Wed, September 16, 2026

 نئی حج پالیسی کا اعلان، عازمین کے لیے سہولیات اور شفاف نظام پر زور

 نئی حج پالیسی کا اعلان، عازمین کے لیے سہولیات اور شفاف نظام پر زور

اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج پالیسی 2027 تا 2030 کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت حج انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نئی حج پالیسی سعودی ویژن 2030، عالمی معیار اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ سرکاری حج اسکیم کے لیے 60 فیصد جبکہ نجی حج اسکیم کے لیے 40 فیصد کوٹہ برقرار رکھا گیا ہے۔

سردار محمد یوسف نے بتایا کہ پہلی مرتبہ چار سالہ رجسٹریشن، ویٹنگ لسٹ، ڈیجیٹل شکایات نظام، لازمی حج ایپ اور "پہلے آئیے، پہلے پائیے" کی بنیاد پر انتخاب کا طریقہ شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حج اخراجات کا تخمینہ 12 سے 13 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، تاہم حتمی رقم میں کمی بیشی ممکن ہے۔ عازمین سے وصول کی گئی رقم میں سے واجبات کی ادائیگی کے بعد بچنے والی رقم واپس کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے، جبکہ نجی حج آپریٹرز کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ عازمین کی تربیت کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور حج محافظ اسکیم بھی جاری رہے گی۔

وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے کہا کہ حج درخواستوں کی وصولی آئندہ 10 سے 15 دن میں شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت عازمین سے واجبات دو اقساط میں وصول کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں حج انتظامات میں کوتاہی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، ذمہ دار حج کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا جبکہ معاہدے پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے معاملات ایف آئی اے کو بھجوائے گئے ہیں۔

ٹیگز: