Wed, September 16, 2026

نیازی، ’’را‘‘ اور بھارت کی دہشت گردانہ تثلیث

نیازی، ’’را‘‘ اور بھارت کی دہشت گردانہ تثلیث

دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی بربادی اور ہٹلر کی شکست و ریخت نے مجھے ہمیشہ حیران رکھا کہ ایک بڑی قوم کیسے برباد ہو گئی ۔ اتنی تیاری اور قومیت کے اتنے بڑے نعرے کے باوجود شکست جرمنی کا مقدر بنی ۔ جرمنی تقسیم ہوا اور پھر جرمنی نے نئے سرے سے ٗ نئے عزم کے ساتھ جرمنی کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا ۔آ ج ہٹلر سے نفرت کرنے والے جرمنوں کی تعداد اُس کے حمایتیوں سے کہیں زیاد ہ ہے ۔یہ حالات سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ یہ ضدی ہٹلر تھا جس نے دنیا کوخون اور آگ میں جھونکا ٗ بربریت کی نئی تاریخ لکھی اور جرمن قوم کو بھی لے ڈوبا ۔جرمنی کے جھانسے میں موجود جرمنوں کے باپ دادا آگئے تھے لیکن شکست کے بعد انہوں نے طے کرلیا کہ آئندہ غیر جرمن کبھی جرمنی کا حکمران نہیں ہو گا ۔معرکہ حق سے پہلے میں نے بارہا لکھا کہ عمران نیازی کی عقل داڑھ دہلی میں ’’ را‘‘ ہید آفس میں اُگی ہوئی ہے جس کو ’’را‘‘ چیف پراگ جین سینچ رہا ہے ۔پاکستان کی فتح کے بعد دنیا بھر سے ملنے والی مبارک بادوں اور اعترافات نے مودی حکومت کے گراف کو تحت الثریٰ میں دفن کردیا تھا لیکن دنیا میں صرف ایک سیاسی تنظیم تھی جو بھارتی سرکار کی شکست میں اٹھائی ہز یمت کواپنے ناپاک پروپیگنڈا سے چھپانے کی ناکا م کوشش کر رہی تھی ۔ تحریک انصاف کا بیانیہ سمجھنے کیلئے لازمی نہیں کہ آپ سقراط یا ارسطو ہوںصرف سوشل میڈیا حب الوطنی سے سٹدی کرلیں تو آپ کو معلوم پڑ جائے گا کہ بھارت اور پی ٹی آئی کا بیانیہ تو چھوڑیں الفاظ و لب و لہجہ بھی ایک دوسرے کا حمایتی ہونے کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے ۔ یا د رکھیں کسی واقعہ یا سانحہ کا ایک بار رونما ہونا اتفاق اور بار بار ہونا سائنس کہلاتا ہے اور پاکستان کو سائنسی بنیادوں پر توڑنے کی کوشش پاکستان سے باہر بیٹھ کر کی جارہی ہے لیکن اُس کے تانے بانے اڈیالہ تک لازمی جاتے ہیں ۔ کل تک عمران نیازی اپنی تقاریر میں مجیب الرحمان بننے کی دھمکیاں دیتا تھا تو کیا آج سمجھ لیا جائے کہ وہ مکمل مجیب الرحمان بن کر پاکستانی اداروں کے سامنے کھڑا ہے ؟کیا الزام تراشی کی ایسی سیاست پاکستان میں کبھی کسی نے اس سے پہلے کی ؟میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ عمران نیازی ایک بے رحم انسان ہے اور بے رحم کی ایک خوبی تو بہرحال ہوتی ہے کہ وہ سب کیلئے یکساں بے رحم ہوتا ہے ٗ کیا وطن ٗ کیا ادارے ٗ کیا آئین اور کیا دین ؟اُس کے نزدیک صرف بیرونی آقائوں کا ایجنڈا ہوتا ہے جو ہمیں اس وقت تو نظر آ رہا ہے ۔میں نے اپنی زندگی بھر کی سیاست میں گندگی کا ایسا ڈھیر نہیں دیکھا جس کے نزدیک کچھ بھی اہم نہیں ٗ جو الزام تراشی میں میکاولی اورکوتلیا چانکیا کا بھی باپ ہے اور منہ پر جھوٹ بولنے ٗ اپنے وعدوں سے انخراف ٗ اقتدار کی ہوس ٗ دوست ممالک سے دشمنی ٗ کرپشن کی انتہا ٗ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کی زندہ مثال ہے ۔وہ اقتدار میں ہو تو دنیا میں کچھ بُرا نہیں ہو رہا ہوتا ٗ پھر فوج بھی بہترین ہے اور عدلیہ بھی ’’گڈٹو سی یو ‘‘والی ہوتی ہے ۔سی پیک بند بھی ہو تو خیر ہے اور سعودی اپنا طیارہ واپس بلاوا لیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ٗ اقتدار ہو تو امریکہ دوست ہے اور اقتدار سے باہر ہو تو امریکہ سازشی ہے ۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ آرمی چیف باپ ہوا کرتا تھا ٗ جمہوریت پسند تھا ٗ وزیر اعظم کی مدد کیا کرتا تھا اور پھر پاکستان میں پہلی بار عدم ِ اعتماد ہوا تو آرمی چیف میر جعفر ہو گیا ٗ فوج ڈرٹی ہیر ی ہو گئی ۔ عمران نیازی نے 9 مئی کے فورا بعد کہا تھا جب لوگوں کو معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا ہے تو پھر لوگوں نے وہیں جانا تھا ٗ ڈاکٹر یاسمین راشد کا ویڈیو کلپ پڑا ہے جس میں وہ کور کمانڈر ہائوس حملے کی سپہ سالار ی کر رہی تھی ٗ کور کمانڈر ہائوس کے باہر کھڑا ایک چہرہ بھی ایسا نہیں تھا جسے میں نہ جانتا ہوں ۔ ناموں ٗ پتوں اور پی ٹی آئی میں سیاسی خدمات کے حوالے سے لیکن کذاب نیازی اس بدترین دہشتگردی کو فوج کا فالس فلیگ کہہ کر ایک بار پھر بھارتی اور اسرائیل آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے ۔کاش ! عدلیہ نے فارن فنڈنگ کے حقائق عوام کے سامنے آبرو مندآنہ طریقے سے رکھے ہوتے تو اب تک بھارت اور اسرائیلی فانسر بھی سامنے آگئے ہوتے ۔نوجوان کسی بھی قوم کاسرمایہ ہوتے ہیں لیکن جب بانی چیئرمین اپنے سازشی ذہن سے انہیں اداروں کیخلاف ورغلاتے ہوئے جمہوری حکومت کو ڈکیٹیٹرٗ عدالتی نظام کو غلام اورمیڈیا کو خاموش تماشائی قرار دیتا ہے تو اس کا مقصدپاکستان کے 64% سے زائد نوجوانوں کوسیاسی طالبان یا خوارج بنانے کی سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔پاکستان کسی بھی داخلی تقسیم کا شکار نہیں لیکن جب آپ کے منہ میں بھارت کی زبان ہو گی تو پھر آپ کو جو تحریری طور پر ملتا ہے وہی آپ کا بیانیہ ہوتا ہے ۔ بانی کا اگرکوئی مفاد ریاست ِ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ہے تو وہ صرف اور صرف ذاتی مفاد ہے اوراپنے ذاتی مفاد کیلئے وہ عورتوں اور بچوں ٗ کسی کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کر رہا جو بدترین اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے کہ غیرت مند لوگ ہمیشہ بچوں اورعورتوں کو لڑائی میں نہیں گھسیٹتے ۔ کشمیری ہونے کے ناطے جس دن بھارت نے کشمیر کو ریاستِ پاکستان میں ضم کیا وہ میرے لئے کسی المیے سے کم نہیں تھا کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی ِ کشمیر کیلئے قربان ہو چکے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی نے انتہائی بزدلی سے کشمیر کے معاملے پر زبان تک نہ کھلی اور دیکھتے دیکھتے ایک عذاب کشمیریوں پر نازل ہو گیا ۔پاکستانیوں کی اکثریت عمران نیازی کے خطرناک 
عزائم کو جان چکی اور جن کو ابھی نہیں معلوم وہ بھی جلد سمجھ جائیں گے کہ ریاست کی سالمیت اورخود مختاری پر حملہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔معرکہ ء حق نے پاکستان کے دوست اوردشمن الگ الگ کردیئے ہیں۔ اب بھارتی ایجنڈے کو پاکستان سے کوئی بھی مدد نہیں ملنے والی کیونکہ پاکستان کے عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ’’ نئے معاہدہ عمرانی ‘‘ کے خدو حال اُس کی سیاست اور طرز سیاست میں دیکھ چکے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ بانی کا ویژن میرے روم ٹمپرچر سے بھی نیچے ہے جہا ں وہ اقتدار کی ہوس میں سفید اور سیاہ میں بھی تمیز بھول چکا ہے ۔جہاں ابھی صرف نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے علاوہ اور کوئی ایجنڈہ باقی نہیں بچا ۔ مہذب شہری ہمیشہ اپنے اداروں پر انحصار کرتے ہیں سو نیازی ٗ بھارت اور را کی اِس تثلیث کو پاکستان میں کھلی چھوٹ دینا آنے والی نسلوںاور پاکستان کے مستقبل سے زیادتی ہو گی ۔ بانی پی ٹی آئی کو عوام خود مسترد کردیں گے اگر موجودہ حکومت عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکال دیں تو۔

ٹیگز: