لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد اور پی ٹی آئی کے رویوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں غیرقانونی تھیں اور کسی کو بھی اس کا حق نہیں کہ وہ اسمبلی کی حدود میں بغیر اجازت داخل ہو۔
ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کی کارروائی ہمیشہ قواعد کے مطابق ہوتی ہے اور اسمبلی کے تقدس کی حفاظت کے لیے سخت سکیورٹی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "پنجاب اسمبلی ایک جمہوری ادارہ ہے، اور اس کی حدود میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا بدنظمی برداشت نہیں کی جا سکتی۔"
انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت مقدس مقامات اور اسمبلی کی حدود کا احترام نہیں کرتی۔ سپیکر نے مزید کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اسمبلی کی عمارت میں آ کر اس کی توہین کرے اور اسے اپنے سیاسی حقوق کے طور پر پیش کرے۔
ملک محمد احمد خان نے 9 مئی کو ہونے والے حملوں کا ذکر کیا، جس میں فوجی تنصیبات اور سیاسی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، اور یہ ملکی سلامتی کے خلاف تھا۔
آخر میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ اس واقعے کی حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کی سکیورٹی کی نگرانی سی سی ٹی وی سے کی جاتی ہے اور اسمبلی کی حدود کا احترام ہر شخص پر فرض ہے۔