اسلام آباد : اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف مسلم دنیا کے 8 بااثر ممالک نے ایک مضبوط سفارتی بلاک تشکیل دے دیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے ایک ہنگامی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کے ’غیر قانونی الحاق‘ کے منصوبے کو عالمی امن کے لیے ایٹم بم قرار دے دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے حالیہ انتظامی اور قانونی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین پر حملہ قرار دیتے ہوئے درج ذیل نکات پر زور دیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں میں اضافہ اور فلسطینیوں کی بے دخلی عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزرائے خارجہ نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کا مقصد دو ریاستی حل کے امکان کو ختم کرنا ہے، جو خطے کو دائمی عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا۔ 8 ممالک نے اعادہ کیا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایسی آزاد فلسطینی ریاست ناگزیر ہے جس کا دارالحکومت مقدس یروشلم ہو۔
اعلامیے میں عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور طاقتور ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک اشتعال انگیزی اور اشتعال انگیز بیانات بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی 2024 کی اس رائے پر عمل درآمد کیا جائے جس میں اسرائیل کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ خطے میں منصفانہ اور جامع امن کا واحد راستہ عرب امن اقدام اور بین الاقوامی قراردادوں کی مکمل پاسداری ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، ان 8 بڑے مسلم ممالک کا یکجا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب غزہ اور فلسطین کے معاملے پر محض بیانات نہیں بلکہ ایک منظم سفارتی دباؤ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ اتحاد اسرائیل کی عالمی تنہائی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، یہ مشترکہ موقف فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ایک بڑا قدم ہے۔