آج کل تو بچوں کے پاس تعلیم کے شعبہ میں بڑا وسیع میدان ہے لیکن ہمارے دور میں 70 اور 80 کی دہائی میں تعلیمی میدان میں تین چار ہی شعبے تھے کہ جن کا انتخاب کیا جاتا تھا ایک تو وکالت تھی لیکن یہ تیسرے چوتھے درجے کا انتخاب تھا۔ اس سے بہتر MBA کو ترجیح دی جاتی تھی لیکن 90% سے زیادہ والدین کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ ان کا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر یا انجینئر بن جائیں۔ ہمارے والدین کی بھی یہی خواہش تھی۔ محنت کی اور میٹرک میں اچھے نمبروں سے پاس بھی ہو گئے اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میٹرک کے نصاب تک ہمیں سائنس کی اچھی سمجھ آ گئی تھی اور کالج میں داخلہ لیا تو انٹر کی سائنس کی بھی کچھ کچھ سمجھ آ گئی تھی۔ زندگی میں سائنس کی اور بہت سی اقسام سے واسطہ پڑا اور وہ بھی سمجھ میں آتی گئیں لیکن جب بارشوں میں درجہ حرارت بھی کم ہو اور بجلی کی کھپت بھی زیادہ نہ ہو تو اس دوران چوبیس گھنٹوں میں تین سے چار بار اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی سائنس سمجھ نہیں آئی اور یہ تین چار بار کی لوڈ شیڈنگ تو ایک گھنٹہ اور آدھے گھنٹے کے لیے ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ پانچ پانچ اور دس دس منٹ کے لیے متعدد بار بجلی کا جانا معمول کی بات ہے۔ 4 جولائی کو ہم نے اپنے کالم ”لوڈ شیڈنگ کی مختلف اقسام“ کے آخر میں عرض کیا تھا کہ اقسام تو بہت سی ہیں لیکن دامن کالم میں گنجائش نہیں رہی لہٰذا دیگر اقسام کا ذکر کسی اور کالم میں ہو گا اور خدائے بزرگ و برتر کی ذات بڑی رحیم ہے ہم نے قارئین سے وعدہ کیا اور قدرت وہ وقت اتنی جلدی لے آئی۔
اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار
بجلی کی کھپت سے زیادہ ہے۔ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کا جواز بنتا ہے کہ ایک تو کھپت زیادہ ہے اور ایک جہ یہ بھی ہے کہ بجلی کی قیمت چونکہ بہت زیادہ ہے تو لوڈ شیڈنگ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر حکومت لوڈ شیڈنگ نہ کرے تو بجلی کا چوبیس گھنٹے استعمال بجلی کے بل کی رقم کو اتنا زیادہ بڑھا دے کہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لئے بل کی ادائیگی شاید مشکل ہو جائے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ پر لیکن بارشوں کے موسم میں جب درجہ حرارت بھی کافی گر گیا ہو اور جو لوگ ایئر کنڈیشنر چلاتے ہیں وہ بھی صرف پنکھے چلائیں تو ایسے حسین موسم میں چوبیس گھنٹوں میں تین چار بار گھنٹے اور آدھے گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنے کی سائنس سمجھ نہیں آئی اور بات اگر سائنس کی ہی ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنے سائنس دانوں نے کتنے برس دن رات محنت کر کے انورٹر ایئر کنڈیشنر کی تکنیک میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس تکنیک میں ہوتا یہ ہے کہ انورٹر اے سی کو جب سٹارٹ کیا جاتا ہے تو یہ شروع کے آدھے گھنٹے میں یا اس سے بھی کم وقت میں کمرے کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے کمپریسر چلاتا ہے اور اس کے بعد یہ بار بار آن آف نہیں ہوتا کہ زیادہ بجلی استعمال کرے بلکہ یہ اپنے کپریسر کو کم رفتار پر کر لیتا ہے جس سے بجلی کی کھپت کافی حد تک کم ہو جاتی ہے لیکن سائنس اور ان سائنس دانوں کا بھلا ہمارے بجلی اہل کاروں کی اعلیٰ ذہانت سے کیا مقابلہ۔ یہ اہل کار صرف ایک جھٹکے میں اس پوری سائنس اور سیکڑوں سائنس دانوں کی محنت کو شکست نہیں بلکہ شکست فاش دے دیتے ہیں اور آئی پی پیز کے لیے تو یہ طریقہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ”ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا“۔ اس میں غریب عوام بیچارے اپنا انورٹر اے سی آن کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا بل کم آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا اس لیے کہ ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد بجلی کا جھٹکا لگتا ہے اور دو چار منٹ کے بعد بجلی آ جاتی ہے اور اس طرح انورٹر اے سی عام اے سی کی طرح کام کرتا ہے اور بجلی کے بل میں جو بچت ہونا ہوتی ہے وہ بجلی کے جھٹکوں یا بجلی کی ٹرپنگ کی نذر ہو جاتی ہے لیکن عام صارف کو اس کا احساس تو شاید ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس طرح سیانے کہتے ہیں کہ ”موت دکھا دو تو ہر بندہ بیماری کو راضی خوشی قبول کر لے گا“ اسی طرح یقین کریں کہ جب بھی بجلی جاتی ہے تو ہر آدمی کے ذہن میں ایک نہیں بلکہ سو طرح کے خیالات
گردش کرنے لگ جاتے ہیں کہ کہیں یہ ایک گھنٹے کے لئے تو نہیں گئی۔ کہیں ٹرانسفارمر تو نہیں جل گیا۔ کہیں مین لائن میں کوئی بڑی خرابی تو نہیں ہو گئی الغرض سو طرح کے خدشات جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں لیکن جب شدید گرمی میں اور وہ بھی آدھی رات میں جب دو تین منٹ بعد بجلی آ جاتی ہے تو ہر آدمی بجلی کے بل کو بھول کر فوری طور پر ایک ہی بات کہتا ہے ”خدایا تیرا شکر ہے“۔
آخر میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ایک بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آئی پی پیز بجلی بنائیں یا نہ بنائیں لیکن معاہدے کے مطابق حکومت انہیں ان کی پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے کی پابند ہے تو لوڈ شیڈنگ کر کے عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے کی بجائے آئی پی پیز کو ان کی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق بجلی بنانے کا کہیں اور وہ بجلی عوام تک پہنچائیں اور حکومت اپنے پاس سے اربوں کھربوں دینے کے بجائے عوام کو بجلی دیں صنعتی صارفین کو بجلی دیں اور ان سے بل لے کر آئی پی پیز کو ادائیگی کریں۔