Wed, September 16, 2026

کلیم عثمانی… اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

کلیم عثمانی… اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

انسانی زندگی کس قدر مصروف ہو گئی اور ہم کس قدر ایسے بھنور میں الجھا دیئے گئے جہاں اب باہر نکلنا ناممکن سا دکھائی دیتا ہے۔ آسانیاں کم، مشکلات زیادہ۔ ہمیں یہ یاد ہی نہیں رہا کہ وہ نایاب لوگ کہاں چلے گئے جنہوں نے عظمتوں اور کامیابی کے مینار کھڑے کئے۔ جنہوں نے پاک دھرتی کے لئے ایسی ایسی تخلیقات دیں، ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ وہ دھرتی کے لئے نشان حیدر اور نشان ہلال پاکستان بن گئے اور وہ نایاب نام جو صدیوں مٹائے نہیں جا سکتے۔ گزشتہ دنوں کلیم عثمانی نامور شاعر جو آج بھی ہماری بڑی شناخت ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر کسی کو علم ہی نہیں کہ جس کی برسی تھی وہ ہمارے اثاثوں میں کتنا بڑا اثاثہ تھا۔ بہت سے نامور شعرا میں ایک نام آتا ہے کلیم عثمانی کا۔ وہ کیا بندہ تھا، وہ کیا شاعر تھا، وہ کیا انسان تھا… اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں… یہ وہ قومی ترانہ ہے جس کی گونج آج جب دلوں کو سنائی دیتی ہے تو ہمارا انگ انگ جاگ جاتا ہے۔ پاک دھرتی سے منسوب ترانہ آج نئی نسل کے لئے ایسے ہی ہے جیسے ملک سے محبت کی چنگاری کو جگانا ہے۔ کلیم عثمانی کی ایک طویل زندگی کی طرح طویل شاعری کے سنگ میل تھے جو شاید ایک بڑی کتاب میں بھی نہ سمو سکیں مجھے آج کلیم عثمان کی بہت یاد آئی کہ میری بہن عمارہ الطاف نے ایک پوسٹ میں مجھے یہ یاد کرانے کی کوشش کی کہ ایسے نایاب ہیروں کو بھی اس نسل کے اندر اتاریں۔ دنیا میں جتنے نامور لوگ آئے وہ ایک ہی تھے جیسے کلیم عثمانی بھی ایک بڑی شاعری دے گئے۔ جب میں ان کی زندگی کو مختصر لفظوں میں ڈھالتا ہوں تو ان کی سی وی کے مطابق وہ 28فروری 1928ء کو دیوبند، سہارنپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احتشام الہٰی جبکہ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے ملتا ہے۔ 1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گیا۔ کلیم عثمانی نے احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔ ان کی آواز میں بہت ترنم تھا اس لئے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی۔ پھر انہوں نے فلمی نغمہ نگاری بھی کی۔ 1955ء میں فلم ’’انتخاب‘‘ کے گیت تحریر کئے۔ یہ ان کی پہلی فلم اور پہلا فلمی گیت تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھاؤں کے نغمے لکھے۔ 1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ’’ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا‘‘ نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔ یہ گیت ا رونا لیلیٰ نے گایا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی۔ انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کیے جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔ 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت’’ تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی‘‘ پر ’’نگار ایوارڈ ‘‘حاصل کیے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت لکھا جو آج ہماری شناخت بن چکا ہے۔ 
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، ایک چمن کے پھول ہیں سارے، ایک گگن کے تارے، ایک سمندر میں گرتے ہیں سب دریاؤں کے دھارے، جدا جدا ہیں لہریں، سرگم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، ایک ہی کشتی کے ہیں مسافر اک منزل کے راہی، اپنی آن پہ مٹنے والے، ہم جانباز سپاہی، بند مٹھی کی صورت قوم ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، پاک وطن کی عزت ہم کو اپنی جان سے پیاری، اپنی شان ہے اس کے دم سے، یہ ہے آن ہماری، اپنے وطن میں پھول اور شبنم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں، اور آخر میں ان کا ایک اور مشہور زمانہ گیت جس کی موسیقی نامور موسیقار (مرحوم) روبن گھوش نے دی اور اسے گایا نیرہ نور اور ساتھیوں نے۔ یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ایک اور ملی نغمہ جو کل کی طرح آج بھی مقبول ہے۔
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے، یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے، اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے، اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے، یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں، کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں، اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا، ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا، نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو، وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو، یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت، اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت، دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو، یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو، میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو، ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو، نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا، اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا، یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے، یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے اس گیت کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے اور اسے مہدی حسن نے گایا۔اس کے علاوہ کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہو چکا ہے۔ 
رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح، چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح، خشک پتوں کی طرح ، لوگ اْڑے جاتے ہیں، شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح، پھر خیالوں میں ترے قْرب کی خوشبو جاگی، پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح، بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات، میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح اسی طرح ان کی یہ مشہور غزل میڈیم نور جہاں نے گائیکی سے امر کردی۔ کلیم عثمانی آج ہم میں نہیں مگر ان کے لکھے گیت ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ایسے لوگوں کے بارے میں بتانا چاہئے کہ یہ کس قدر بڑے لوگ اور نایاب کردار تھے۔ کاش ہمارے میڈیا ایسے لوگوں کو سامنے لائے کہ آج انہی کے دم سے ہم زندہ ہیں، ہمارے نام اور مقام زندہ ہیں۔ 

ٹیگز: