امریکہ، اسرائیل اور ایران کی بدترین جنگ نے پوری دنیا کی معیشتوں اور دفاع کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔جنگ کی موجودہ صورتحال کچھ سدھر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ جس پر ایران نے بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اس جنگ کو رکوانے کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کا احسن کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے کی اگلی کڑی جس میں امریکی افواج، ٹرمپ حکومت کے عہدیداران اور ایرانی حکومت کا وفد اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے گا۔ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے پاکستان کے عالمی جنگ کو رکوانے میں ثالثی کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دلال ملک نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں آل پارٹی اجلاس میں وزیر خارجہ جے شنکر نے ایک سیاسی رہنما کے سوال کے جواب میں کہا بھارت عالمی تنازع میں حصہ نہیں لے گا کیونکہ بھارت پاکستان کی طرح بروکر/ دلال/ مڈل مین کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ ان کیمرہ اجلاس کے بعد سیاسی رہنماو¿ں نے صحافیوں سے گفتگو میں وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان کے لئے مخصوص الفاظ کا ذکر کیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور پاکستانی عوام نے شدید ردعمل دیا جس کی توقع تھی۔ مگر جے شنکر کے اس بیان نے اس بات کو تقویت دی کہ بھارت آج واقعی سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ بھارت عالمی سطح پر تنہائی اور آئسولیشن سے نکلنے میں ناکام ہے۔ بھارتی عوام، سیاست دان، صحافی، تجزیہ کار، کاروباری افراد ہر شخص اور ہر طبقہ بھاجپا کے وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسیوں پر تنقید کر رہا ہے۔ اس تنقید کا رخ جے شنکر کا بیان بھی نہیں موڑ پایا اور یہ بیان بازی، بازاری زبان، غیر سفارتی الفاظ بھارت کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کر رہے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کو منظور کیا۔ اسی سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کے ایکس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی کہ کیسے سپر پاور امریکہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کے لئے پاکستان کے پیچھے کھڑا ہے۔ یہ پاکستان کی بیک ڈور سفارت کاری کی کامیابی ہے جس پر بھارت کو خوب مرچیں لگی ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے سٹرٹیجک تعلقات اپنے بہترین دور میں ہیں۔ اس کا سہرا پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کو جاتا ہے۔ سال 2025 میں آپریشن سندور میں بھارت کو دھول چٹانے کے بعد پاکستان نے بھارت کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کو بہت سنجیدگی سے لیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کی پوری خطے کے امن کی بحالی کی کوشش کو سراہا گیا تھا۔
امریکہ پاکستان تعلقات کے تناظر میں وزیراعظم شہبازشریف کے کردار پر بھی بات کرنے سے پہلے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جن کو امریکی افواج اور دفاعی ادارے سینٹ کام میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے سب سے بڑی ادارے سنٹرل ملٹری کمانڈر سینٹ کام میں پاکستان کا امیچ بلڈ کرنا، دفاعی صلاحیتوں اور مشترکہ فوجی قیادت کی ورکنگ کو دور حاضر میں عاصم منیر نے استوار کیا ہے۔
پاکستان کا اس جنگ میں ہمیشہ سے ایک ہی بیانیہ رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ مسلم ملک ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی پاکستان نے کھلم کھلا مذمت کی تھی۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر بھی پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت جنگ بندی اور ٹیبل ٹاک مذاکرات میں بھی پاکستان امن کے لئے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان امن کے لئے ہر فورم پر جانے کو تیار ہے۔ اور بھارت انتہا پسندی کو ملک میں بھی ہوا دے رہا ہے اور جنگ کے حالات میں بھی اسرائیل کے حملے کا دفاع کر رہا ہے۔
سفارتی آداب سفارت کاری میں اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے سال 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد سے ابھی تک 75 بین الاقوامی سرکاری دورے کئے ہیں۔ جن میں امریکہ کے دورے سب سے زیادہ ہیں۔ ان تمام بین الاقوامی دوروں میں ایک بات مشترک ہے کہ ہر جگ جا کر نریندر مودی ہر ملک کے سربراہ کو زبردستی گلے لگا لیتے ہیں۔ اسے سفارتی رسم میں برا مانا جاتا ہے۔ ہر دورے ہر کانفرنس میں جا کر نریندرمودی عالمی لیڈران کے درمیان جہاں مختصر اور بامعنی گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مودی ہنستے مسکراتے رہتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں جس کی ویڈیوز پر خوب تبصرے اور طنزیہ جملے لکھے جاتے ہیں جنہیں شاید نریندر مودی نہیں پڑھتے۔ کئی ممالک کے وزراءاعظم کی تو انگریزی ہی نریندر مودی کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے اور پھر سوال دال اور جواب چنا ہوتا ہے۔ ایسے وزیراعظم کو کون سنجیدہ لے گا جو دو سنجیدہ جملے ادا نہیں کر سکتا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک بھارت اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ آپریشن سندور کی جنگ پاکستان سے ہار بیٹھا ہے. اور اب اپنی سفارتی ناکامیوں پر قابو پانے میں بھی ناکام ہے۔ بھارت کی سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر منفی امیچ یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ گویا نریندر مودی عالمی رہنماو¿ں سے گلے ملنے کی پالیسی پر گامزن تھے یا گلے پڑنے کی پالیسی پر گامزن تھے کیونکہ اب بھارت کے سفارتی حالات بازاری زبان تک آ چکے ہیں۔