Wed, September 16, 2026

دور جاہلیت کی واپسی

دور جاہلیت کی واپسی


آدمی کا سارا تخلیقی وفور اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے جب نظر کے سامنے کوئی ایسا واقعہ ہو جیسا رائیونڈ کے قریب رونما ہوا۔ طبیعت پر بس دو ہی کیفیات غم اور غصے کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایسے واقعے پر بات کرنے کے لیے کوئی تمثیل سمجھ میں آتی ہے نہ تمہید۔
اچھا ہوا کہ واقعے کے ایک ہفتے کے اندر اندر قاتلوں کا قصہ بھی تمام ہوا۔غضب خدا کا دو جیتے جاگتے انسانوں کو کرکٹ کے بلے اور تکڑی کے باٹ مار مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا اور وہ بھی ایک جم غفیر کے سامنے۔ گویا ایک مقتل سجا تھا اور اس میں قاتل اور مقتول کے سوا باقی سب تماشائی تھے۔ کوئی بچانے والا تھا نہ کوئی مصالحت کار۔ کسی میں اتنا حوصلہ نہ تھا کہ آگے بڑھ کر بپھرے قاتلوں کا ہاتھ روک لے، قاتل اور مقتول کے درمیان حائل ہو کر مہلک وار ناکام بنا دے۔ دو اجنبی مسافر ایک وحشی جتھے کے رحم و کرم پر تھے اور اس جتھے میں رحم اور کرم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہ تو اچھا ہوا کہ سی سی ڈی نے ایک ہفتے کے اندر اندر ان قاتلوں کا قصہ بھی تمام کر دیا۔ کسی کے مرنے پر خوشی تو نہیں ہوتی لیکن دل کو یہ تسلی ضرور ہوئی ہے کہ مجرم اپنے انجام کو پہنچ گئے اور مظلوم خاندان کو انصاف مل گیا ورنہ تو ہماری عدالتوں میں قتل کے مقدمات برسوں لٹکتے رہا کرتے ہیں اور مظلوم ظلم کی چکی میں مسلسل پستا رہتا ہے۔
رائیونڈ واقعے میں معاشرے کا ایسا رخ ہی نظر آیا جس کا نقشہ مولانا حالی نے اپنی مسدس میں کھینچا ہے۔ ایک شعر ملاحظہ کیجیے۔ 
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
اس واقعے کے یوں تو بہت سے پہلو ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے لیکن ان تمام پہلوو¿ں پر کئی روز سے سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کہہ رہا ہے۔ کوئی اسے صرف تیس روپے پر ہونے والا جھگڑا قرار دے رہا ہے تو کوئی انسانی جان کی قیمت پندرہ روپے بتا رہا ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ 
یہ ریاست کی بے حسی کا نتیجہ ہے تو کوئی اسے غربت کا شاخسانہ کے عنوان سے یاد کر رہا ہے۔ کسی اور کی نظر میں یہ واقعہ تعلیم و تربیت کی کمی کے باعث ہوا تو کوئی قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا پھل قرار دے رہا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
اس تحریر میں صرف ایک پہلو کا ذکر کرنا مقصود ہے اور وہ ہے زبان کا استعمال۔ ہم لوگ زبان کے استعمال کے حوالے سے بہت غیر محتاط ہیں۔ گو یہ طرز عمل ہمیشہ سے تھا لیکن گزشتہ دس بارہ سال سے یہ چلن بہت عام ہو گیا ہے۔ سیاسی ماحول میں کشیدگی نے اس رویے کو بہت زیادہ فروغ دیا ہے۔ سوشل میڈیا سے ایسے طرز تکلم میں بہت زیادہ شدت آئی ہے۔ آج کسی سیاسی پوسٹ کو دیکھ لیں۔ اس پر بحث مباحثے کے دوران ہر شخص دوسرے کو گالیاں دیتا نظر آئے گا۔ یہی رویہ ہماری عام زندگی میں بھی سرایت کر گیا ہے۔
رائیونڈ کے واقعے میں قاتلوں اور مقتولین کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب مسلمان تھے اور سب کا تعلق پنجاب سے تھا۔ پنجاب میں بعض لوگ بہت فخر سے کہتے ہیں کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے حالانکہ یہ بات فخر نہیں ندامت کا باعث ہونی چاہیے۔ ہم نے تو مقدس ترین رشتوں کو بھی سب و شتم میں بدل دیا ہے۔ ماں اور بہن کی گالیاں تو پہلے ہی عام تھیں۔ اب تو باپ، دادا، ماموں، چچا، پھوپھی، نانی، بہنوئی اور سالے جیسے الفاظ بھی تواتر سے دشنام طرازی کا حصہ بننے لگے ہیں۔ 
اسلام سمیت تمام مذاہب نے اخلاقیات پر بہت زور دیا ہے۔ سب نے گالی سے اجتناب کی تعلیم اور زبان کے محتاط استعمال کی ترغیب دی ہے۔ زبان کے استعمال کے حوالے سے اہل دانش کے بہت سے اقوال ہمیشہ سے مدارس میں پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زبان ہی انسان کو بلندی پر پہنچاتی ہے اور یہی پستی میں لے جاتی ہے۔ مذہب اسلام تو اس پہلو پر اور بھی زیادہ زور دیتا ہے۔ قران کریم کی سورہ لقمان میں لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیٹا اپنی آواز کو دھیما رکھو کیونکہ آوازوں میں سب سے بری گدھے کی آواز ہے یعنی گدھے کی طرح اونچا بولنے سے منع کیا گیا ہے۔ سورہ مومنون میں کہا گیا ہے کہ جب جاہل تم سے مخاطب ہوں تو انھیں سلام کہو۔ یعنی اپنا راستہ بدل لو۔ قرآن میں اور بھی کئی مقامات پر ایسی نصیحتیں موجود ہیں۔ رسولِ کریم کی حدیث ہے کہ مجھے اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ عمدہ اخلاق کی تکمیل کروں۔ آپ نے اپنی زبان اور عمل سے ہمیشہ اچھے اخلاق کی تعلیم دی۔
رائیونڈ کا واقعہ کیلے خریدنے یا پیسوں میں کمی بیشی کا جھگڑا نہیں، عدم برداشت اور زبان کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایک فریق نے گالی دی جس پر دوسرا فریق مشتعل ہوا اور یہی بات جھگڑے کی بنیاد بنی جو صرف دو زندگیوں کے خاتمے پر نہیں بلکہ چار افراد کی موت اور دو خاندانوں کی تباہی پر منتج ہوئی۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کوئی شخص جب اپنے گھر، اپنے علاقے اور اپنے گاو¿ں یا شہر سے کہیں دور جائے تو بہت زیادہ احتیاط کرے۔ کسی بھی بات پر بحث مباحثے سے گریز کرے، لڑائی جھگڑے والی جگہ سے دور رہے کیونکہ جھگڑے کی صورت میں مقامی لوگوں کی حمایت میں تو کوئی نہ کوئی سینہ تان کر آگے آجاتا ہے لیکن اجنبی کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا چاہے وہ حق پر بھی ہو۔ اس کی خس و خاشاک کے تنکے جتنی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ صوفی بزرگ سلطان باہو کا یہ شعر تو سب نے سن رکھا ہوگا:
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے
ککھ جِنھاں تھیں بھارے ہ±و!! 
ہمیں عام زندگی میں بھی گالی گلوچ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہنسی مذاق میں بھی کسی کو گالی نہیں دینی چاہیے کیونکہ اس سے بہر صورت شکر رنجی جنم لیتی ہے جو کسی افسوس ناک واقعے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں اس قسم کے منفی رویوں کو پنپنے سے روکنا ہو گا ورنہ دورِ جاہلیت کی واپسی زیادہ د±ور نہیں۔

ٹیگز: