کئیں یوم کی تلاش و بسیار کے بعد ایک مقامی ممبر صوبائی اسمبلی بالآخر اپنے ووٹر سپورٹرز کو مل ہی گئے۔ اس لمحاتی ملاقات اور شکایات کے دفتر سننے سے فراغت پاتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنے گارڈز اور سیکرٹری کی گوشمالی کی کہ یہ لوگ ان تک براہ راست کیسے پہنچ گئے پھر ایک دوست کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمانے لگے کہ یہ بھی کوئی بات ہے کہ اب محلے کی نالیاں بنوانے اور بند سیوریج کھلوانے کے کام بھی ہم ہی کریں گے۔ حلقے کی پیدائش پرچیاں بنوانا بھی ہمارا کام ہے؟
ہمیں اچھا لگے یا برا موصوف فرما تو درست ہی رہے تھے اور آئین پاکستان میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کا کردار بڑی وضاحت کیساتھ موجود ہے۔
داخلی و خارجی سلامتی کیساتھ ملک کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود بارے مجموعی پالیسی وضع کرنا اور اس کے لئے درکار قانون سازی انکا آئینی مینڈیٹ ہے لیکن آئین نے ان کی ایک اور ذمہ داری بھی فکس کر رکھی ہے جس کے تحت ان مسائل کو دیکھنے حل کا کے لئے اقتدار اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ممکن بنانا یعنی مقامی حکومتوں کا قیام ھے یعنی بلدیاتی نظام قائم کرنا جب تک ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اقتدار اور اختیار کا گھنٹہ گھر بنے رہیں گے اور انہیں اپنے سے نیچے جانے کا راستہ ہی نہیں دیں گے تو لامحالہ عوام اپنے ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل بارے آپ کی ہی طرف دیکھنے پر مجبور محض ہیں۔
پارلیمانی جمہوری طرز حکومت میں مقامی حکومتوں کا قیام ایک مینڈیٹری سجیکٹ ہے وگرنہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت بھی ہوا میں معلق اور اپنی عوام سے لاتعلق ہی دکھائی دے گی عام آدمی کو خارجی محاذ پر حکومت کو درپیش گھنجلکوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ایک مزدور کو سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھائوسے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ شدید گرمی کے اندر فرنس فیکٹری میں پسینہ بہاتے ورکر کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ،ایک ریڑھی بان کو زرمبادلہ کے ذخائر سے کیا دلچسپی ایک سبزی فروش کو ڈالر کے اتار چڑھائو سے کیا غرض لیکن ان سب کی پہلی ترجیح ہے اپنے ساتھ وابستہ افراد کی خیر و سلامتی اس عام کی ضرورت ہے۔
بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ وہ فکرمند ہوتا ہے اپنے گھر کے سامنے ٹوٹے ہوئے مین ہول سے اسے تشویش میں مبتلا کرتا ہے گلی کی نکڑ پر پڑا کچرے کا ڈھیر سے جس سے پیدا ھونے والے مچھر کی وجہ سے ملیریا اور ڈینگی جیسے موذی امراض میں اس کے بچے مبتلا ہو رہے ہیں خوفزدہ ہےسٹریٹ کرائم سے وہ راتوں کو جاگتا ہے ملک کے منفی معاشی اعشاریوں کی وجہ سے ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ یہی روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہی اسکی بے خوابی اور بے سکونی کا باعث ہوتے ہیں کہ گھر کا چولہا جلائے یا ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے لئے سرکاری دفتروں میں دھکے کھائے عوام کے بظاہر معمولی نظر آنے والے انہی مسائل کا حل ہیں بلدیاتی ادارے ۔
صوبہ پنجاب میں گذشتہ دس سال سے بلدیاتی ادارے سرخ فیتے یا سول بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہیں گذشتہ بلدیاتی انتخاب 2015 ء میں ہوئے 2018ء کے بعد تحریک انصاف کی عثمان بزدار حکومت نے بیک جنبش قلم یہ ادارے توڑ کر ان میں سول ایڈمنسٹیٹرز تعینات کر دئیے اپنی حکومت کے خاتمے تک انہوں نے بلدیاتی الیکشن کروانے کا خطرہ مول نہ لیا 2022 میں اس کے خاتمہ پر حمزہ شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی صوبائی حکومت نے فوری طور پر لوکل باڈیز ایکٹ 2022 منظور کروایا جس کی بنیاد پر پنجاب میں بلدیاتی انتخاب کی امید ابھی جاگی ہی تھی کہ ایک عدالتی حکم کے تحت انکی حکومت ختم کر دی گئی 2024ء کے عام انتخابات کے بعد یہ امید پھر جاگ اٹھی کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا منتخب نظام جلد ہی فنکشنل ہو جائے گا لیکن ہنوز دلی دور است کے مصداق ابھی تک بلدیاتی اداروں کے باقاعدہ فنکشنل ہونے کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔
آئین پاکستان میں اٹھارویں ترمیم پر بھلا ہو پاکستان پیپلزپارٹی کا جس نے وفاق کے بیشتر غیرضروری اختیارات صوبوں کو منتقل کر کے اقتدار اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا آغاز کیا لیکن اسکے بعد اختیارات اور وسائل کی مقامی حکومتوں کو منتقلی بارے پنجاب کی صوبائی حکومت آج تک کوئ واضع میکنزم فراہم نہیں کر سکی۔ ابھی رواں ماہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک دھمکی آمیز خط میں متنبہ کیا ہے کہ صوبائ حکومت نے فوری بلدیاتی انتخابات نہ کروائے تو الیکشن کمشن آف پاکستان یہ آئینی ذمہ داری از خود نبھائے گا جس کے بعد صوبائی حکومت نے فوری طور پر ایک باریک واردات ڈالتے ھوئے صوبائی اسمبلی سے بلدیاتی ایکٹ 2025ء منظور کروا لیا۔ جس سے لوکل باڈیز ایکٹ 2022ء از خود منسوخ ھو گیا اور الیکشن کمشن آف پاکستان کو لامحالہ طور پر نئے ایکٹ کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے لئے صوبائی حکومت کو مزید 2 ماہ کی مہلت دینا پڑ گئی۔ ہم ہر گز یہاں صوبائی حکومت کی نیت پر شک نہیں کر رہے لیکن قرائن بتا رہے ہیں کہ لوکل باڈیز ایکٹ 2025ء کے ذریعے پنجاب کی صوبائ حکومت نے مرد مومن مردحق کی روح سے جس طرح مدد حاصل کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے اس سے فی الحال بلدیاتی انتخاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائ نہیں دے رہا اور پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ
"ساڈے ولوں ناں ہی سمجھو"
نومنظور شدہ بلدیاتی ایکٹ کا متن چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہاہے کہ وزیر اعلی محترمہ مریم نواز نے ایک آئینی ضرورت کے تحت نیا بلدیاتی ایکٹ منظور کروایا اور اس سے حاصل آئینی سہولت کے پیچھے خود کو اور اپنی پارٹی کو چھپا بھی لیا ہے لوکل باڈیز ایکٹ 2025 ء کے تحت بلدیاتی اداروں اور نمائندوں کے کام کرنے کا طریقہ کار اختیارات و وسائل کی تقسیم اور بلدیاتی اداروں پر بیوروکریسی کی مناپلی سے ہٹ کر اگر بلدیاتی انتخابات کے طریقہ کار کو دیکھا جائے تو وھی نرالا ہے کہ پہلے مرحلہ میں
یونین کونسل کے 9 اراکین کا براہ راست الیکشن کے ذریعے انتخاب ہو گا۔
دوسرے مرحلہ میں نومنتخب ممبران یونین کونسلز 30 یوم کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں لازمی شمولیت اختیار کریں گے۔
تیسرے مرحلے میں 9 ممبران یونین کونسلز اقلیتی، یوتھ اور خواتین کے 4 مزید ممبران کا بلواسطہ انتخاب کریں گے
جبکہ چوتھے مرحلہ میں سیاسی جماعتوں کے نامزد چیرمینز اور وائس چیرمینز کا 13 ممبران یونین کونسلز بلواسطہ انتخاب کریں گے ۔
یہ ھے لوکل باڈیز ایکٹ 2025ء کا ابتدائیہ جس کے تحت یہ انتخابات صوبہ بھر میں ممکن ہو سکیں گے دقت نظری سے نہیں بلکہ سرسری دیکھنے پر بھی یہ محسوس ھوتا ھے کہ بلدیاتی انتخابات کا غیرجماعتی انعقاد کا راستہ برسراقتدار جماعت نے صوبہ میں اپنی غیرمقبولیت کے خوف سے چنا ھے یہاں بلدیاتی اداروں کی اہمیت اور مستقبل کی سیاست پر اسکے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ راتوں رات منظور کروایا گیا۔
یہ ایکٹ کس اہمیت کا حامل ہے اور اسے منظور کروانے سے پہلے قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور پارٹی کی دیگر سنئیر قیادت سے مشاورت کئے بغیر ہی صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہو گا کیونکہ مسلم لیگ ن کی قیادت بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے مکمل آگاہ اور اسکی مستقبل کی تماتر سیاسی توقعات ان اداروں سے وابستہ ہیں لیکن اپنی جماعت کی صوبہ میں غیرمقبولیت کا خدشہ پارٹی میں اس حد تک سرائت کر چکا ہے۔ یہ اس بل کا پہلا غیر حتمی نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب جو اس کی جنم بھومی اور جہاں کے طول و عرض سے وہ اپنے لئے عوامی حمائت حاصل کرتی ھے اپنے ھوم گراونڈ پر ہی اپنی جماعت کو کسی غیرممکنہ دھچکے سے محفوظ رکھنے کے لئے غیرجماعتی انتخابات کا محفوظ راستہ اختیار کرتی ہے۔
گو سطح پر پنجاب کی حد تک مسلم لیگ ن کو کسی مضبوط حریف یا کسی بڑے چیلنج کا بھی سامنا نہیں اسکی ماضی میں حریف پاکستان پیپلزپارٹی کا صوبے میں عددی وجود نہ ھونے کے برابر ھے تحریک انصاف 9 مئی کے بعد سے اپنی تماتر تنظیم سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور بظاہر ایک عدالتی فیصلے کے بعد تحریک انصاف بطور ایک سیاسی جماعت کے موجود ہی نہیں اس کے حمائت یافتہ عام انتخابات کی طرح آزاد امیدوار ہی کہلائیں گے ،ساتھ ہی صوبہ کی چیف ایگزیکٹو کے طور پر محترمہ مریم نواز نے تعمیر و ترقی کے جن ریکارڈ انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔
اس نے صوبے کو دوسری اکائیوں کیساتھ قابل رشک پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے ساتھ ہی ٹی ایل پی، ٹی ٹی پی اور اس جیسے دیگر نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف بالخصوص اور ملک و صوبے میں عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئےدہشت گردی کے خلاف جاری بالعموم مہم کو محترمہ وزیر اعلی نے جس طرح فرنٹ سے لیڈ کیا ہے اور ساتھ ہی اس ساری مہم کی ملکیت قبول کی ھے اس پر ایک خوشگوار حیرت کیساتھ سیاسی قیادت کی بالغ نظری کا اعتراف نہ کرنا بھی ایک طرح سے زیادتی ہو گی ۔
محترمہ مریم نواز جس بہادری کیساتھ اپنی والدہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر ملک میں واپس آئیں تھیں اور قید و بند میں جو صعوبتیں اور ذھنی اذیتیں انہوں نے برداشت کیں وہ حوصلہ صبر ہمت اور عزم قابل رشک ھے اور انہوں نے خود کو ظلم کے خلاف ایک فائٹر کے طور پر باقاعدہ منوایا لیکن خالی میدان کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے غیرجماعتی انعقاد کا فیصلہ انکی جرآت اور عزم و ہمت سے میل نہیں کھاتا صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے جماعتی بنیادوں پر انعقاد سے شروع ھونے والا سیاسی عمل نان اسٹیٹ ایکٹرز کا صفایا کر دے گا محترمہ وزیر اعلی نے جس قدر محنت کی ہے اور اپنے باپ کی وراثت کو جس طرح سنبھالا ھے اس سے انہوں نے خود کو اپنے والد کی جانشینی کا جائز حقدار ثابت کیا ھے لیکن لوکل باڈیز ایکٹ کے تحت 30 یوم میں کسی سیاسی پارٹی کو جوائن کرنے کی شرط سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو قومی سیاست میں داخلے کا راستہ پھر سے میسر ہو جائے گا غیر مقبولیت کی آخری حدوں کو چھونے والی ایک جماعت کے کلٹ کو ایک مرتبہ پھر اپنی مقبولیت کا احساس دوبارہ سے منظم ھونے کا راستہ فراھم کر دے گا اور اسکے ساتھ اس سے کھلنے والے غیر سیاسی راستے مسلم لیگ ن کی نیک نامی میں ہر گز اضافے کا باعث نہ ہونگے اپ تصور کریں جب غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والے افراد کے پیچھے علاقے کا پٹواری تحصیل دار اور ایس ایچ او لگا ہو گا تو سب سے پہلا نقصان یہ ہو گا کہ عوام کی نظر میں سیاسی عمل بے وقعت ھو کر رہ جائے گا اور اپنے ووٹ کی بے توقیری انہیں موجودہ سیاسی عمل سے مایوس کرنے کا باعث بنے گی اور یہ جمہوریت کے لئے ہر گز ہر گز کوئی اچھا شگون نہ ہے۔
اس حوالے سے اپنی جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات محترمہ عظمی بخاری فرما رہی تھیں کہ معاشرہ شدید تقسیم کا شکار ہے اور یہ تقسیم نفرت کی حد تک پہنچ چکی ہے اس بات کے پیش نظر اگر بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ھو تو گراس روٹ لیول پر نئ دشمنیوں اور عوامی ٹکراو سے بچا جا سکتا ہے۔
واہ بلکہ بہت اعلی محترمہ اگر اپنے خود ساختہ خدشات سے آپ غیرجماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے ہی بچنا چاھتی ہیں تو پھر سارے عمل کو ہی غیر جماعتی رہنے دیں بس اس ایکٹ میں ایک لازمی شرط کا اضافہ کر دیں کہ نومنتخب حکومتوں کا نوٹیفیکشن پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت سے مشروط ھو گا اور تمام یونین کونسل ممبران کا ن لیگ کو جوائن کرنا لازمی شرط ھو گی بلکہ ایک اس سے بھی آسان طریقہ ھے کہ ضلع تحصیل اور یونین کونسلز کی سطح پر موجود مسلم لیگ ن کی تنظیموں کو کسی آئینی انجنئرنگ کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندے تصور کر لیا جائے اس سے ایک تو صوبہ میں انتخابات پر اٹھنے والے کثیر اخراجات سے بچا جا سکے گا دوسرا معاشرے میں بڑھتی ھوئ پولرائزیشن بھی کسی قسم کے نقصان کا باعث نہ ہو گی
ہنگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چڑھے چوکھا
وگرنہ ایک ہی راستہ ھے ووٹ کو عزت دو
تحریر :شفقت عمران بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادار ے کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔