Wed, September 16, 2026

سعودی عرب فلسطینیوں کی خودمختاری کے لیے ہر ممکن مدد کرے گا:عادل الجبیر

 سعودی عرب فلسطینیوں کی خودمختاری کے لیے ہر ممکن مدد کرے گا:عادل الجبیر

بغداد: سعودی عرب نے غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عرب لیگ کے بغداد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں کیے جانے والے جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

عادل الجبیر نے کہا، "ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینی عوام کے مسائل کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔"

انہوں نے سعودی عرب کے مؤقف کو دہراتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے خلاف سعودی عرب کی پوزیشن کو واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کسی بھی ایسے حل یا تجویز کو مسترد کرتا ہے جو فلسطینی قوم کے جائز حقوق، آزادی اور خود مختاری کے خلاف ہو، جن میں 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنا ضروری ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا نے اطلاع دی کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ سے 10 لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر لیبیا منتقل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ایک سابق امریکی عہدے دار کے مطابق، امریکا نے اس منصوبے پر لیبیا کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ  فلسطینیوں کی آبادکاری کے بدلے، ٹرمپ انتظامیہ لیبیا کے منجمد اربوں ڈالر کو بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ٹیگز: