Wed, September 16, 2026

پالیسی ریٹ میں کمی کی ضرورت

پالیسی ریٹ میں کمی کی ضرورت

پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور معاشی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ مہنگائی، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل نے کاروباری سرگرمیوں کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ان حالات میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے تحت جو بلند شرح سود برقرار رکھی گئی ہے، وہ نجی شعبے بالخصوص صنعت و تجارت کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کم از کم 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جانی چاہیے، کیونکہ اس وقت نہ صرف اس کی گنجائش موجود ہے بلکہ یہ قومی معیشت کی ضرورت بھی ہے۔
اگر ہم پاکستان کا موازنہ خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک سے کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ ہمارا پالیسی ریٹ غیر معمولی طور پر بلند سطح پر قائم ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک میں پالیسی ریٹس ہمارے مقابلے میں خاصے کم ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ براہِ راست اس کا اثر معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر پڑتا ہے۔ بلند شرح سود کی وجہ سے نجی شعبے کو قرض لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی توسیع، نئی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع رک جاتی ہے۔
پالیسی ریٹ کا براہِ راست اثر کاروباری لاگت پر پڑتا ہے۔ بینکوں سے لیا جانے والا ہر قرض اس شرح پر مہنگا ہوتا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھے گی تو یا تو کاروبار بند ہوں گے، یا اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اس بوجھ کو صارفین تک منتقل کیا جائے گا، جو مزید مہنگائی کو جنم دے گا۔ اس چکر سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ سٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کرے تاکہ نجی شعبے کو سہولت ملے، سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں روپے کی قدر میں استحکام دیکھنے کو ملا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں آ رہا ہے۔ برآمدات میں کچھ بہتری، درآمدات پر کنٹرول اور بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافے نے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنایا ہے۔ ان تمام مثبت اشاریوں کے باوجود اگر پالیسی ریٹ میں کمی نہ کی گئی تو یہ بہتری صرف کاغذوں تک محدود رہے گی اور معیشت کی حقیقی بحالی ممکن نہ ہو پائے گی۔
سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ بنیادی اور مجموعی دونوں اقسام کی مہنگائی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے، اور بیس ایفیکٹ کا دباؤ بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایسے میں جب اشیائے خور و نوش، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں معمول پر آ رہی ہیں، تو شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔
حقیقی پالیسی ریٹ(Real Interest Rate)  اس وقت مثبت ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی موجودہ شرح سود کاروبار کے لیے بھاری ہے۔ اس صورت میں مانیٹری پالیسی میں مرحلہ وار، محتاط مگر واضح کمی کی گنجائش موجود ہے۔ یہ نرمی کاروباری طبقے کے اعتماد کو بحال کرے گی، جس کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ 
ایک تاجر ہونے کے ناتے ہم زمینی حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب کاروبار پر لاگت کا دباؤ بڑھتا ہے، تو وہ یا تو سکڑ جاتے ہیں یا غیر رسمی معیشت کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف حکومت کا ریونیو کم ہوتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ بلند پالیسی ریٹ، کمزور طلب اور محدود مالیاتی سہولیات اس وقت ہماری معیشت کی بنیادی رکاوٹیں بن چکی ہیں۔ حکومتی اعتماد کا دار و مدار کاروباری اعتماد پر ہے، حکومت جتنا بھی معاشی بحالی کا دعویٰ کرے، جب تک کاروباری طبقہ مطمئن نہیں ہو گا، کوئی بھی دعویٰ زمینی حقیقت پر پورا نہیں اترتا۔ آج معیشت کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ کاروباری طبقے کو ایک واضح اور پُراعتماد پیغام دیا جائے کہ حکومت اور سٹیٹ بینک معیشت کی بحالی میں سنجیدہ ہیں اور یہ پیغام سب سے مؤثر طریقے سے پالیسی ریٹ میں کمی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
اگلا مانیٹری پالیسی اجلاس ایک سنہری موقع ہے کہ سٹیٹ بینک اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ اگر 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جاتی ہے تو یہ ایک آغاز ہو گا۔ پالیسی سازوں کو ایک واضح حکمت عملی اپنانی چاہیے جس میں شرح سود کو بتدریج نیچے لایا جائے تاکہ کاروباری لاگت میں کمی آئے، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور صارفین کی قوت خرید بحال ہو۔
آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں درست فیصلے معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں، اور غلط فیصلے اسے مزید گہرائی میں دھکیل سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے پاس یہ اختیار اور موقع دونوں موجود ہیں کہ وہ پالیسی ریٹ میں کمی کر کے کاروباری برادری اور عوام دونوں کو ریلیف فراہم کرے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی معاشی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرے گی، تاکہ پاکستان کی معیشت بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

ٹیگز: