کچھ لوگوں کو شاید یہ بات خوشامد لگے لیکن یہ بالکل سچ ہے کہ ملک کی موجودہ قیادت کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس موجودہ قیادت میں سول اور عسکری دونوں طرح کی قیادتیں شامل ہیں۔ یہ بات کہنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ پاکستان اپنے تمام تر مسائل کے باوجود اس وقت اپنی تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہا ہے اور ملک کی ساری قیادت میں ایک مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ورنہ اس سے پہلے کے ادوار پر نظر ڈالیں تو قیادت میں ہمیشہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر کچھ نہ کچھ مسائل ضرور رہے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کو منفی نتائج بھگتنا پڑتے رہے ہیں۔اگر ہم اوپر کی جانب سے جائزہ لینا شروع کریں تو سب سے پہلے ذکر آتا ہے صدر کے عہدے کا۔ اس وقت ملک کے صدر آصف علی زرداری ہیں۔ ان کا اگر ماضی کے صدور سے موازنہ کیا جائے تو ہمیں ایک واضح فرق نظر آئے گا۔ آصف زرداری کو اگر ملک کا متوازن ترین صدر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ماضی میں صدر یا تو بہت زیادہ طاقتور ہوتا تھا یا پھر بہت کمزور۔ طاقتور صدور میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف شامل ہیں۔ ان صدور نے آئینی ترامیم کے ذریعے تمام اختیارات اپنی ذات میں جمع کر لیے تھے۔ کمزور صدور میں سیاسی جماعتوں کے مقرر کردہ صدر شامل ہیں جن میں عارف علوی اور ممنون حسین کے نام نمایاں ہیں۔ ایسے صدور بے اختیار تو نہیں تھے لیکن برسر اقتدار جماعت کے کارکن ہونے کے باعث اپنے اختیارات کے استعمال میں خود کو انہی جماعتوں کے تابع سمجھتے تھے۔
صدر آصف زرداری کا معاملہ دونوں طرح کے صدور سے مختلف ہے۔ ایک تو وہ اپنے پہلے دور میں فوجی صدور کے لامحدود اختیارات کو ختم کر کے صدر کے عہدے کو اس کی آئینی حدود میں لائے، دوسرا یہ کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے کارکن بھی نہیں بلکہ سربراہ ہیں۔ ان کے پہلے دور صدارت میں انہی کی جماعت پیپلز پارٹی کے دو کارکن سید یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف وزیر اعظم تھے۔ یوں اس دور میں وزیر اعظم کے مقابلے میں صدر کا عہدہ بالا دست تھا۔ موجودہ دور میں بھی وہ برسر اقتدار جماعت کے کارکن نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی جماعت حکومت کی اتحادی اور کسی حد تک حریف بھی ہے۔ سو اپنے اختیارات کا استعمال کرنے میں آزاد ہیں اس کے باوجود وہ اپنے منصب کو نہایت دانشمندی سے استعمال کر رہے ہیں اور حکومت کے لیے کسی قسم کی مشکلات کھڑی نہیں کر رہے۔جہاں تک وزیراعظم کے عہدے کی بات ہے تو اس وقت ملک کے وزیراعظم شہباز شریف ہیں جو ابھی تک کسی بھی سابق وزیراعظم سے زیادہ کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا تعلق صدر اور فوجی قیادت سمیت تمام عہدے داروں اور اداروں کے ساتھ مثالی ہے۔ ان کے دور میں مہنگائی تو ضرور بڑھی ہے لیکن ملک ڈیفالٹ کے دہانے سے بچ نکلا ہے، بھارت شکست فاش سے دوچار ہوا اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کا لوہا مانا گیا۔ ان کامیابیوں میں کچھ تو ان کی قسمت کا ہاتھ ہے اور کچھ ان کے مزاج کا عمل دخل ہے۔
ماضی کے وزرائے اعظم سے اگر شہباز شریف کا موازنہ کیا جائے تو ان سے پہلے ان کے بڑے بھائی نواز شریف اور بے نظیر جیسے طاقتور وزرائے اعظم بھی اس قدر کامیاب نہیں رہے کیونکہ ان کے اپنے وقت کی فوجی قیادت اور اپوزیشن سے شدید اختلافات رہتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے ادوار کی کامیابیاں تو زیادہ نمایاں نہ ہو سکیں لیکن کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں اپنی کوئی بھی مدت مکمل نہ کر پائے۔ ان کے علاوہ بانی پی ٹی آئی اپنے متکبرانہ مزاج، غیر سیاسی رویے، لابالی قسم کی طبیعت، غیر محتاط گفتگو اور ناتجربہ کاری کے باعث ملک کے داخلی اور خارجہ محاذوں پر مشکلات کا شکار ہو گئے اور بالآخر تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنی حکومت گنوا بیٹھے۔ ان تینوں طاقتور وزرائے اعظم کے مقابلے میں شہباز شریف کو کسی طرف سے بھی بہت زیادہ مخالفت یا مشکلات کا سامنا نہیں اور وہ اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کرتے چلے جا رہے ہیں۔
عسکری قیادت کی بات کی جائے تو پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ہر حوالے سے ایک کامیاب کمانڈر ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک تو وہ اپنے پیش رو سپہ سالاروں کے برعکس سیاسی معاملات میں دخیل نہیں ہیں اور ایک پیشہ ور سپاہی کی طرح صرف اپنی عسکری ذمہ داریوں پر توجہ رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ عسکری حوالے سے جرا¿تمندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف گزشتہ سال بھارت کے خلاف جنگ میں ایسے ہی فیصلوں کی بدولت پاکستان کو فتح مبین کی مضبوط بنیاد فراہم کی بلکہ منتخب حکومت کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کی جنگ رکوانے کے لیے ثالثی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کے اس بہادری تعاون پر مبنی مثبت کردار نے انہیں ملکی اور عالمی ہر دو سطح پر ایک ہر دل عزیز شخصیت بنا دیا ہے۔پاکستان کے تینوں اہم مناصب پر فائز شخصیات کے درمیان مثالی اتحاد اور ہم آہنگی کا مجموعی طور پر ملک کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کی آنکھوں کا تارا بنانا ہوا ہے۔ پہلے دنیا معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی سے مرعوب تھی اور اب امریکہ ایران ثالثی کی کوششوں پر پاکستان سے امیدیں باندھے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسی خوش کن صورت حال ہے جو اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔
دعا ہے کہ قومی قیادت میں اتحاد اور ہم آہنگی اسی طرح برقرار رہے تاکہ بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی پاکستان کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔ اس وقت عالمی حالات کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا باقاعدہ امتحان بن چکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے نے اسے نڈھال کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کی نگاہیں اپنی قیادت پر لگی ہیں کہ وہ اسے اس مشکل صورت حال سے نکالے۔امید کی جا سکتی ہے کہ ملکی تاریخ کی بہترین قیادت مہنگائی کے عفریت کو پچھاڑنے میں بھی اسی جرا¿ت اور اتحاد کا مظاہرہ کرے گی جس سے اس نے پہلے بھارت جیسے ازلی دشمن کے دانت کھٹے کیے اور پھر تیسری جنگ عظیم کا راستہ روکا۔ ایسا ہوا تو موجودہ قیادت حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے لیے ایک نعمت ثابت ہو گی اور پھر کسی بھی بدخواہ کے لیے اس کی بالکل سچی تعریف کو جھٹلانا ممکن نہیں رہے گا۔