پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران یا سیاسی بے یقینی کا شکار نہیں بلکہ ایک گہرے نفسیاتی اور سماجی دباو¿ سے بھی گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز اور شدید موسمی تبدیلیوں نے مل کر عوام کے اعصاب کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ پورا معاشرہ عدم برداشت، غصے اور ذہنی تھکن کی گرفت میں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی جھگڑے اب جان لیوا تنازعات میں بدل جاتے ہیں، سوشل میڈیا گالی گلوچ اور تذلیل کا میدان بن چکا ہے اور گھروں کے اندر بھی برداشت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا شخص جو صبح سے رات تک بچوں کی فیس، راشن، پٹرول، دوائیوں اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کے حساب میں پسا ہوا ہو، اس کے مزاج میں تلخی اور چڑچڑاپن پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ جب تنخواہیں منجمد رہ جائیں لیکن بنیادی ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو انسان کے اندر بے بسی اور اضطراب جنم لیتا ہے۔پاکستان میں متوسط اور سفید پوش طبقہ اس وقت سب سے زیادہ ذہنی دباو¿ کا شکار ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ مکمل طور پر غریب ہے کہ امداد لے سکے اور نہ اتنا خوشحال کہ مہنگائی اس پر اثر انداز نہ ہو۔ ایک عام ملازم یا چھوٹا کاروباری شخص ہر ماہ بجلی اور گیس کے بل دیکھ کر ذہنی اذیت سے گزرتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کی تحقیق کے مطابق شدید گرمی انسانی رویوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ غصہ، بے چینی اور جارحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور ناقص شہری سہولیات پہلے ہی عوام کو پریشان رکھتی ہوں، وہاں موسمی شدت ایک اضافی ذہنی عذاب بن جاتی ہے۔ ایک شخص جو رات بھر بجلی کے بغیر تپتے ہوئے کمرے میں جاگتا رہے، وہ صبح معمولی بات پر بھی اپنا توازن کھو سکتا ہے کیونکہ اس کے اعصاب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ذہنی صحت کو آج بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر کوئی شخص اینگزائٹی، ڈپریشن یا ذہنی دباو¿ کی بات کرے تو اسے کمزور ایمان، ناشکری یا "اوور تھنکنگ" کا نام دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلسل معاشی دباو¿ انسانی دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ غربت صرف بھوک پیدا نہیں کرتی بلکہ انسان کے اندر سے اچھے مستقبل کی امید بھی ختم کر دیتی ہے۔اس بحران کا ایک بڑا اثر خاندانی نظام پر بھی پڑ رہا ہے۔ جب گھر کا سربراہ مسلسل معاشی پریشانیوں میں گھرا ہو تو اس کا ذہنی دباو¿ پورے خاندان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ہو رہا ہے، والدین بچوں پر جلد غصہ کرتے ہیں اور خاندان کے اندر جذباتی فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں تک بھی پھیل چکی ہے۔پاکستان میں موسمی تبدیلیوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گرمی کی شدت، غیر متوقع بارشیں، اسموگ، آلودگی اور خشک سالی نے عام آدمی کی زندگی سے سکون چھین لیا ہے۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا آنے والے برسوں میں شدید موسمی خطرات کا مرکز بن سکتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اب بھی موسمی تبدیلی کو سنجیدہ قومی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔
معاشی دباو¿ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں۔ سفید پوش طبقہ شاید سب سے زیادہ خاموش اذیت جھیل رہا ہے۔ وہ اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے قرض لیتا ہے، ضروریات کم کرتا ہے اور اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔ یہی خاموش ٹوٹ پھوٹ معاشرے میں نفسیاتی تھکن کو جنم دے رہی ہے۔اس عدم برداشت کی ایک بڑی وجہ مسلسل غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔ جب نوجوانوں کو روزگار کی امید نہ رہے، جب تعلیم یافتہ طبقہ ہجرت کو واحد راستہ سمجھنے لگے اور جب عوام کو اپنے مستقبل پر اعتماد نہ ہو تو مایوسی بڑھتی ہے۔ یہی مایوسی غصے میں تبدیل ہو کر معاشرتی رویوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
اس صورتحال کا حل صرف وقتی سبسڈی یا امدادی پیکجز میں نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور معاشی پالیسی میں ہے۔ ریاست کو مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھانا، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا اور موسمی شدت سے بچاو¿ کی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ذہنی صحت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر غصہ بدتمیزی نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ ٹوٹے ہوئے اعصاب کی آخری چیخ بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ مسلسل خوف، دباو¿ اور غیر یقینی میں زندہ ہوں وہاں برداشت کمزور پڑ جاتی ہے۔ پاکستان کو صرف معاشی بحالی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی بحالی کی بھی شدید ضرورت ہے کیونکہ جب کوئی معاشرہ اجتماعی ذہنی تھکن کا شکار ہو جائے تو صرف جیبیں نہیں، انسان بھی اندر سے خالی ہو جاتے ہیں۔