بھارت نے 18 مئی 1974 کو اپنا پہلا جوہری تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آل انڈیا ریڈیو پر معمول کی نشریات روک کر اناؤنسر کی آواز گونجی ’آج صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ پر مغربی انڈیا کے ایک نامعلوم مقام پر پرامن مقاصد کے لیے زیر زمین ایٹمی تجربہ کیا گیا ہے۔اس دھماکے کے فوری بعد پاکستان کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن اور اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے خود بھی ایٹمی طاقت بنے ۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بیرون ملک سے بلایا اور بہت کم وسائل اور نامساعد حالات میں کام شروع کردیا گیا ۔ جو بعد کے ہر دور میں بھی جاری رہا ۔ارادہ اور عزم پختہ تھا اس لیے کوئی بھی دباؤ ، ترغیب یا مشکل رکاوٹ نہ بن سکی ۔ 1984 میں جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگیا ۔ افغان جہاد پر دنیا بھر کی حمایت ملنے کے باوجود پاکستان اس پوزیشن میں نہ آسکا کہ دھماکے کرکے ایٹمی کلب کا ممبر بن جائے۔ پھر 24 سال کے بعد بھارت نے 11مئی 1998ئ کو پوکھران میں ایٹمی دھماکے کئے تو پوری دنیا میں شور مچ گیا۔ تین دن کے دوران پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد بھارتی لیڈروں کے لب و لہجے بدل گئے۔ بی جے پی کے اہم ترین رہنما اور وزیر داخلہ ایڈوانی نے سرعام دھمکی دی کہ پاکستان شرارتوں سے باز نہ آیا تو بڑا بم ( ایٹم بم ) اس پر پھینک دیں گے۔ پورے بھارت کا پاکستان کے بارے میں رویہ انتہائی رعونت آمیز ہوچکا تھا ۔ پاکستانی قوم شدید غم و غصے کے عالم میں تھی ۔ چند شخصیات کو چھوڑ کر باقی سب کا اتفاق رائے تھا ہمیں بھی ایٹمی دھماکے کرکے جواب دینا چاہیے۔ امریکہ سمیت عالمی برادری کا سارا دباؤ پاکستان پر تھا جو وزیر اعظم کی حیثیت سے نواز شریف کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا ، امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے ایک نہیں پانچ بار فون کرکے دباؤ اور ترغیب کے دونوں حربے بیک وقت استعمال کیے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اس تمام اعصاب شکن مرحلے میں ایک مدبر رہنما کے طور پر صورتحال کا سامنا کرتے رہے اور کسی بھی طرح کی کمزوری نہیں دکھائی ۔ پاکستان میں بعض اعلیٰ عسکری حکام اور دانشوروں سمیت کچھ شخصیات کی رائے تھی کہ ہم پہلے ہی سے ایٹمی طاقت بن چکے ہیں ۔ اب ہمیں امریکہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے مالی معاونت کی پیشکش سے فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو سدھار لینا چاہیے۔ایک موقع پر مجید نظامی نے وزیر اعظم کو مخاطب کرکے ایک تاریخی بات کہی ‘‘ میاں صاحب آپ نے ایٹمی دھماکہ کیا تو امریکہ آپ کا دھماکہ کردے گا اور اگر نہیں کیا تو قوم آپکا دھماکہ کردے گی ۔ نواز شریف کے دل میں کیا تھا ؟ یہ ان کی باڈی لینگوئج سے ظاہر ہورہا تھا ، بعد میں ثابت بھی ہوگیا کہ وہ پہلے ہی دن یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے‘ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنا پڑیں گے۔ بظاہر وہ صلاح و مشورے کر رہے تھے لیکن انہوں نے بھارتی دھماکوں کے فوراً ہی بعد اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کو تیاریوں کا سگنل دے دیا تھا۔ انہیں بتایا گیا تھا ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے کم از کم 10 دن درکار ہوں گے۔ پھر 28 مئی کا تاریخی دن آیا جب چاغی کے پہاڑوں میں پہلے پانچ اور اگلے دن چھٹا ایٹمی دھماکہ کرکے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوگیا ۔ ایک طرف پابندیاں لگیں تو دوسری جانب دوست ممالک اور مسلم اْمّہ خوشی سے جھوم اٹھی ۔اقوام عالم میں ساتویں ایٹمی طاقت کے ابھرتے ہی بھارت دھمکیاں چھوڑ کر مذاکرات کی پیشکشیں کرنے لگا ۔اگرچہ اس وقت سے اب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا لیکن جب بھی موقع ملے غور کرنا چاہیے ہمارے ملک میں ڈاکٹر عبد القدیر ، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔ کچھ سال پہلے ایک موقع پر ثاقب نثار نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا گھیرا تنگ کرنے کی بھی کوشش کی ۔ادھر دشمن ملک انڈیا نے اپنے میزائل پروگرام کے سائنسدان ڈاکٹر عبد الکلام کو صدر جمہوریہ کے اعزاز سے نوازا ۔ 1989 کے جوابی ایٹمی دھماکوں کی طرح مئی 2025 کے مہینے میں ہی پاکستان کے پاس جنگی سبقت کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے سرخرو ہونے کا موقع آیا ہے۔ چھ مئی کو بھارتی حملے کے جواب میں پاک فورسز نے جس طرح سے بھارت کو دھول چٹائی وہ جنگی تاریخ کا درخشاں باب ہے۔ سخت ہزیمت سے دوچار، شکست خوردہ مودی مایوسی کے عالم میں پاکستانی نوجوانوں ( یوتھ) سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں بغاوت کریں۔ اس سے پہلے خیام خیالی کا شکار پورا بھارت یہ کہتا آرہا ہے کہ ہم اربوں ڈالر خرچ کرکے پاکستان اور اسکی فوج کے خلاف جو کام نہیں کرسکتے تھے وہ پی ٹی آئی اور اسکے بانی نے اندرونی انتشار پیدا کرکے کر دکھایا ۔ ادھر حالت یہ ہے کہ جنگ میں بھارت کی شکست فاش کے بعد مودی سے بھی توقعات ختم ہونے کے بعد کوئی اور راستہ نہ پاکر ایک طرف تو جمائمہ نے دونوں بیٹوں کو میدان میں اتارا دوسری جانب علیمہ خان بھی ترلے کرنے پر اتر آئی ہیں ۔ اب فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کو کرنا ہے کہ ٹی ٹی پی ، بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ سیاسی فتنہ گروں اور ڈیجیٹل دہشت گردوں کا مکو بھی ٹھپنا ہے یا افراتفری اور فیک نیوز کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا ۔اصل فاتح ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے عوام کی زندگیوں کو آسان بنائے ۔ امن و سکون ، خوشحالی اور خوشیوں کے اسباب پیدا کرے ۔ ورنہ طاقتور تو شمالی کوریا بھی بہت ہے ۔ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے پاس 50 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، یورینیم یا پلوٹونیم اتنا ہے کہ وہ 90 تک مزید جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔ مختلف اقسام کے 500 سے 10000 کلو میٹر تک مار کرنے والے مہلک میزائل موجود ہیں،آبدوز سے چلنے والے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جن کی رینج 3,000 سے 5,000 کلومیٹر ہے۔ شمالی کوریا بیک وقت روس اور چین کا اتحادی ہے۔ جنگی لحاظ سے اتنا بااثر کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی اپنے پہلے دور میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ سے مل چکے ہیں ۔ اتنی بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود وہاں غربت سے عوام کا بُرا حال ہے۔ اصل فاتح ممالک ان کو شمار کہا جاتا ہے جو ترقی اور عوام کی خوشحالی کو سب سے مقدم رکھتے ہیں، قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کو بھی اب پوری توجہ اسی جانب مرکوز کرنا ہو گی۔