Wed, September 16, 2026

ٹیکس، قرض اور غربت کی کہانی!

ٹیکس، قرض اور غربت کی کہانی!

دنیا بھر کی فلاحی ریاستیں عوام سے ٹیکس وصول کرکے اس کا زیادہ ترحصہ انہی پر خرچ کرتی ہیں جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے اور ان کی ریاست سے وفاداری اور محبت بھی بڑھتی ہے۔ پاکستان میں عوام پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی سال در سال بڑھ رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر عام آدمی کو اس بڑھتی ہوئی وصولی کا فائدہ کیوں نہیں مل رہا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر ٹیکس دہندہ پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ 
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ریونیو گزشتہ پانچ سال میں بڑھا ہے۔ مالی سال 2020-21میں 4,745 ارب روپے کی وصولی ہوئی،-22 2021 میں یہ بڑھ کر 6,148 ارب روپے ہوئی۔ اسی طرح 2022-23میں 7,164 ارب روپے اور 2023-24 میں 9,299 ارب روپے جمع کیے گئے۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس وصولی 11,722 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ یقیناً ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس دینے کی اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں بھی عوام سیلز ٹیکس، ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی، بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکس، موبائل فون ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، اور نہ جانے کتنی شکلوں میں حکومت کو رقوم ادا کرتے ہیں۔ یعنی ایک عام شہری ہر سانس کے ساتھ ریاستی انتظامیہ کی بھاری گاڑی کو دھکا لگارہا ہے۔ مگر دوسری طرف زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکس عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوتے نظر نہیں آتے۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 3 برس میں 7 فیصد بڑھ گئی ہے۔ 2022 میں یہ شرح 18.3 فیصد تھی، 2023 میں بڑھ کر 24.8 فیصد ہوئی اور پھر 2025 میں 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ٹیکس دینا بڑھا، مگر زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوگیا۔
غربت میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں کی صورتحال بھی مایوس کن ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 53 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ملک کا مستقبل بھی غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے کی حالت بھی کوئی بہتر نہیں۔ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ ہے جبکہ رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی کل تعداد صرف 3 لاکھ 19 ہزار ہے۔ اس حساب سے 757 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ ڈینٹسٹ کی صورتحال اور بھی ابتر ہے جہاں 6 ہزار 178 افراد کے لیے صرف ایک دانتوں کا ڈاکٹر ہے۔ ایک نرس 750 افراد کو دستیاب ہے۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو بتاتے ہیں کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات بھی مناسب سطح پر میسر نہیں۔
یہیں پر سوال اٹھتا ہے کہ پھر ملک کا پیسہ جاتا کہاں ہے؟ جواب حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار میں موجود ہے۔ پاکستان کا سرکاری قرضہ گزشتہ ایک دہائی میں جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ 2016 میں قرضہ جی ڈی پی کے 60 فیصد کے برابر تھا جو 2025 میں بڑھ کر 71 فیصد ہو گیا ہے۔ پھر سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ مالی سال 2025 میں قرض کی ادائیگیوں پر کل خالص وفاقی محصولات کا 89 فیصد خرچ ہو گیا۔ یعنی محصولات میں سے ریاست کے پاس ملکی ترقی، عوامی سہولتوں اور معاشرتی بحالی کے لیے صرف 11 فیصد بچتا ہے۔ حکومت اپنی شاہی اخراجات میں بھی کمی نہیں لاتی۔ اس سال کے وفاقی بجٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش اور اخراجات 72 کروڑ سے بڑھا کر تقریباً 86 کروڑ روپے کر دیئے گئے تھے۔ اسی طرح افسرشاہی کی مراعات میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا ہے جبکہ دوسری جانب عوام کا معیار زندگی گرتا جارہا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے نظام کی تصویر کھینچتی ہے جہاں ریاست ٹیکس تو لے رہی ہے مگر اسے عوام کی بہتری کے لیے استعمال نہیں کر پا رہی۔ نتیجہ یہ کہ ٹیکس بڑھتے جاتے ہیں اور غربت جڑیں مضبوط کرتی جاتی ہے۔ عوام پر بوجھ بڑھتا ہے تو ان کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ جب تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے شعبے کمزور پڑ جائیں تو سرمایہ کاری بھی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا معاشی بحران ایک دائرے کی طرح اپنے ہی اندر گھومتا رہتا ہے۔ یہاں سوال حکومت، سیاستدانوں اور پالیسی سازوں سے ہے کہ آپ کس معیشت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں؟ کیا وہ جس میں عوام کے گھر کے چولہے بجھ رہے ہیں؟ یا وہ جس میں میگا پراجیکٹس تو بن رہے ہیں مگر عوام اب بھی اندھیروں اور محرومیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں؟ ٹیکس جمع کرنا حکمرانی کا ایک ضروری ستون ہے مگر اس کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہے نہ کہ انہیں مزید غربت میں دھکیلنا۔
حل کی جانب بڑھنے کے لیے لازم ہے کہ حکومت ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو بھی یقینی بنائے۔ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ ہو۔ قرض پر انحصار کم کیا جائے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے نہ کہ پہلے سے ٹیکس بھرنے والوں پر بوجھ ڈال کر ان کی کمائی نچوڑ لی جائے۔ پاکستان کے عوام محنتی اور باصلاحیت ہیں۔ وہ ٹیکس دینے سے کتراتے نہیں، مگر بدلے میں باعزت زندگی کی توقع رکھتے ہیں۔ ریاست کو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب عوام ہی تھک جائیں گے تو ملک کی گاڑی کیسے چلے گی؟۔ یہ وقت ہے کہ حکمران طبقہ مثبت پالیسیاں بناکر سڑکوں، گلیوں، سکولوں اور ہسپتالوں کے حالات ٹھیک کرے۔ عوام کی فریاد سنے اور اپنے فیصلوں میں ان کو شامل کرے۔ ٹیکس کا مقصد غربت ختم کرنا ہے، اسے بڑھانا نہیں۔ اگر یہ سمجھ آگئی تو ملک کی سمت بدل سکتی ہے۔ اگر نہ بدلی تو ٹیکس بڑھنے کے باوجود غربت اور قرض کی کہانی یہی رہے گی۔

ٹیگز: