 میچوں میں سے 21 جیتے گئے، جو ٹیم کی بہتری اور عمدہ کارکردگی کی جانب اشارہ ہے۔ بیٹنگ پر نظر کی جائے تو اس سال ٹی20 میں قومی ٹیم نے 34 میچوں میں مجموعی طور پر 235 چھکے لگائے، یعنی ہر میچ میں اوسطاً 7 چھکے، جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ جارحانہ اور مضبوط بیٹنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح ون ڈے رینکنگ میں پاکستان کی ٹیم چوتھے نمبر تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم نے آئی سی سی مقابلوں میں اپنی درجہ بندی بہتر کی ہے۔ مزید براں پاکستان سپر لیگ (PSL) نے بھی اپنے 10ویں سیزن میں لائیو سٹریم ویوز میں حیرت انگیز 647فیصد اضافہ کیا، جس نے 3.4 بلین ڈیجیٹل ناظرین تک رسائی حاصل کی اور ملکی کرکٹ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ کیا۔
اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا وژن اور اس کی پالیسی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنانے اور لمبے عرصے تک ایک مضبوط ٹیم بنانے کے لیے اب بھی بعض باتوں کی طرف توجہ دینا بہت ضروری
ہے۔ ڈپارٹمنٹل کرکٹ، مختلف لیگز اور ڈسٹرکٹ یا ڈویژنل لیول پر کرکٹ کے ثمرات تب بہتر طور پر سامنے آئیں گے جب کرکٹ میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ کرکٹرز کی جھتے بندیوں، لابنگ اور گروپوں سے نجات دلا کر کاکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو آگے لایا جائے گا۔ بہت ضروری ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو مشکوک طرز کے کنٹریکٹرز اور جواریوں سے محفوظ رکھتے ہوئے میرٹ پر مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر کسی با صلاحیت کھلاڑی کا رستہ روکا جائے گا تو مختلف گروپس، لابیز، کمپنیاں اور جتھے اپنا کام شروع کر دیں گے۔
جب ہم ایک ٹیلنٹ کو روکتے ہیں تو در اصل ہم اپنی کامیابی کے ایک امکان کو ختم کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کے فروغ کے پالیسی کی بدولت مختلف لیگز میں کئی جوان کھلاڑی سامنے آئے ہیں جنھوں نے غیر معمولی قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نارووال سے تعلق رکھنے والے فاسٹ باو¿لر عبد الواحد نے خاص طور پر عوامی سطح پر خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ مجھے ان کی تکنیک، ذہانت اور مثبت رویے نے خاصا متاثر کیا ہے۔حالیہ سیریز میں عبدالواحد نے کے۔آر۔ایل کو ایک تاریخی فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عبدالواحد ماضی میں پی ٹی وی، ایل سی سی اے، نیشنل بینک اور دیگر قومی سطح کی ٹیموں کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ 140 سے زیادہ سپیڈ کے ساتھ بال کو دونوں طرف گھمانے کی قابلیت رکھنے والے عبد الواحد سے بہت سی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ڈر یہ ہے کہ کہیں یہ ٹیلنٹ بھی کلب کی سیاست اور دھڑے بندیوں کی نذر نہ ہو جائے۔
تمام لیگز اور ٹورنامنٹس کا بنیادی مقصد نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا اور میرٹ کی بنیاد پر انھیں مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ دنیا کے دوسروں ملکوں نے اسی اصول کے ذریعے کھیل کے ساتھ معاشی میدان میں بھی ترقی کی ہے۔
آسٹریلیا نے 2023 کے ورلڈ کپ میں اپنی فاتح ٹیم کی اوسط عمر تقریباً 29 سال رکھی، جہاں کئی کھلاڑی 25 سال سے کم عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے تھے۔ اسی طرح انگلینڈ نے 2019 کے ورلڈ کپ میں نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کیا، جس کے نتیجے میں ان کی ٹیم کا سٹرائیک ریٹ پچھلے ورلڈ کپ کے مقابلے میں 15فیصد زیادہ رہا۔ بھارت میں آئی پی ایل کے ذریعے 20 سے 23 سال کے کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع ملے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2023 میں بھارتی ٹیم کے سکواڈ کا تقریباً 40فیصد حصہ 25 سال سے کم عمر کھلاڑیوں پر مشتمل تھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان ٹیلنٹ پر سرمایہ کاری کرنا اور انھیں بروقت مواقع دینا کھیلوں میں ترقی کا باعث بنتا ہے لیکن یہ مواقع میرٹ کی بنیاد پر دینے چاہئیں۔ ہمارے ملک کو قدرت نے غیر معمولی قابلیت رکھنے والے لوگ عطا کیے ہیں ہمارا کام صرف ان کو استحصال سے بچانا اور میرٹ کی بنیاد پر آگے لانا ہے۔ ہماری امیدیں نوجوانوں سے صرف نعروں کی حد تک نہیں جڑی ہیں بلکہ حقیقت میں ہمارے مستقبل کا انحصار انہی نوجوانوں پر ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہو گا کہ ہم اپنا مستقبل کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ ۔
ہمارے میدانوں میں مضافات سے تعلق رکھنے والے عبد الواحد جیسے نوجوان آگے آتے ہیں یا پھر یہ گروپوں اور جتھوں میں جکڑے رہ جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ کرکٹ پاکستان کے لیے صرف کھیل نہیں ہے بلکہ مقابلے، ہار جیت اور ترقی کا خالص مظاہرہ ہے۔ ہمارے لوگ گراو¿نڈ سے معاشرے کی اقدار اور روایات لیتے ہیں۔ لہٰذا ہم نے میدان میں قابل اور محنتی لوگوں کو پہنچانا ہے۔ اس عمل کے یقیناً دور رس اثرات دیکھنے میں آئیں گے۔