پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ناران، کاغان، جھیل سیف الملوک اور دیگر مشہور سیاحتی مقامات پر جانے کے لیے انٹری فیس ادا کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اب سیاحوں کو کاغان ویلی اور متعلقہ علاقوں میں داخل ہونے سے پہلے انٹری فیس جمع کرنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے حسام آباد کے مقام پر ایک فیس وصولی پوائنٹ قائم کیا جائے گا، جہاں بڑی گاڑیوں سے 200 روپے، چھوٹی گاڑیوں سے 100 روپے اور موٹر سائیکلوں سے 20 روپے وصول کیے جائیں گے۔
حکومت کے اس فیصلے پر صارفین کی بڑی تعداد نے تنقید کی ہے۔ ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "اب سانس لینے پر بھی ٹیکس لگ جائے گا، اب کچھ بچا ہی نہیں"، جبکہ لائبہ عدنان نے پیش گوئی کی کہ "آئندہ سال ان مقامات پر جانے کے لیے ویزہ لگوانا پڑے گا۔"
دستاویزات کے مطابق، انٹری فیس کا فیصلہ بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بڑھانا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے حکومت کو ماہانہ لاکھوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی، تاہم مقامی افراد کو اس فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔