Wed, September 16, 2026

جھوٹی درخواست : زندگی کے 35دن ضائع ہونے کا کون ذمہ دار

جھوٹی درخواست : زندگی کے 35دن ضائع ہونے کا کون ذمہ دار

میں بیرون ملک تھا جب مجھے ایک فون کال موصول ہوئی کہ جناب آپ کے خلاف ایک درخواست آئی ہے، آپ صبح دو بجے تھانے میں پیش ہو جائیں۔ میں نے پوچھا کہ کون سی درخواست ہے اور کس نے دی ہے، مگر جواب ملا کہ یہ بتانے کا حکم نہیں، آپ صرف پیش ہو جائیں۔ پھر فون بند کر دیا گیا۔ میں نے بار بار اس نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے فون نہ اٹھایا۔میں نے لاہور میں اپنے منیجر کو فون کیا اور کہا کہ جا کر معلوم کرو کہ معاملہ کیا ہے۔ وہاں سے جواب آیا کہ متعلقہ ملزم خود پیش ہوں ، پھر سب بتایا جائے گا۔ میرے منیجر نے کہا کہ آپ کم از کم درخواست کی نوعیت تو بتا دیں، مگر انہیں کچھ نہ بتایا گیا۔ انہوں نے مینجر سے پاور آف اٹارنی بھی مانگی، حالانکہ وہ صرف معلومات لینے گیا تھا۔اس صورتحال نے مجھے شدید ذہنی دباو¿ میں مبتلا کر دیا۔ میں فیلڈ مارشل ، میاں نواز شریف اور لگ بھگ پچھلے تمام وزرائے اعظم سے ملتا رہا ہوں۔مسلم لیگ کا عہدیدار اور چیمبر آف کامرس کے بورڈ آف ڈائریکٹر میںرہا ہوں، سماج میں ایک مقام ہے ۔مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میرے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور شاید میرے نام پر ایف آئی آر درج کر دی جائے گی۔ میں نے کئی دن سخت پریشانی میں گزارے۔ میں نے ایک وکیل دوست سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ وہ تین چار بار تھانے گیا مگر متعلقہ افسر سے ملاقات نہ ہو سکی۔پانچ چھ دن بعد جا کر پتا چلا کہ ایک درخواست موجود ہے۔ اس درخواست میں لکھا تھا کہ سنہ 2020 میں ہمارا کسی معاملے پر لین دین ہوا تھا، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ رقم لی گئی، اور اب اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مختلف تاریخیں بھی درج تھیں جن پر مبینہ دھمکیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔جب اس درخواست کی نقل مجھے ملی تو کچھ اطمینان ہوا۔ میں نے سوچا کہ متعلقہ حکام کے پاس جا کر وضاحت دے دوں گا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جس میں حقیقت چھپائی گئی اور غیر ضروری خوف پیدا کیا گیا۔وطن واپسی پر میں ایک اعلیٰ افسر سے ملا۔ وہاں درخواست گزار خود پیش نہ ہوا بلکہ اس کا نمائندہ یا وکیل آیا۔ افسر نے سوال کیا کہ اگر سنہ 2020 میں کوئی معاہدہ ہوا تھا تو اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ آپ کے پاس کیا دستاویزات ہیں؟ ان کے پاس کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہ تھا، صرف ایک درخواست تھی۔افسر نے اسی وقت درخواست کو کمزور قرار دیا اور واضح کیا کہ بغیر ثبوت کسی پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ اس پر مجھے سکون ملا۔میں نے ایک جج صاحب سے بھی پوچھا کہ اگر کسی کے خلاف جھوٹی 
ایف آئی آر ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ پہلے ہی خوفزدہ ہوتے ہیں، اس لیے یا تو سمجھوتہ کر لیتے ہیں یا پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جبکہ جھوٹی درخواست دینے والے اکثر بااثر ہوتے ہیں۔میرا مو¿قف یہ ہے کہ جھوٹی درخواست دینے والوں کے خلاف بھی قانون ہونا چاہیے تاکہ کسی بے گناہ شخص کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جا سکے۔ اگر حکومت پاکستان ایسا قانون نہیں بناتی تو کم از کم مریم نواز کی صوبائی حکومت کو اس بارے میں قدم اٹھانا چاہیے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت اگر کوئی شخص جھوٹی اطلاع دے تاکہ پولیس یا دوسرا کوئی سرکاری اہلکار کسی شخص کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کرے، تو اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح دفعہ 211 کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر جھوٹا فوجداری الزام عائد کرے تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے، اور اگر الزام سنگین جرم کا ہو تو سزا سات سال تک ہو سکتی ہے۔ بظاہر یہ دفعات سخت معلوم ہوتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان پر عمل بھی ہوتا ہے؟ میں نے تو کبھی کارروائی ہوتے نہیں دیکھی۔آپ نے کبھی دیکھی ہو تو بتائیں۔ پولیس اکثر جھوٹا مقدمہ خارج تو کر دیتی ہے، مگر جھوٹا مقدمہ درج کرانے والے کے خلاف دفعہ 182 یا 211 کے تحت کارروائی کم ہی ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پولیس کو الگ تفتیش کرنا پڑتی ہے، شواہد اکٹھے کرنا پڑتے ہیں اور اکثر افسران اضافی کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ شریف شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں، گورنمنٹ کو بھی غلط راہ پر ڈالتے ہیں، صرف ایک درخواست دے کر ۔ ہمیں کوشش کے باوجود ایسا ڈیٹا نہیں ملا کہ جھوٹی درخواست دینے والے کسی شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہو۔
ہر شعبے میں کچھ گندے بندے ہوتے ہیں جن کو پتا ہوتا ہے کہ یہ جعلی کیس ہے۔ یہ مخالفین کو پھنساتے ہیں، کسی طرح دباو ڈالتے ہیں، یا پھر کاروباری افراد کو زچ کر کے رقم ہتھیاتے ہیں۔میرے معاملے میں، درخواست باز نے تھوڑی رقم خرچ کی ہوگی لیکن میری زندگی کے کئی دن پریشانی میں ضائع ہو گئے، تو میں کیا کروں، بتائیے؟ میں نے تھانے میں متعلقہ اہلکار سے پوچھا کہ حاجی صاحب، آپ نے مجھے فون کر کے کیوں ایسا کیا؟کہنے لگا، جی میں کیا کروں؟ میں نے کہا، میرا منیجر آیا آپ سے، میرا وکیل آیا، تھانے میں بات ہوئی، چھ دن گزر گئے، پھر چار دن اور گزر گئے۔ اوپر سے کچھ پیسے بھی دیے، مگر پھر بھی آپ نے درخواست کی تفصیل نہ بتائی۔پھر آپ نے بڑا مسئلہ بنا دیا، بڑا سین بنا دیا۔ لوگوں کو اسی طرح بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایک بندے کو پھنساتے ہیں، پھر ایک دو اور کو۔ یہ درخواست بازی مل ملا کر رچایا جانے والا کھیل ہے۔
جب میں نے اعلیٰ افسر سے بات کی تو انہوں نے یہی کہا کہ درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے، ہم اس کو منع نہیں کر سکتے۔ میری رائے یہ ہے کہ بھائی، درخواست دیتے ہوئے کچھ ڈاکومنٹس تو دے دو، کچھ پروف تو دے دو۔ اگر وہ سول کورٹ کا معاملہ بنتا ہے تو سول کورٹ میں چلے جاو¿۔ کیا ضرورت ہے بندے کو تھانے کے چکر لگوانے کی، اس کو ڈرانے کی، تنگ کرنے کی؟پولیس نے یہ نہیں دیکھاکہ بندے نے اتنی سی درخواست دی اور کسی مصروف آدمی کی زندگی کے اتنے دن ضائع ہو گئے۔ ایک لمبی کہانی ہے، جبکہ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارے خلاف درخواست کس نے دی۔کسی دوسرے ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ درخواست دینے والی پارٹی کو پتا ہوگا کہ بندہ باہر ہے، اس کو اس طرح ٹارگٹ کیا جائے، اس کا بزنس ٹور خراب کیا جائے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ درخواست باز ایک ڈویلپر ہے ،چکری راولپنڈی کے پاس ایک ہاوسنگ سوسائٹی بنائی، ہزاروں لوگوں کے پیسے لے کر ملک سے فرار ہو گیا۔
 ہر جگہ ، چھوٹے شہروں میں ایسے فارغ چوہدری ہوتے ہیں جو لوگوں کے خلاف جھوٹی درخواستیں دیتے ہیں، ان درخواستوں کی شنوائی ایس پی کے پاس ہوتی ہے۔یہ فارغ لوگ اسی طریقے سے دوسروں کا وقت ضائع کر کے، ہراساں کر کے کچھ نہ کچھ ہتھیا لیتے ہیں۔ اس پر قانون سازی ہونی چاہئے کہ غلط درخواست دینے والا آٹو میٹکلی قانون کی گرفت میں آجائے کیونکہ اس نے سرکاری ادارے، سرکاری اہلکاروں، ایک معزز شہری کا وقت ضائع کیا اور پھر ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ پیتے ،کوئی نہلا سا بندہ بھیج کر خود کو خارج کرالیا ۔ میں نے پولیس سے کہا کہ درخواست باز کو سامنے لائیں۔ بار بار کہا، درخواست باز کے وکیل نے کہا میں موجود ہوں لیکن درخواست گزار کے غائب ہونے کا اس کے پاس بھی جواب نہ تھا۔ میں خود تین بار پولیس کے پاس گیا ۔ میرے پندرہ دن بیرون ملک اور بیس دن یہاں اس پریشانی میں ضائع ہوئے۔ لیکن درخواست باز کہیں نظر نہ آیا۔کیا پولیس، افسر شاہی اور حکومت کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ، انہیں یہ کام دکھائی نہیں دیتا ؟ مجھے کوئی بتائے کہ میرا نقصان کون پورا کرے گا؟ میری تجویز ہے کہ کوئی ایسا خصوصی سیل ہو جو اس طرح کی درخواستوں اور درخواستیں دینے والوں کا جائزہ لے تاکہ شریف شہریوں کو پریشانی سے بچایا جا سکے۔اذیت کا یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔

ٹیگز: