چناب، ستلج اور راوی بپھرے ہوئے ہیں۔پنجاب مکمل طور پر خطرے میں گھرا ہوا ہے۔ ہم اس آفت کا شکار کیوں ہوئے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ ہندوستان کا کیا دھرا ہے؟ کیا یہ سب کچھ ہندوستان کی آبی جارحیت کے باعث ہوا ہے کہ اس نے اپنے ڈیموں کے دروازے کھول کر پانی ہماری طرف چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث ہماری طرف بہتے پانیوں نے سیلابی ریلوں کی شکل اختیار کر کے ہمارے ہاں تباہی مچا رکھی ہے حالانکہ ہندوستان نے تو ہمیں یہ پانی روک کر ہمیں برباد کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن وہ پانی روک نہیں سکا کیونکہ پانی روکنا اس کے بس میں ہی نہیں رہا تھا۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے ہندوستان میں بہتے پانی میں طلاطم برپا ہوا۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے ایسا الٹ پلٹ کر دیا ہے کہ بارشیں توقع سے زیادہ ہو رہی ہیں۔ ایک طرف پگھلتے گلیشیئرز اور دوسری طرف برستی بارشیں مل جل کر ہندوستان کو بے بس کر دیا ہے۔ وہ ہمارا پانی روکنے سے عاجز آگیا ہے، اس کے ڈیم خطرناک حد تک بھر چکے ہیں، اس کے بیراجز خطرات میں گھر چکے ہیں، اس لئے اس نے اپنے نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے ڈیموں کے دروازے کھولنے شروع کر رکھے ہیں۔ بیراجوں سے پانی نکالا جا رہا ہے، ان کا رخ پاکستان کی طرف ہے، اس لئے پانی ریلوں کی شکل میں ہماری طرف پہنچ رہا ہے۔ ہمارا راوی جو ایک عرصے سے خشکی میں مبتلا ہو گیا تھا، بھر گیا ہے، خطرناک حد تک بھر گیا ہے۔ جاوید چودھری صاحب نے اپنے وی لاگ میں بتایا ہے کہ انہوں نے راوی کے پل پر لاہوریوں کو تماشبینوں کی طرح بپھرے راوی کے پانیوں سے کھیلتے دیکھا ہے یعنی پانی پلوں کو چھو رہا ہے۔ یہ خطرناک صورتحال ہے، پانی لاہور تک پہنچ چکا ہے۔ کناروں سے ابل رہا ہے، راوی کی پیاس بجھ ہی نہیں گئی ہے بلکہ وہ آپھرا ہوا نظر آرہا ہے، خطرناک حد تک بپھرا ہوا ہے۔ پانی چوہنگ میں داخل ہو چکا ہے، ممکن ہے جب یہ کالم چھپے تو مضافاتی رہائشی سکیموں میں بھی سیلابی ریلا داخل ہو چکا ہے۔ ہماری ایک اعلیٰ رہائشی سکیمیں راوی کے پاٹ میں قائم کی گئی ہیں۔ دریا کے راستے میں رہائشی کالونیوں کاقیام کیا ظاہر کرتا ہے؟ ذرا سوچیں۔ ایسا کرنا مجرمانہ حرکت نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ان بستیوں کے قیام کی اجازت کس نے دی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ویسے تو ہم نے شہر لاہور کو ہی رہائشی سکیمیں بنانے کے لئے اجاڑ دیا ہے۔ لاہور باغوں کا شہر تھا، خوبصورت ہرا بھرا قابل رہائشی شہر تھا۔ اس کے اردگرد باغات تھے۔ پھلوں کے باغ، پھولوں کے پلاٹ، سبز روشیں، مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو میں بسا ہوا شہر اب آہستہ آہستہ ناقابل رہائش ہوتا چلا گیا ہے۔ آلودگی کے اعتبار سے عالمی شہرت کا حامل بن گیا ہے۔ زیر زمین صاف پانی خاصا نیچے چلا گیا ہے۔ ہینڈپمپ کا شفاف پانی تو تاریخ کا حصہ بن گیا ہے، دیگر ذرائع سے حاصل کردہ پانی عام آدمی کی دسترس میں نہیں ہے۔ صاف پانی مہیا کرنے والی کمپنیاں عام سادہ پانی کو گھٹیا بوتلوں میں بھر کر دودھ کے بھاﺅ بیچتی ہیں۔ ویسے بوتلوں میں پانی کا استعمال ایک سماجی ایشو بھی بن چکا ہے، گلاسوں جگوں کی بجائے بوتلوں میں پانی پینا سٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شہر لاہور میں زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی پینے کے باعث پیدا ہو رہی ہیں۔ لاہور کو جدید شہر بنانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ سڑکیں ، پل، انڈرپاسز، اوورہیڈز، جدید بسیں، ریلیں اور نقل و حمل کے جدید ذرائع کی تعمیر و فراوانی کے ذریعے شہر لاہور بدل رہا ہے لیکن ایسا کرنے میں اس کا حسن شاید کھِل نہیں رہا ہے۔ سہولیات کی دستیابی درست اور احسن اقدامات ہیں لیکن ضروریات کی دستیابی اور ان کا حصول مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 45فیصد کے قریب آبادی خطِ غربت سے لڑھک گئی ہے۔ ذرائع آمدنی سکڑتے چلے جا رہ ہیں۔ شہر پھیل رہے ہیں، شہر لاہور پھیل رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ ہم نے دریائے راوی کا رخ بھی بدلنے کی کاوشیں کی ہیں، اس کے راستے میں ہاﺅسنگ کالونیاں کھڑی کر دی ہیں۔ آبادیاں بسا دی ہیں، فیکٹریاں قائم کر دی ہیں، گودام بنا دیئے ہیں۔ ہمیں یقین تھا کہ راوی اب قصہ پارینہ ہو جائے گا، اسی یقین کے تحت ہم نے اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں لیکن ہم دیکھ رہے کہ راوی بپھر رہا ہے۔ غصے میں ہے، اس کا پانی پلوں تک آن پہنچا ہے۔ آبادیوں کو روندتا ہوا وہ لاہور تک آن پہنچا ہے، غصے میں ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمیں یقینا سبق سکھائے گا۔ ویسے ہم بھی اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ ہم بھی ٹس سے مس نہیں ہونے والے ہیں۔ سیلاب گزر جائے گا، تباہی قصہ پارینہ بن جائے گی۔ ہم پہلے کی طرح کشکول اٹھائے ملک ملک پھرنا شروع کر دیں گے کہ ہماری مدد کرو۔ ویسے ہمارے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جو ترلا منت کرنے اور امداد حاصل کرنے میں یہ طولیٰ رکھتے ہیں۔ اقوام عالم سے مخاطب ہو کر کہہ دیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہو چکا ہے، اس لئے اس کی مدد کی جائے۔ ہمارا قومی کردار یہی ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اقوام کی زکوٰة و خیرات پر جیتے رہے ہیں۔ ویسے ایٹمی طاقت بننے سے پہلے بھی ہمارا وطیرہ کچھ ایسا ہی تھا، ہم مدد اور امداد کے طالب رہے ہیں۔ اقوام عالم ہمیں دل کھول کر امداد دیتے رہے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے اس امداد سے معاملات کا مداوہ کرنے کی کوشش کی؟ ہم نے کبھی معاملات کا مقابلہ کرنے کی پلاننگ کی؟ حاصل کردہ امدد کا منصفانہ استعمال کرنے کی کوشش کی؟ اس کا جواب نفی میں آئے گا۔ ہم نے وصول کردہ رقوم کو پتہ نہیں کہاں اور کیسے خرچ کیا۔ ویسے ہم نے ابھی سے نقصانات کی لسٹیں بنانا شروع کر دی ہیں، یہ اس لئے نہیں ہے کہ ہم آئندہ نقصانات سے بچنے کے لئے کوئی منصوبہ سازی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس لسٹ کو دکھا کر ہم اپنی قومی
مظلومیت کا رونا روئیں گے اور امداد دینے والوں کو زیادہ سے زیادہ متاثر کرنے میں کامیاب ہوں گے، اس طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ امداد و خیرات ملے گی۔ ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ ہمارے خزانے بھریں گے، ہمیں خرچ کرنے میں آسانی ہو گی۔ کچھ متاثرین کی امداد بھی ہو جائے گی۔ انتظامیہ کے لوگ بھی آسودہ حال ہو جائیں گے۔ کچھ لوگوں کے اکاﺅنٹس بھی بھریں گے پھر سب کچھ قصہ پارینہ ہو جائے گا۔ ہم معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اللہ خیر صلا۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دھرائے گی ضرور لیکن ایسی صورتحال زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔ اطلاعات ہیں کہ اگلے سال موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ خوفناک صورت اختیار کرنے جا رہی ہیں۔ زیادہ پگھلاﺅ، زیادہ بارشیں، خوفناک سیلاب، اس دفعہ تباہی و بربادی کا حجم ہماری توقعات سے زیادہ ہو سکتا ہے لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہونے والے ہیں۔