بہت سی سماجی اور سیاسی اقدار میں تبدیلی کی ضرورت تو ہے ہی ہمیں بلا شبہ صحافتی رویوں میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیائی خبر نویسی نے ہر کس و ناکس کو مائیک اور کیمرہ تھما کر پروپیگنڈے کو جدید دور کا سب سے بڑا ہتھیار بنا دیا ہے۔ ہمیں جھوٹ کی تردید میں پوری توانائی صرف کرنا پڑتی ہے پھر سچ اور کوئی بڑا سچ تخلیق کرنے اور اسے سامنے لانے کی مہلت کم کم ہی رہ جاتی ہے۔ میرے خیال سے ہمیں اجتماعی طور پر کم از کم یہ فیصلہ کر لینے کی ضرورت ہے کہ تنقید کے معیارات کیا ہونے چاہئیں اور کن باتوں، چیزوں اور افعال کا ذکر یا شمار کیا جانا صحافت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ کم از کم قومی سطح کے پلیٹ فارمز کو وہ باتیں سامنے لانی چاہئیں جن سے ملک کو قوم کی ترقی کا براہ راست تعلق ہو۔ لوگوں کی نجی زندگی، من گھڑت باتوں اور ذاتی پسند نا پسند یا تعصب سے آلودہ معاملات کو قومی منظر نامے پر کوئی جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔
پاکستان ایک طویل عرصے بعد اپنی معیشت کی بہتری کی اڑان بھر چکا ہے۔ یہ سفر ہمارے لیے قطعاً آسان نہیں تھا لیکن جس ثابت قدمی سے حالیہ نتائج حاصل کیے گئے ہیں وہ ہمارے شعور کی بیداری کی ایک واضح اور روشن دلیل نظر آتی ہے۔ کم از کم ہم نے یہ فیصلہ تو کیا کہ ہم نے کس میدان میں دنیا سے مقابلہ کرنا ہے اور کن شعبوں میں کارکردگی پیش کرنی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک اہم علمی اور تحقیقی پیش رفت کے تحت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، پروفیسر احسن اقبال نے قائداعظم یونیورسٹی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ آف میٹریل اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان نیشنل سینٹر فار فزکس میں منعقدہ "انٹرنیشنل سمپوزیم آن ایڈوانسڈ میٹریلز" سے خطاب کے دوران کیا گیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں سائنسی تحقیق اور صنعتی ترقی کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے، نوجوان سائنس دانوں اور انجینئروں کی تربیت کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
نیا انسٹی ٹیوٹ نہ صرف ملکی سطح پر علم و تحقیق کو فروغ دے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اشتراکِ عمل کو تقویت فراہم کرے گا۔ منصوبے کے مطابق، اس ادارے کا قیام دنیا کی صفِ اول کی جامعات کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے، اور ان باقاعدہ شراکت داریوں کا اعلان نومبر میں متوقع ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں جدید میٹریل سائنس کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور تجارتی استعمال کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ادارہ اس عظیم سائنس دان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، کے نام سے منسوب ہے جنہوں نے پاکستان کو دفاعی خودمختاری کی بلندیوں تک پہنچایا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ اقدام دراصل ڈاکٹر اے کیو خان کے وژن کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔ ایک ایسا وژن جس میں قوم کی حقیقی دفاعی قوت اس کے سائنس دانوں اور انجینئروں کی دانش اور قابلیت میں مضمر ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا تھا ”کسی قوم کا اصل دفاع اس کے ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اس کے سائنس دانوں اور انجینئروں کی طاقت میں ہے۔“ پوری دنیا میں لڑی جانے والی جنگوں نے یہ بات سچ ثابت کر دی ہے۔ اب جنگی عزائم لیبارٹریز میں جنم لیتے ہیں اور قوموں کی حریت اور قوت کا مظاہرہ ٹیکنالوجی سے ہوتا ہے۔ کاروبار نئے علوم سے چمکتے ہیں اور قومیں انھیں علوم پر فخر کرتی ہیں۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں اپنے علوم کی تجارت کرتی ہیں اور اپنی دریافتوں اور ایجادات فروخت کر کے آگے بڑھتی ہیں۔
یہ انسٹی ٹیوٹ پاکستان میں سائنسی خود انحصاری کی نئی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہے، پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے نوجوان سائنس دانوں کو تحقیق، ایجاد اور صنعتی شراکت داریوں کے مواقع فراہم کرے۔ یہ ادارہ نہ صرف اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا بلکہ نئی ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال کے ذریعے قومی معیشت میں حقیقی قدر کا اضافہ بھی کرے گا۔
ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف میٹریل سائنسز کا قیام پاکستان کے تعلیمی اور تحقیقی مستقبل کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ اگر اس وژن کو تسلسل، فنڈنگ اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ ادارہ نہ صرف مقامی سطح پر تحقیق کا محور بن سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے علمی وقار کو بھی بلند کر سکتا ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے سائنسی ورثے کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو علم و تحقیق کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں بھی اس عزم میں شریک ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر کن باتوں کو توجہ دینی ہے اور کن کاموں کو ملک و قوم کے لیے پیش کرنا ہے۔ انہی باتوں سے قوم کی نظریاتی تربیت ہوتی ہے اور لوگوں کے رویے پختہ ہوتے ہیں۔