Wed, September 16, 2026

بخاری شریف کی افتتاحی تقریب،فکری و روحانی تجدید

 بخاری شریف کی افتتاحی تقریب،فکری و روحانی تجدید

بخاری شریف کی افتتاحی تقریب میں نگرانِ اعلیٰ رحیمیہ انسٹی ٹیوٹ آف قرآنک سائنسز اور مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ،حضرت عبدالخالق آزاد نے نہایت فکری، روحانی اور علمی خطاب فرمایا۔ شریعت، طریقت، سیاست اور نبوی ؐ زہد و تقویٰ پر ان کا بیان محض ایک علمی تقریر نہیں بلکہ شعورِ نبوت، روحِ حدیث، اور حقیقتِ علم کا آئینہ دار تھا۔ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف کی تدریس صرف درسِ حدیث نہیں، بلکہ امت کو اس منبعِ ہدایت سے دوبارہ جوڑنے کا عمل ہے جہاں سے فہم، عمل اور روحانیت کا سرچشمہ پھوٹتا ہے۔حضرت عبدالخالق آزاد نے فرمایا کہ حدیث کی تعریف صرف نبی کریمؐ کے اقوال، افعال اور تقریرات تک محدود نہیں، بلکہ آپ ؐ کی خاموشی یا کسی معاملے پر سرمبارک کاہلا دینا بھی شریعت کا حصہ ہے، کیونکہ آپ کا سکوت بھی وحی کی روشنی میں ہوتا تھا۔ اسی طرح، نبوی ؐعمل کا جو عکس صحابہؓ کے کردار، تابعینؒ کی روش، اور محدثین کی تحقیق میں نظر آتا ہے، وہ صرف نقل نہیں بلکہ ایک شباہتی تسلسل ہے، جو روح سے روح، کردار سے کردار اور نسبت سے نسبت کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ حدیث کے اس ورثے کو صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ مزاج، طرزِ فکر، طرزِ زندگی اور روحانی ذوق میں سمونا ضروری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دین اسلام کا پہلا اور اعلیٰ ترین ماخذ قرآن ہے، لیکن قرآن کی عملی تعبیر اور تفصیل حدیث ہے اور حدیث کی مستند ترین شکل صحیح بخاری ہے۔ امام بخاریؒ نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ راوی نے حدیث سنی یا نقل کی، بلکہ یہ بھی دیکھا کہ راوی نے جو نقل کیا، اس پر خود عمل بھی کرتا ہے یا نہیں۔ گویا وہ صرف روایت نہیں، سیرت کا بھی تقاضا کرتے تھے۔ مفتی عبدالخالق آزاد صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ صحیح بخاری کو صرف ایک ’’حدیث کی کتاب‘‘ سمجھنا اس کی عظمت کو محدود کر نے کے مترادف ہے۔ یہ کتاب ایک ایسا فکری، فقہی، سیاسی اور روحانی نظام عمل ہے جو امت کو نبویؐ شریعت اور طریقت کے درمیان پل مہیا کرتی ہے۔ شریعت ظاہر ہے،طریقت باطن ، سیاست اس کانظام اور صحیح بخاری ان کا جامع مظہر ہے۔ امام بخاریؒ نے جس ترتیب سے احادیث کو جمع کیا، اس میں صرف سند کی صحت نہیں بلکہ روح نبوت ؐکی جھلک بھی موجود ہے۔ یہ کتاب ایک ایسا فکری، فقہی، سیاسی اور روحانی نظامِ عمل ہے جو امت کو نبوی شریعت اور طریقت کے درمیان پل مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی اس عظیم الشان تصنیف کا نام الجامع الصحیح المسند المختصر من امو ر رسول اللہ ؐ و سننہ و ایامۃ رکھا، جو خود اس کتاب کے جامع ہونے کا اعلان ہے۔ یہ کتاب ’’جامع‘‘ ہے کہ اس میں دین کے تمام پہلوؤں،عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت اور نظام سیاست کا احاطہ موجود ہے۔ ’’صحیح‘‘ یہ ہے کہ اس میں صرف وہی احادیث شامل کی گئیں جو سند، عمل اور نیت کے اعلیٰ ترین معیار پر پوری اتریں، ’’مسند‘‘ ہے کہ ہر روایت نبی کریم ؐ تک متصل نسبت کے ساتھ پہنچی ہے اور ’’مختصر‘‘ اس لیے کہ امام بخاریؒ نے غیر ضروری تکرار سے بچتے ہوئے ہر باب کی اصل اور بنیادصرف حدیث کو چن کر پیش کیا۔ اس میں کسی صحابیؓ یا تابعی ؒکے ذاتی قول کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس جامعیت اور احتیاط نے صحیح بخاری کو نہ صرف محدثین کے لیے بلکہ فقہائ، صوفیائ، مصلحین اور حکمرانوں کے لیے بھی رہنمائی کا اعلیٰ ترین منبع بنا دیا۔حضرت عبدالخالق آزاد نے کہا کہ نبی کریم ؐ کی شریعت ایک ایسا نظام ہے جس میں عدل، اخلاق، تزکیہ، سیاست، اور معیشت کا توازن پایا جاتا ہے۔ یہ شریعت نہ صرف عبادات میں ظاہر ہوتی ہے بلکہ معاملات، حکومت، تعلیم اور معاشرت میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے۔ بخاری شریف میں ان تمام پہلوؤں کو نہایت حکمت سے سمویا گیا ہے۔ اس کتاب کا اصل مقصد امت کو نبی اکرم ؐ کے اس طرزِ حیات سے روشناس کرانا ہے جو نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اجتماعی نظام کو بھی عدل و احسان پر استوار کرتا ہے۔انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایّامِ نبوی، یعنی نبی کریم ؐ کے دور کے مختلف ریاستی، سماجی اور روحانی مراحل کا احاطہ، بخاری شریف میں نہایت جامع انداز میں موجود ہے۔ حضور ؐ مکہ میں داعی، مصلح اور مظلوم تھے، تو مدینہ میں امام، حاکم اور قانون ساز۔ اور بخاری شریف میں یہ تمام زاویے ایک ترتیب، توازن اور دانائی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت عبدالخالق آزاد نے فرمایا کہ بخاری شریف کی ابتدا’’کیف کان بدء الوحی‘‘سے ہوتی ہے، تاکہ طالب علم کو وحی کے اصل مفہوم، اس کی حقیقت، اثرات اور روحانی ہیبت کا شعور حاصل ہو۔انہوں نے حدیثِ’’انما الاعمال بالنیات‘‘کو بنیاد بنا کر واضح کیا کہ عمل کی اصل قدر نیت سے ہے۔ امام بخاریؒ نے اسی حدیث سے اپنی کتاب کا آغاز اس لیے کیا تاکہ طالب علم کو سب سے پہلے اخلاص،نیت کی صفائی اور عمل کی روح سے روشناس کرایا جا سکے۔ یہی وہ حدیث ہے جو فقہ، تصوف، سیاست، اور حتیٰ کہ معیشت میں نیت کی بنیاد پر اصول مرتب کرتی ہے۔اس موقع پر حضرت عبدالخالق آزاد نے ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ کی علمی روایت کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ یہاں حدیث کی تدریس صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک تحریکی ، اصلاحی اور روحانی عمل ہے۔ یہاں بخاری کا درس دراصل ایک نئے دور کے لیے نبی اکرم ؐ کے اسوہ حسنہ کو اجتماعی شعور میں منتقل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور مختلف مکتبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے سامعین کو دعوت دی کہ وہ بخاری شریف کو صرف یاد کرنے اور اس کے لفظی پیامبر بننے کی بجائے اپنی سوچ، رویئے اور عمل کو اسوہ نبوی ؐ کی روشنی میں حقیقی سماجی تبدیلی کا مظہر بنائیں۔یہ خطاب اس بات کا اعلان تھا کہ علم نبوی ؐکے اس سرچشمے سے جڑے بغیر امت کی فکری رہنمائی، روحانی اصلاح، سیاسی بیداری اور تمدنی ارتقاء ممکن نہیں ہے۔ صحیح بخاری، بقول حضرت عبدالخالق آزاد صاحب، نہ صرف کتاب ہے بلکہ نقش قدم ہے۔اس نبوی ؐقافلے کا جس کا آخری پیغام دنیا کے ہر ذی شعور انسان کو رب کے بندے اور خلق کا خادم بنانا ہے۔

ٹیگز: