Wed, September 16, 2026

برطانیہ میں ووٹ دینے کی عمر 16 سال کرنے کا فیصلہ، نئی قانون سازی متوقع

برطانیہ میں ووٹ دینے کی عمر 16 سال کرنے کا فیصلہ، نئی قانون سازی متوقع

لندن: برطانوی حکومت نے انتخابی نظام میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے عام انتخابات میں 16 سال کے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مجوزہ اقدام کو ایک تاریخی جمہوری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، حکومتی جماعت لیبر پارٹی نے اقتدار میں آنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ انتخابی اصلاحات لائے گی، جن میں ووٹنگ کی عمر میں کمی بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان معاشی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، تو انہیں ملک کی سیاسی سمت کے تعین میں بھی کردار ادا کرنے کا پورا اختیار ہونا چاہیے۔

یہ نیا قانون جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں لیبر پارٹی کو عددی برتری حاصل ہے، اور اس کے منظور ہونے کے امکانات روشن ہیں۔

موجودہ وقت میں دنیا کے چند ممالک جیسے آسٹریا، کیوبا، ایکواڈور، برازیل اور ارجنٹائن ایسے ہیں جہاں 16 سالہ شہریوں کو قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت حاصل ہے۔

حکومت کے مطابق یہ تبدیلی اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے علاقائی انتخابات میں نافذ عمر کی حد کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے گی، جہاں نوجوانوں کو پہلے سے ووٹ ڈالنے کی اجازت حاصل ہے۔

ادھر کنزرویٹو پارٹی نے اس اقدام پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب 16 سالہ نوجوان شادی، شراب خریدنے یا امیدوار بننے کے اہل نہیں، تو انہیں ووٹنگ کا حق دینا تضاد پر مبنی ہے۔

تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی 1969 کے بعد سب سے بڑی انتخابی اصلاحات میں سے ایک ہوگی، جب ووٹنگ کی عمر کو 21 سے کم کر کے 18 سال کیا گیا تھا۔ اس اقدام سے تقریباً 95 لاکھ نئے ووٹرز کی شمولیت متوقع ہے۔

انتخابی پالیسی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے نوجوانوں میں سیاسی شعور بڑھے گا اور جمہوریت میں ان کی شمولیت مزید مضبوط ہوگی۔

ٹیگز: