ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز اور ویلاگز میں جھوٹی سچی کہانیاں، احمقانہ اور بے سروپا باتیں، ویلاگرز ڈالر کمانے کے لالچ میں بھٹک گئے۔ گویا پٹڑی سے اتر گئے، گویا دولت کی ہوس نے سچ جھوٹ کی تمیز ختم کر دی۔ بے پر کی اڑانے لگے۔ ویلاگرز پر چیختی چلاتی اور سننے والوں کو راغب کرنے والی شہ سرخیاں جمانے کا رواج چل پڑا۔ بانی پی ٹی آئی کے مردانہ عشق میں مبتلا ٹی وی اینکر پرسنز اور ویلاگرز اہل یوتھ کا لہو گرمانے اور خان کا رابطہ بحال رکھنے کی کوششوں میں مصروف، اڈیالہ جیل سے رہائی جیل سے باہر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی خبریں، خفیہ ملاقاتیں، سب ہار گئے دل دا جانی جیت گیا۔ جھوٹی خبروں کا انبار، بشریٰ بی بی کی رہائی، چند گھنٹوں بعد انتقال کی خبر، سب کے بعد سوالیہ نشان، پورے ویلاگ میں گزشتہ 12 گھنٹوں کی خبروں میں ایک لفظ شامل نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر منگل کو علیمہ خان بھائی کی محبت میں دس ہزار افراد جمع نہ کر پائیں، خواہش حسرت بن کر رہ گئی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ملاقات نہ ہونے سے مایوس، آنا چھوڑ دیا، مشورے کے بغیر پورے سال کا بجٹ منظور کرا لیا۔ سوشل میڈیا کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گیا کوئی روک سکے تو روک لے، اینکرز اور ویلاگرز نے بڑے وثوق سے خبر دی کہ خان کو پھر پیشکش کی گئی ہے کہ خاموش رہیں تو انہیں بنی گالہ منتقل کر دیا جائے گا آئندہ سال الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اجازت ہو گی۔ بیرون اور اندرون ملک اینکرز اور نام نہاد صحافی نما ویلاگرز کا دعویٰ تھا کہ سسٹم نہیں چل پا رہا، اس لیے آفرز دی جا رہی ہیں۔ ذمہ داران نے خبر کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سسٹم مضبوطی سے چل رہا ہے۔ کوئی آیا نہ گیا کوئی آفر نہیں ہوئی، اینکرز کو چپ لگ گئی، تردید کی بھی توفیق نہ ہوئی، دوسری جھوٹی کہانی وزیر اعظم جا رہے ہیں، جولائی تبدیلی کا مہینہ، صدر ٹرمپ نے خبریں چلانے والوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، فیلڈ مارشل اپنے وزیر اعظم کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ سچی اور حقائق پر مبنی کہانیاں، ایران امریکہ جنگ کے خاتمے میں ثالثی کے بہترین کردار سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا۔ وزیر اعظم بیرونی محاذ پر کامیابی کے بعد اندرونی مسائل کے حل کے لیے کوشاں۔ فرصت ہی نہیں، اکیلی جان کہاں کہاں سر کھپائیں۔ کہنے کو بارہ تیرہ جماعتیں اتحادی، ذمہ داری اٹھانے کو کوئی تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی سب سے بڑی اتحادی لیکن سب سے بڑی نقاد، آئینی عہدوں پر فائز لیکن کابینہ سے باہر، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منہ سے جھاگ اڑاتی تقریریں۔ سندھ، بلوچستان اور جی بی میں اپنی حکومتیں آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت بھی بنانے کی تگ و دو، بجٹ منظوری سے پہلے دھواں دھار اور جذباتی تقریریں خالی از علت نہیں، ن لیگ جی بی کی طرح آزاد کشمیر میں بھی راستہ دے دے۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو بجٹ پر تجاویز دینے کی بجائے آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے مشوروں پر اڑ گئے۔ قومی اسمبلی میں اتحادیوں کی لڑائی دیدنی، ایک دوسرے کی ”عزت افزائی“ بلاول بھٹو انتہائی غصے میں دکھائی دئیے، سیانوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی میں الحاق پاکستان سکیورٹی فورسز اور ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں سے مذاکرات چہ معنی دارد، سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کرنے، لاشوں کی بے حرمتی کرنے پر پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دلانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے کی توثیق کی، کالعدم کمیٹی سے مذاکرات کیوں، خواجہ آصف نے الحاق پاکستان کے مخالفین کو کشمیری ماننے سے انکار کر دیا، ان کا موقف تھا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کی اونرشپ قبول کی 77 سال بعد ہم اپنی شہ رگ کاٹ کر ان مٹھی بھر بلوائیوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے، آزاد کشمیر کے 47 لاکھ عوام پاکستان سے الحاق کے نعرے پر قائم ہیں ہمارے آباﺅ اجداد اپنے بیٹوں بھائیوں اور والدین کی قربانیاں دے کر پاکستان میں آباد ہوئے پاکستان نے ہمیں تشخص دیا، پاسپورٹ پر بیرون ملک سہولت، روٹی کپڑا مکان فراہم کیا، کمیٹی کے مٹھی بھر لیڈر ہمیں 12 سیٹوں سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو، خواجہ آصف پر چڑھ دوڑے، ایسے وزیروں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار، بات کشمیری غیر کشمیری سے شروع ہوئی اختتام بلدیاتی انتخابات پر ہوا۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی بات چلی تو کراچی والے اُٹھ کھڑے ہوئے کسی نے کہا اختیارات کس کے پاس ہیں، احوال جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال سے پوچھ لیں۔ مصطفیٰ کمال نے پانی کا مسئلہ اٹھا دیا، کہا بال کالے کرنے تک کو پانی میسر نہیں، بات پہنچی تیری جوانی تک، ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ، دردِ جگر ہووے ہائے میری لات میں۔ بلاول بھٹو پاکستان کے عظیم سیاستدانوں ذوالفقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور صدر آصف زرداری کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اس وقت ملک کو تباہی سے بچا لیا تھا، وہ الحاق پاکستان کے مخالفین اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے فنڈز سے پاکستانی علاقہ میں شورش برپا کرنے والوں کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے، بلاول بھٹو خود بھی بیدار مغز سیاستدان اور موجودہ سسٹم کو سہارا دینے والے مضبوط اتحادی ہیں۔ انہیں غصہ تھوک کر ایکشن کمیٹی کے بارے میں اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ تین چار ہزار بلوائی اور دھرنا دینے والوں کی حمایت سے پی پی کتنی نشستیں حاصل کر لے گی اس کی بھی تحقیقات کرائیں کہ دھرنے میں 80 فیصد 9 مئی والے ہیں جو پی پی کو ووٹ نہیں دیں گے، پارٹی چیئرمین کو اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور پارٹی رہنماو¿ں سے بھی مشاورت کرنا ہو گی، 12 نشستوں کا مسئلہ آئندہ منتخب اسمبلی میں قانون سازی سے پُر امن طور پر حل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کر کے لاشوں کی بے حرمتی اور لاشوں کو پہاڑوں سے نیچے پھینکنا کسی طرح بھی درست نہیں، بلاول بھٹو اپنے نانا والدہ اور والد کی طرح محب وطن سیاستدان ہیں اس وطن کے لیے ان کے آباﺅ اجداد نے اپنا لہو پیش کیا ہے یقین کامل ہے کہ وہ فیصل ممتاز راٹھور اور دیگر لیڈروں سے مشاورت کر کے پاکستان کے موقف کو مضبوط و مستحکم بنائیں گے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بارہ تیرہ لیڈر زیر زمین چلے گئے یا سرحد پار بھاگ گئے، بارہ تیرہ نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی، 150 کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم ہیں انہیں مذاکرات کے لیے مہلت دی گئی، مولانا فضل الرحمن نے دھرنا ختم کرنے کی شرط پر ثالثی پر آمادگی ظاہر کی انکار پر مولانا بھی پیچھے ہٹ گئے گزشتہ دنوں کمیٹی کے سرغنہ شوکت نواز میر نے فیلڈ مارشل سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے لیکن دھرنا برقرار، ”دھرنا رہے اور ظلم بھی ہو تم ہی کہو یہ کیسے ہو“ مقبوضہ کشمیر کے رہنماو¿ں علی گیلانی، یاسین ملک، میر واعظ اور دیگر لیڈروں سے غداری اور الحاق پاکستان سے انکار کرنے والوں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔