Wed, September 16, 2026

شاہراہِ عرفان صدیقی ... !!! 

شاہراہِ عرفان صدیقی ... !!! 

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی راہِ حیات وہ شاہراہِ عمل ہے جو ہر پاکستانی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ وہ شعورِ بیدار ہے جو ہمیں سچائی، عاجزی، ہمدردی اور انسانیت کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ وہ احساسِ پاک ہے جو ہمیں امن، سلامتی، محبت اور شائستگی کا سبق دیتا ہے۔ یہ وہ آوازِ ضمیر ہے جو ہمیں خلوص، وفا، صبر اور درگزر پر قائم رکھتی ہے۔ یہ وہ حسنِ اخلاق ہے جو ہمیں اپنے مخالفین کے لیے بھی نرم خوئی، تحریم، تکریم اور تعظیم سکھاتا ہے۔ یہ وہ معراجِ انسانیت ہے جو ہمیں رنگ، نسل، ذات، معاش اور مرتبے کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر انسان کو برابری کی سطح پر عزت و احترام کی تلقین کرتی ہے۔ یہ وہ روحِ وطنیت ہے جو ہمیں اپنی مٹی، وطن اور ہم وطنوں سے محبت کا درس دیتی ہے۔ یہ وہ نعرہِ بیداری ہے جو ہمیں ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی جرا¿ت بخشتا ہے۔ یہ وہ دستِ شفقت ہے جو ہمیں اپنے سے کمزور، بے سہارا اور محروم طبقے کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ وہ نغمہِ وفاداری ہے جو ہمیں اپنے وعدوں، قولوں اور فرائض کی پاسداری کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ فلسفہِ زیست ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ سکونِ قلب کا اصل معیار دوسروں کی خوشی، کامیابی اور حوصلہ افزائی میں ہے نہ کہ اپنے ذاتی مفاد میں۔ یہ وہ نعرہ عشق و مستی ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت، عشق اور اطاعت میں پِنہاں ہے۔
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی 19 دسمبر 1943ءکو راولپنڈی کے مضافاتی علاقے ڈھوک بدھال میں ایک معروف علمی، ادبی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 10 نومبر 2025ءکو مختصر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے جو رسول اللہ کے یارِ غار تھے۔ آپ کے پردادا مرحوم قاضی لطف الدین جید عالم دین اور صاحب ثروت شخصیت تھے۔ انہوں نے 1870ءمیں اپنے ذاتی خرچ سے گاو¿ں میں زمین خرید کر اس پر جامع مسجد تعمیر کرائی جو آج بھی قائم ہے۔ آپ کے دادا مرحوم قاضی غلام قادر علم و فضل کا پیکر تھے۔ انہوں نے عالم دین ہونے کے ساتھ منشی فاضل بھی کر رکھا تھا۔ آپ کے والدِ گرامی مرحوم قاضی عبدالحق اپنے دور کے مشہور عالمِ دین، خطیب، شاعر اور خوشنویس تھے۔ انہوں نے مشہور زمانہ خطاط مرحوم عبدالمجید پرویں رقم سے خطاطی سیکھی اور بعدازاں ان کے ساتھ مل کر علامہ اقبال کے کئی شاعری مجموعوں کی کتابت بھی کی تھی۔ آپ کے چچا مرحوم قاضی نذیر احمد سکول ہیڈ ماسٹر اور علاقے کے معروف ماہر تعلیم تھے جنہوں نے ناصرف ہزاروں شاگردوں کو تعلیم سے روشناس کرایا بلکہ وہ مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے بھی علم، راہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ایک بہت بڑا سرچشمہ تھے۔ آپ کے ماموں مرحوم مولانا نعیم صدیقی، مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور خود بھی ایک بڑے عالم دین اور بیسیوں کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب ”محسنِ انسانیت“ آج بھی پاکستان میں سیّرت النبی پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یوں مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو علم و دانش، شاعری و ادب، خوشنویسی و خطاطی، تحریر و تقریر اور دینِ اسلام سے محبت اور عشق رسول اپنے آباءو اجداد سے ورثے میں ملا تھا۔
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی شعبہ تعلیم سے صحافت، ریڈیو پاکستان، سیکرٹری صدر پاکستان، مشیر وزیرِ اعظم پاکستان اور چیئرمین قائمہ کمیٹیز سینیٹ آف پاکستان، جن عہدوں پر بھی فائز رہے دل میں پاک وطن، عوام اور دین اسلام کی محبت کا جذبہ غالب رہا۔ جناب میاں نواز شریف صاحب کے تیسرے دورِ حکومت میں، جنوری 2014ءمیں جب آپ مشیرِ وزیرِ اعظم پاکستان بنے تو علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اداروں کی بدحالی کا جان کر آپ کو بہت دکھ ہوا۔ آپ نے سابق صدر پاکستان مرحوم ممنون حسین سے مل کر وزیرِ اعظم پاکستان کی رہنمائی سے ان خستہ حال اداروں کی ایک نئی وزارت ”قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن“ کی بنیاد رکھی اور شبانہ روز محنت سے انہیں ترقی و خوشحالی کی نئی راہ پہ ڈالا۔ حکومت پاکستان نے آپ کی ملک و قوم کے لیے بے پناہ خدمات کے اعتراف میں مارچ 2014ءمیں آپ کو ”ہلالِ امتیاز“ عطا کیا اور اگست 2025ءمیں پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ”نشانِ امتیاز“ دینے کا اعلان کیا ہے۔
قائد مسلم لیگ جناب میاں نواز شریف صاحب، وزیر اعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کو چاہیے کہ مسلم لیگ کے دیرینہ و مخلص و وفادار ساتھی اور قومی ہیرو، مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی ملک و قوم کے لیے بے پناہ علمی، ادبی، صحافتی، سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں پنجاب حکومت کو ”روات راولپنڈی“ سے ان کے آبائی گاو¿ں ”ڈھوک بدھال“ جانے والے ”چک بیلی خان روڈ“ اور وفاقی حکومت کو اسلام آباد ”سیکٹر G-10“ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرنے والے ”سواں روڈ“ کا نام تبدیل کر کے ان کے نام سے منسوب کردینا چاہیے۔ ”شاہراہِ عرفان صدیقی“ جہاں مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی اپنے وطن کے لیے بے پناہ عشق و محبت اور خدمات کا اعتراف ہو گا وہاں ان کے عظیم فلسفہ حیات: امن و سلامتی، محبت و آشتی، خلوص و وفا، صبر و تحمل، عفو و درگزر، تہذیب و شائستگی، دیانتداری و خودداری اور عجز و انکساری کا بھی پرچار ہو گا۔

ٹیگز: