اس وقت پنجاب پر انتہائی ذہین و فطین اور دلکش حسن و خوبی کی مالک عورتوں کی حکمرانی کا دست شفقت ہے جس طرح ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ ہم ایسے معاشرے کے مکین ہیں جہاں کسی بھی عمر میں عورت کو ناک چوٹی کاٹ کر خالی ہاتھ گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ بیس بیس تیس تیس سال کی شادیوں کے بعد بھی عورت کے ہاتھ میں گھر سے نکالے جانے کے وقت ا یک (بقول شہبازشریف) دھیلہ بھی نہیں ہوتا دھیلہ، پائی، چونی، اٹھنی، سولہ آنے نہ جانے کب کے کرنسی سے نکل گئے مگر ہمارے ذہنوں میں آج تک ذخیرہ کئے بیٹھے ہیں۔
جانے وہ کیسی یاد کے سانچے میں ڈھل گئے
وہ نام ذہن سے جو ہمارے نکل گئے
یونہی قلم ہمارا ہماری نثر اور شاعری میں تیرتا رہتا ہے یہ طے ہے کہ عورت پیدائشی حکمران ہے مگر پورا نظام ہستی چلانے، اس مخلوق سے جب مرد مقابلہ نہیں کر پاتے تو سب سے آسان ہدف ان کی کردار کشی ہوتی ہے.... مجھے فخر ہے کم از کم اس معاشرے میں ایک مرد میں نے ایسا تربیت کیا ہے جو ایسی کردار کشی کو ہدف نہیں بنائے گا اور یہ ماﺅں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ بیٹوں کو ایسی ہی تربیت دیں کہ آنے والی عورتیں سرخرو رہیں۔
میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ آخر کب تک مرد عورتوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ دیتے رہیں گے وہ سرٹیفکیٹ جسے وہ اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتے حالانکہ کردار کی شرط تو رب نے بلاتفریق دونوں کے لئے رکھی ہے جواباً بیٹے نے کہا جب تک عورتیں اسے کریکٹر سرٹیفکیٹ سمجھتی رہیں گی تب یہ شعر لکھے....
سند کرتا ہے جاری تو مرے کردار کو گویا
گواہی پر تری موقوف میری پارسائی ہے
میں کرتی ہوں بری خود کو عدالت کے کٹہرے سے
عدالت وہ جو تم نے اپنے جیسوں کی لگائی ہے
عورتوں کو خود کو کردار کشی کے گھٹیا واروں سے بچ کر اپنی جان کی حفاظت بھی خود کرنا ہو گی اس معاشرے میں جہاں عورتوں کو ڈولی میں جانا اور منجھی پر واپس آنا چاہئے ہندوﺅانہ رسومات کا خاتمہ بھی خود ہی کرنا ہو گا صرف ا سلام نے طلاق خلع کا حق دیا ہے کہ دوسری شادیوں کے شوقین پہلی بیوی کو قتل نہ کریں۔ طلاق دے دیں اور خواتین کو بھی چاہیے جوتے کھانے کی بجائے اپنی زندگی کے بیس تیس سال کام کاج کو دیں کیو نکہ خواتین جب بے دخل کی جاتی ہیں تو زیور کپڑا چھین کر خالی ہاتھ کر دیا جاتا ہے جبکہ طلاق کی صورت میں مرد کے پاس گھر دکان دفتر موجود ہوتا ہے یہاں کا ایک مخصوص طبقہ اس قدر گھٹیا ہے کہ عورت کو جب طاقتور دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ تین تین طلاق والیاں ہیں.... بھئی کیا مرد کو ساتھ طلاق نہیں ہوتی مگر مرد کو محض اس لئے طلاق یافتہ نہیں کہتے کہ وہ مالی طور پر آسودہ ہوتا ہے ، بے آسرا نہیں ہو جاتا۔
نکاح کے فارم میں مرد کے لئے پہلی شادی دوسری شادی اور تیسری شادی کا درج کرنا ضروری ہے جبکہ عورت کے لئے مطلقہ کنواری اور بہو کے الفاظ لکھے جاتے ہیں اس کے پہلی دوسری تیسری شادی کا نہیں لکھا جاتا۔
مرد کو مطلقہ، رنڈوا، پاگل لکھنا چاہئے۔
میں نے دیکھا ایک مرد طبقہ اور اس کے زیراثر کمزور عورتیں حکمران عورتوں پر بطور خاص تنقید کرتی ہیں۔ اگر کوئی حکمران عورت چار دن اپنے کام میں مصروف نظر آئے تو خاوند کے ساتھ تصویر نہ چھپنے پر کہرام مچا دیا جاتا ہے جبکہ سارے سیاست دان مرد بیویوں کے بغیر نظر آتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ مرد سیاست دان اپنی نجی زنذگی اور اپنی بیگمات کے بغیر اپنے کام میں منہمک نظر آئیں تو خیر جبکہ عورتیں تنہا کار سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں انہیں اپنا پورا شجرہ نسب پیش کرنا پڑتا ہے۔ کتنے بچے خاوند کہیں طلاق تو نہیں جبکہ مرد سیاست دان کی شادیوں طلاقوں کا کوئی حساب نہیں لیا جاتا۔
خاتون حکمران ہو اوپر سے حسین ہو تو دوہری قیامت ہے لوگ خالی خاتون ہونا ہی برداشت نہیں کر سکتے۔ نالائق سے نالائق مرد کامیاب سے کامیاب عورت سے خود کو برتر سمجھتا ہے ایسے معاشرے میں عورت خوبصورت بھی ہو، حکمران بھی ہو، عقل و فہم بھی رکھتی ہو اور اپنے صوبے کے لئے ایسے فیصلے اور کام انجام د ے جو اس سے قبل مرد حکمران کو نصیب نہ ہوئے ہوں تو اس کی مزید مخالفت ہوتی ہے۔ پنجاب کے ماضی کے وزرائے اعلیٰ میں مریم نواز اس وقت ہر لحاظ سے مکمل ”روپ متی“ ہیں ان کے ”گن“ بھی اعلیٰ ہیں صورت بھی اور خوبصورت دل بھی جو ہمہ وقت غریبوں کے لئے نت نئے منصوبے اور خواتین کے تحفظ کے لئے نت نئی سکیموں، ایپس اور حفاظتی فورسز کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ اس وقت ان کے ہمراہ عظمیٰ بخاری جیسی ذہین و فطین دلیر دبنگ خاتون نے نہ صرف سیاست کو ایک نیا سافٹ کلچر دیا ہے بلکہ کے پی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اس کی دھمکیوں اور واہیات بیانات سمیت پنجاب سے سرحد کو واپس دھکیل دیا تھا اور اپنی وزیراعلیٰ مریم نواز کے قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ مجھے یاد ہے اس کی گھٹیا دھمکیوں اور فضول بیانات کا سدباب کرنے کے لئے عظمیٰ صبح ہی سے پورے میڈیا کے ہمراہ ہر سڑک پر تھیں کہ دیکھو نہ رکاوٹیں لگائیں نہ دھونس سے روکا اور پنجاب کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے بھی نہ دیا۔
ہماری دوست صائمہ آفتاب نے لکھا تھا....
میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گُر سکھاتی تھی
مرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں