Wed, September 16, 2026

پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، بھارت کو خوف 

پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، بھارت کو خوف 


گزشتہ ہفتے اعلان کردہ ایک تاریخی سفارتی اقدام میں، پاکستان نے باضابطہ طور پر نو تشکیل شدہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی جس کا مقصد تنازعات سے متاثرہ علاقوں، خاص طور پر غزہ میں پائیدار امن اور تعمیر نو کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وفاقی کابینہ کی جانب سے اس کی توثیق اور وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کئے مئی میں بھارتی جھوٹ اور مکاری ، توسیع پسندآنہ پالیسی دنیا کو عیاں ہوگئی ہیں اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے عروج پرہے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو باور کرایا جائے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اسکی کامیاب خارجہ پالیسی کا مقصد عالمی تنازعات حل کرنے میں اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھناہے ، صدر ٹرمپ کی پاکستان کو اس میں شمولیت کی دعوت بھی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان ایک بہترین خارجہ پالیسی کا حامل ملک ہے اور خطہ سمیت دنیا بھرمیںامن کا خواہش مند ہے اور اسکی کوششیں دنیا کے علم میں ہیں اسکے پڑوس میں بیٹھا ملک بھارت نہ صرف علاقے میں بلکہ دنیا بھر میں اسوقت دہشت گرد کاروائیاں کررہا ہے جس وجہ سے وہ اس بورڈ میں شامل ہونے پر انکاری ہے ، جب امن بورڈ میں پاکستان کے عزیز ترین دوست موجود ہوں تو وہاں پاکستان کا ہونا لازمی ہے بورڈ میں ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی شامل ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے فریم ورک کے قیام کے نتیجہ میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کے قیام کی توقع ہے۔ ترجمان کے بقول القدس شریف آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو گا۔ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونا مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ فیصلہ ہے۔ یہ بورڈ غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیئے عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا۔ عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔بے شک پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں قیام امن کے لیئے ایک طویل انتظار کے بعد اس تاریخی موڑ پر عملی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر، اردن، امارات، انڈونیشیا، اور قطر سمیت کئی اہم اسلامی ممالک نے غزہ امن بورڈ کے قیام میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مسلمانوں کے درمیان اتحادِ کا مظہر ہے بلکہ اس سے فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کے حل کے لیے ایک نئی امید کا چراغ بھی روشن ہوتا نظر آ رہا ہے۔
اسلام آباد کا مقصد بین الاقوامی امن مذاکرات میں اپنی آواز کو تقویت دینا ہے اور سٹرٹیجک شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے جو اس کی وسیع تر خارجہ پالیسی کے مقاصد کو بنیاد بناتا ہے۔ ادھر بھارت کا پیس بورڈسے دم دبا کر بھاگ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پیس بورڈ میں اپنے ہم پیالہ ، ہم نوالہ دنیا کے دوسرے دہشت گرد ملک اسرائیل کے خلاف کیسے سنے ، بھارت از خود جب کشمیرمیں دہشت گردی کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے کل یہ سوال بھی پیس بورڈ میں ہوگا کہ بھارت کی دہشت گردی پر بھی کوئی فیصلہ ہو۔ نئی دہلی جان بوجھ کر ایک ایسے پلیٹ فارم سے گریز کر رہا ہے جو کشمیر میں اس کی پالیسیوں کو بے نقاب کر سکتا ہے، جہاں کئی دہائیوں سے جاری فوجی قبضے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اور اختلاف رائے کو دبانا بین الاقوامی فورمز پر پہلے ہی موجود ہیں ۔پیس بورڈ، جو شفافیت، انسانی امداد، اور تنازعات کے حل کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، ہندوستان کو اس کے داخلی اور علاقائی اقدامات کے بارے میں غیر آرام دہ سوالات کے جواب دینے پر مجبور کرے گا۔ کشمیر سے آگے، بھارت کو پڑوسی ممالک میں خفیہ کارروائیوں کے بار بار الزامات کا سامنا ہے، جس کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔نئی دہلی کہتی ہے کہ پیس بورڈ میں شمولیت اسکی آزاد خارجہ پالیسی کے خلاف ہے یہ بیان کسی مذاق سے کم نہیں اسطرح ہندوستان امن پالیسوں کے خلاف جاکر اپنے لئے تنہائی کا انتخاب کرچکا ہے - بامعنی سفارت کاری میں مشغول ہونے کے بجائے اپنی شبیہ کی حفاظت کرتا ہے۔ اسلئے پاکستان کو اب بین الاقوامی امن کے اقدامات میں ایک فعال ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس سے عالمی سطح پر اس کی خارجہ پالیسی کو تعریف ہورہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں پاکستان کو دنیا میں سنا جارہا ہے پیس بورڈ میں پاکستان کی موجودگی اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ بڑی طاقتیں تنازعات کے حل میں پاکستان کی رائے کو اہمیت دیتی ہیںیہ سب اسلئے ممکن ہے کہ اسوقت پاکستان کی سیاسی محب وطن جماعتیں ،اور ادارے ملک کی ترقی کیلئے ایک ساتھ کھڑے ہیں کہ بڑی طاقتیں تنازعات کے حل میں پاکستان کی رائے کو اہمیت دیتی ہیںاس یک جہتی کی وجہ سے پاکستان ایک مضبوط خارجہ پالیسی کا ملک بن چکا ہے امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کو فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت کرنے اور غزہ میں انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کی حکمت عملی تشکیل دینے کا براہ راست 
پلیٹ فارم ملاہے۔ یہ مسلم دنیا میں اس کی دیرینہ خارجہ پالیسی اور اخلاقی پوزیشن سے ہم آہنگ ہے۔نیز امن پسند ممالک کے ساتھ کھڑے ہوکر پاکستان کو امریکہ، خلیجی ممالک اور دیگر بااثر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی راستہ فراہم کرتا ہے ، جس سے مستقبل میں اقتصادی، فوجی اور سیاسی تعاون کے دروازے کھلتے ہیں۔ایک ذمہ دار اور امن پسند قوم کے طور پر پاکستان کے امیج کو تقویت ملی ہے، جس سے اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز میں اس کی ساکھ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے اذلی دشمن بھارت کا امن بورڈ میں شمولیت سے گریز پاکستان کا بیانہ کہ بھارت تو کہیں بھی امن کا خواہاں نہیں، اسے خوف ہو چلا ہے کہ اس امن بورڈ میں شامل بڑی طاقتیں اسے مجبور کرینگی کہ خطہ میں اپنی دہشت گرد پالیسوںکو لگام دے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے سیاسی و عسکری ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے، قوم نے بڑے بحرانوں پر قابو پایا۔ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ تیزی، مسلم ممالک اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ روابط، اور پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے سنا جانا اسی یکجہتی کا ثمر دکھائی دیتا ہے بڑی طاقت امریکہ اس امن بورڈ میں اپنے حالیہ بیانئے پر قائم رہے تو دنیا میںامن نہ ہو اس پر کوئی دورائے نہیں۔

ٹیگز: