حکومت فرانس اور اس کی طیارہ ساز کمپنی نے اپنے طیاروں کی فاتحہ پڑھ لی ہے جنہیں پاکستان ایئرفورس نے سہ روزہ جنگ میں مار گرایا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے جس ردعمل کا جس طرح اظہار کیا ہے وہ نہایت دلچسپ ہے۔ ان کے ترجمان کے مطابق طیارے گرنے کی اطلاعات درست ہیں۔ یہ طیارے ایک ہی رات میں گرائے گئے، پاکستان اور بھارت کی اس جنگ سے زیادہ سے زیادہ سیکھنا چاہتے ہیں گویا وہ کہہ رہے ہیں اس جنگ کے نتیجے میں ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں یا پانی تو سر سے گزر چکا ہے۔ پیرس میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب میں ترجمان نے یہ کہہ کر اپنی عزت بچانے کی کوشش کی کہ واقعے کی تفصیلات ابھی غیر یقینی ہیں اور بہت سے پہلو تحقیق طلب ہیں۔ فرانس اپنے طیاروں کو کارکردگی کے حوالے سے دیکھ رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں، دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ رافیل طیارے کسی نے مار گرائے، عرصہ دراز قبل ایک رافیل طیارہ اپنی معمول کی پرواز کے دوران کہیں اور گر کر تباہ ہونے کی خبر آئی تھی لیکن بعد ازاں کوشش کر کے اس خبر کو دبا دیا گیا تاکہ رافیل کا کردار عالمی نظروں میں مشکوک ہونے سے بچایا جا سکے اور اس کی مارکیٹ پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ رافیل طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد جن تحقیقات کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں ان میں فرانس اور بھارت علیحدہ علیحدہ موقف رکھتے ہیں، تحقیقات مکمل ہوں گی تو جب بھی دونوں ملکوں کی تحقیقات کا نتیجہ جدا جدا ہوگا، فرانس بتائے گا طیاروں میں کوئی خرابی نہ تھی، اس کا کوئی نظام ناکارہ نہ ہوا، کسی پرزے نے کام کرنا نہ چھوڑا، اسے اڑانے والوں کی تربیت مکمل اور مناسب نہ تھی، ورنہ رافیل خریدنے والے کسی اور ملک کے پائلٹوں کے ہاتھوں یہ طیارہ اب تک کیوں نہیں گرا۔ بھارت کا زور اس بات پر ہوگا کہ اس کے پائلٹ دنیا کے بہترین پائلٹ ہیں، جہاز کے پلے ہی کچھ نہ تھا، یہاں فرانسیسی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھارت کو یاد دلائے کہ اس کی فضائیہ جب بھی پاک فضائیہ کے مقابل آئی تو اس کا کیا حشر ہوا، یاد دہانی کرائی جانی ضروری ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں عید کے روز بھارت کا پاکستانی فضائی حدود میں پرواز کرکے جاسوسی کرنے اور تصویریں بنانے والا جہاز مار گرایا گیا تھا، جنگ ستمبر 1965ءبھارتی فضائیہ کی کمر ایک ہی معرکے میں ایم ایم عالم نے توڑ کے رکھ دی جب انہوں نے چند سیکنڈ میں پانچ بھارتی طیارے مار گرائے اور ہمارے ہوا بازوں نے بھارت کے متعدد ایئر فیلڈ تباہ کر دیئے جن میں آدم پور اور ملواڑہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سرفراز رفیقی شہید نے بھارتی ایئر فیلڈ پر کھڑے دس جہاز پرواز کرنے سے قبل ہی تباہ کر دیئے حالانکہ ان کے اپنے لڑاکا جہاز کی گنز جام ہو چکی تھیں۔ حالیہ جنگ میں بھارت کو مجموعی طور پر سات جہازوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں، اس کے میزائل سٹوریج تباہ ہوئے ہیں، کئی ایئر فیلڈ کھنڈر بنا دیئے گئے ہیں۔ ایک بٹالین ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیا گیا ہے اس کا دنیا میں قیمتی ترین اور فعال ترین سسٹم تباہ کر کے اسے مجموعی طور پر کئی ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ اس کی جو ساکھ مٹی میں ملی ہے اس کا تو کوئی حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ ان حالات میں مودی حکومت اپنے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کچھ نئے ڈرامے شروع کر رہی ہے۔ یہ دراصل کسی نئی جنگ کی تیاریاں بھی شمار ہو سکتی ہیں، کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چار شہروں میں ہنگامی حالات کیلئے شہریوں کو تیار کیا جا رہا ہے جن میں پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور مقبوضہ کشمیر کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ یہاں بلیک آﺅٹ، خطرے کے سائرن بجانا، شہری دفاع کی تنظیموں کو ممکنہ حملے کی صورت زخمیوں کو اٹھانا، انہیں ابتدائی طبی امداد دینا، گری ہوئی عمارتوں سے شہریوں کو نکالنا اور بعض دوسرے اقدامات کی تربیت دینا ہے، ان تمام اقدامات سے پاکستان کو یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بدلے کی جنگ کنٹرول لائن کے آس پاس رکھے گا لیکن ایسا ہوگا نہیں، بھارت پوری تیاری سے آئے گا اور بھرپور جنگ چھیڑے گا لیکن جب بھی ایسا ہوا وہ پاکستان کی مسلح افواج کو ساڑھے سات سو میل لمبے کنٹرول لائن بارڈر کے علاوہ سیالکوٹ، نارووال، بہاولپور، بہاولنگر، قصور، لاہور اور کراچی میں یا ان کے علاوہ اپنی پسند کے کسی بھی نئے محاذ پر استقبال کیلئے تیار پائے گا، استقبال پھولوں کی پتیوں سے نہیں، میزائلوں اور مارٹر گولوں کے ساتھ ساتھ فضا سے زمین اور زمین سے فضا میں چلائے جانے والے راکٹوں کی برسات سے ہوگا۔ بھارتی فوج کو ساون کے مہینے برساتی پانی سے غسل دینے کی بجائے بارود سے غسل دینے کا انتظام کیا جا چکا ہے، انتظار ہے بھارت کب اس اشنان کے لئے پاکستان کا رخ کرتا ہے۔
بھارت کے معاملے میں دفاع پاکستان کی پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے جو بہت اچھی ہے بھارت کو ہر معاملے میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے اور عرصہ دراز سے جاری تحمل کی پالیسی کو اب بالائے طاق رکھ دینا چاہئے، وقت بہت بدل گیا، جنگی فنون میں تبدیلی آ چکی ہے، آلات حرب بدل گئے ہیں، جنگی حکمت عملی بدل گئی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ دو بادشاہ میدان جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے۔ لڑتے لڑتے ایک کی تلوار ٹوٹ گئی، دوسرے شیردل اور بہادر سلطان نے اسے گرے ہوئے اور ٹوٹی ہوئی تلوار ہاتھ میں پکڑے ہوئے دیکھا تو رک گیا، اسے اٹھایا، اسے نئی تلوار دی اور کہا اب آﺅ میدان جنگ میں، تحمل کا یہ دور کبھی کارگر تھا مگر اب نہیں، وہ بادشاہ اور تھے، ان کی سوچ اور تھی۔ آپس کے تمام تر اختلافات اور کئی جنگیں لڑنے کے باوجود ان کے کچھ اصول تھے۔ انہوں نے اصولوں پر ہی زندگی بسر کی۔ آج کے دور میں اگر کوئی گرے ہوئے دشمن کو زمین سے اٹھائے گا اس کے ہاتھ میں نئی تیز دھار تلوار پکڑائے گا تو پھر ضروری نہیں جس کی تلوار پہلے ٹوٹی تھی اس ہی کی تلوار دوبارہ ٹوٹ جائے، بلکہ دوسرے کی گردن بھی اتر سکتی ہے۔ جدید تاریخ میں ایک اور دلچسپ واقعہ بھی ہے جسے مثال کے طور پر تحریر کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ پاکستان کے اکی پہلوان نے انوکی کو زیر کرلیا اور پھر اسے اٹھنے کا موقع دیا، انوکی نے آرم لاک لگا کر اکی پہلوان کو اٹھنے کا موقع نہیں دیا بلکہ اس کا ”موڈا نکال دیا“ دو ملکوں کی لڑائی میں تحمل کا مظاہرہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، میاں بیوی کی لڑائی میں تحمل کا فائدہ ہوتا ہے، پاک بھارت جنگ کیا میاں بیوی کی لڑائی ہے؟۔