Wed, September 16, 2026

"انسانی جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دوں گی"، لاہور سانحے پر مریم نواز کاشدید اظہار برہمی، ڈی سی لاہور عہدےسے فارغ ، متعدد ذمہ داران سلاخوں کے پیچھے

لاہور: بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کی کھلے مین ہول میں ڈوب کر ہلاکت نے پوری پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جہاں ڈی سی لاہور کو عہدے سے ہٹا دیا، وہیں پراجیکٹ سے وابستہ تین اعلیٰ افسران کو بھی ہتھکڑیاں لگوا دیں۔
اعلیٰ سطح اجلاس میں پیش کی گئی بریفنگ کے مطابق، جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا وہاں تعمیراتی کام تو جاری تھا لیکن حفاظتی رکاوٹیں (Barricades) سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔ ماں اور بیٹی اندھیرے میں راستہ نہ دیکھ سکیں اور رکشے پر سوار ہوتے ہوئے سیدھی موت کے کنویں میں جا گریں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ جائے وقوعہ پر موجود تمام عملہ اس مجرمانہ لاپروائی کا ذمہ دار ہے۔
مریم نواز نے پولیس کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کی بیوی اور بچی  جان کی بازی ہار گئی ، اسے تسلی دینے کے بجائے تھانے میں بند کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میاں بیوی کے تعلقات جیسے بھی ہوں، اس کا انتظامیہ کی غفلت سے کوئی لینا دینا نہیں۔
وزیراعلیٰ کے حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو نااہلی کی بنیاد پر فارغ کر دیا گیا۔ پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ مریم نواز نے کمشنر، اے سی، ایل ڈی اے اور واسا حکام کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر مجرمانہ غفلت ہوئی ہے اور کوئی بھی جوابدہی سے بچ نہیں پائے گا۔
مریم نواز نے کہاکہ  پنجاب میں ایک ایک جان قیمتی ہے، چاہے وہ انسان ہو یا جانور۔ انتظامیہ کی سستی نے دو زندگیوں کے چراغ گل کر دیے، میں خود کو بھی اس کا جوابدہ سمجھتی ہوں۔

ٹیگز: