Wed, September 16, 2026

پاک بھارت جنگ ہوئی تو ؟

پاک بھارت جنگ ہوئی تو ؟

14اگست 1947ء کو تقسیم ہند کے وقت بھارتی رہنمائوں کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ سے زائد عرصہ تک قائم نہیں رہ سکے گا اور دوبارہ بھارت سے آ ملے گا تاہم 77برس گزر جانے کے باوجود پاکستان نہ صرف قائم و دائم بلکہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ یہ بات ہندو بنیے سے ہضم نہیں ہو رہی اور اس کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور عالمی سطح پر اسے بدنام کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کرتا رہا ہے۔ آج ایک بار پھر ہمیں اپنے ازلی دشمن بھارت کے جارحانہ عزائم کا سامنا ہے۔ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آنیوالے واقعہ کے فوری بعد بھارت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بلا تحقیق پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ ابھی تک بھارت نے اس واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے لیکن من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈہ جاری ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کا فوری جارحانہ ردِ عمل بتا رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ امریکی نائب صدر کی بھارت اور نریندر مودی کی سعودی عرب موجودگی کے دوران اس واقعہ کا رونما ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ بھارت یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ دنیا اس کے جھوٹ اور پراپیگنڈہ کوجان چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے بارہا جھوٹے الزامات کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ایسے کئی واقعات تب پیش آئے جب بھارت کو اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا تھی یا اہم سفارتی لمحات درپیش تھے۔ 20 مارچ 2000ء کو امریکی صدر بل کلنٹن کے بھارتی دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں سکھوں کا قتل عام ہوا جس پر ابتدا میں الزام پاکستان پر عائد کیا گیا تاہم بعد میں شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ واقعہ بھارتی فورسز کی کارستانی تھی جس کا مقصد کلنٹن کے دورے کے دوران پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔ 2007ء میں بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا لیکن تحقیقات کے بعد بھارت کے اپنے لوگ اور انتہاپسند ہندو اس میں ملوث نکلے۔ اسی طرح اور بھی کئی مثالیں ہیں کہ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا لیکن بعدازاں بھارت کے اندرونی عناصر ہی اس میں ملوث پائے گئے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنی سرزمین پر بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے ثبوت اقوام متحدہ کو ڈوزئیر کی صورت میں بھی دیئے۔ بھارتی ایجنسی را کا افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے گرفتار ہوا جس نے اپنے جرائم تسلیم کیے مگر بھارت آج تک پاکستان پر لگائے گئے کسی الزام ثابت نہیں کر سکاہے۔
آج مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی پورے زوروشور سے جاری ہے‘ بھارت نے خود کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں حق خودارادیت دے گا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اس کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اسے اپنے اندر ضم کر لیا۔ مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل بنا دیا گیا اور نہتے کشمیری مظاہرین پر جبر و تشدد کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ معصوم کشمیری خواتین کے خلاف آبرو ریزی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے مگر یہ تمام سب و شتم کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر پایا۔ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان برملا اعلان کر چکی ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے‘ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہ موقف پاکستانی قوم کی ملی امنگوں کا ترجمان ہے اور اس کا ہر نوجوان مادر وطن پر جان نثار کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاکستانی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے والی قوم ہے اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کے نقش قدم پر چلنے کیلئے بیتاب ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کے باوجود اس وقت وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر یک زبان ہیں اور ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ کسی قومی بحران کے وقت پاکستان کے لوگ اپنے باہمی اختلافات پس پشت ڈال کر ایک متحد و منظم قوم کی صورت سامنے آتے ہیں۔
بھارت اپنی موجودہ جارحانہ روش سے باز نہ آیا تو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی لگائی آگ خود اسے جلا کر راکھ کر دے گی۔ بھارت کے اندر سے بھی نریندرا مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور سیکولرازم کے علمبردار حلقے ہندوتوا سے خوف کھانے لگے ہیں۔ مودی سرکار کی زیادتیوں کے باعث ناگا لینڈ‘ آسام‘ تری پورہ ‘ میزو رام اور دیگر ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں ضرور پکڑنے لگی ہیں۔ دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں نے بھی خالصتان تحریک تیز کر دی ہے۔ تمام حالات و واقعات بھارتی قیادت کے لیے نوشتہ دیوار ہیں مگر وہ اسے پڑھنے سے قاصر ہے۔ اس کے انتہا پسندانہ اقدامات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی افق پر پوری شدت سے اجاگر ہو گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم بین الاقوامی ادارے اظہار تشویش کرنے لگے ہیں۔ دنیا کا ہر ذی شعور انسان پاکستان اور بھارت میں ایٹمی تصادم کے ممکنہ تباہ کن اثرات سے بخوبی آگاہ ہے کیونکہ یہ صرف جنوب مشرقی ایشیا تک محدود نہ رہیں گے بلکہ کرہ ارض کے وسیع حصے کو متاثر کریں گے۔ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کی خاطر اقوام متحدہ کو وقت ضائع کئے بغیر حرکت میں آنا چاہیے۔ جہاں تک پاکستانی قوم کا تعلق ہے‘ وہ پْر عزم ہے کہ مادرِ وطن کے ایک ایک چپے کا دفاع کرے گی‘ اس کی حرمت پر کبھی آنچ نہ آنے دے گی چاہے اس کے لیے کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو 6 ستمبر 1965ء کو افواج پاکستان نے جرأت اور بہادری کی جو داستان رقم تھی وہ دوبارہ دہرائی جائے گی ‘بھارت کو ایسا جواب ملے گا جو وہ تاقیامت یاد رکھے گا۔ موجودہ صورتحال میں ہم حکومت پاکستان اور اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے ہیں ‘ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔ بھارت ہمارے وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہ کرے اگر ایسا ہوا تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دے گی۔

ٹیگز: