سورة البقرہ میں ارشاد رب العزت ہے ”اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو مسلمانوں سے مذاق کرتے ہیں ان منافقوں سے اللہ بھی مذاق کرتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے‘ انہیں انکی تجارت نے کوئی نفع دیا اور نہ ہی وہ ہدایت یافتہ ہوئے“ اسی طرح ایک حدیث مبارک کے مطابق ”کوئی شخص اس وقت تک دنیا سے نہ جائے گا جب تک اسکا باطن مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو جاتا“ اس کا آسان ترین مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص برائیوں کا مجموعہ ہے لیکن بظاہر اس کے نیک چلن ہونے کے چرچے ہیں اسی طرح کوئی راہ راست پر ہے احکام خداوندی کے مطابق روزوشب بسر کرتا ہے لیکن دنیا سے اسکا یہ مثبت کردار پوشیدہ ہے تو جب تک اس کا باطن کھل کر ظاہر نہیں ہو جاتا وہ دنیا سے نہ جائے گا‘ اقوام متحدہ کے اجلاس سے دنیا بھر سے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جمع تھے انہوں نے وہاں کیسی کیسی دھواں دھار تقریریں کیں ان کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے یا انکا قول ان کے فعل کے کس قدر مطابق ہے یہ سب کچھ متعدد موقعوں پر دنیا کے سامنے آتا رہتا ہے اس اجلاس کے فوراً بعد بھی اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایران پر فضائی پابندیاں عائد کیں‘ ان پابندیوں پر فوری طور پر عمل کرنے والے ممالک میں جارجیا‘ کویت‘ آذربائیجان‘ عمان‘ قطر‘ عراق‘ ترکی‘ یو اے ای اور بھارت شامل ہیں‘ ایران سے فضا میں بلند ہونے والی بعض پروازیں ابھی آدھے راستے میں تھیں کہ انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی منزل مقصود پر کسی ایئرپورٹ پر نہیں اتر سکتے انہیں ری فیولنگ کی اجازت بھی نہیں ہے اس طرح یہ تمام پروازیں اسی ایئرپورٹ پر اترنے کے لئے مجبور ہوئیں جہاں سے انہوں نے ٹیک آف کیا تھا ایران نے ردعمل کا اظہار کر دیا ہے دیکھتے ہیں عمل درآمد کیسے ہوتا ہے اقوام متحدہ میں ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے سربراہان کے خطاب پر دنیا نے حیرت انگیز ردعمل کا اظہار کیا ایرانی صدر کے خطاب کو شرکاءنے توجہ سے سنا امریکی صدر کی تقریر پر ناگواری نظر آئی جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کا 77 ممالک نے بائیکاٹ کیا چینی صدر نے امریکہ آ کر امریکی صدر سے ملاقات تو کی لیکن انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب نہیں کیا‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں رام کرنے کے لئے ارسٹھ سالہ ریکارڈ اور روایت کو توڑتے ہوئے اینڈ ریو ایئربیس پر جا کر چینی صدر کا استقبال کیا انہیں گارڈ آف آنر دیا گیا ساتھ ہی جدید دو بمبار طیاروں نے سلامی پیش کی طیارے ان کے سر سے گزرے تو ٹرمپ نے انکی طرف سر اٹھا کر فخریہ دیکھا پھر ایک عجیب سی شکل بنائی انکا مقصد چینی صدر کو اپنی دفاعی طاقت کی جھلک دکھا کر مرعوب کرنا تھا لیکن چینی صدر امریکی ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہیں انہوں نے نظر اٹھا کر ان سلامتی دیتے‘ چیختے چنگھاڑتے طیاروں کو نہ دیکھا امریکی صدر نے عرصہ دراز بعد جھک کر چینی صدر کی بیگم سے مصافحہ کیا وہ یہ سب کچھ ”پٹوڈال“ پروگرام کے تحت کرتے رہے لیکن صدر شی جن پنگ سپاٹ چہرے کے ساتھ سب کچھ دیکھتے رہے امریکی صدر کو مذاکرات کی میز پر اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہوں نے ریئرارتھ منرلز‘ ایران جنگ اور ٹیرف کا ذکر چھیڑا تو انہیں چینی صدر کی طرف سے مرضی کا کوئی جواب نہ ملا‘ صدر شی نے انہیں ہر معاملے میں کہا ٹھیک ہے دیکھتے ہیں سوچتے ہیں لیکن ایران امریکہ جنگ کے حوالے سے دو ٹوک اور اصولی موقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں امریکی کو اسلام آباد معاہدے کی طرف پلٹنا چاہئیے‘ اسی معاہدے کی طرف پلٹنا امریکہ کے لئے سوجوتے اور سو پیاز والا معاملہ ہے لیکن دونوں چیزوں کا ذائقہ ہی انکا مقدر ہے‘ صدر ٹرمپ نے چینی صدر سے درخواست کی کہ وہ ایران پر اپنا اثر استعمال کرتے ہوئے اسے یمن کے حوثیوں سے دور رہنے کا کہیں لیکن یاد رہے چین نے ایک موقعہ پر امریکی صدر سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل پر اپنا اثر استعمال کرتے ہوئے اسے غزہ‘ فلسطین اور لبنان پر بمباری سے روکیں اس درخواست کے باوجود اسرائیل کی ان مممالک ان علاقوں پر بمباری جاری رہی پس یمن بھی جو کچھ کر رہا ہے اپنے منصوبے کے مطابق جاری رکھے گا‘ امریکہ ایران جنگ اور یمنی ردعمل کے طور پر کارروائیاں جلد بند ہونے کا کوئی امکان نہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی فرمائش ہے کہ اسرائیل میں انتخابات سے قبل ایران پر چند روز بھرپور حملے کئے جائیں کیونکہ اسکی انتخابات میں پوزیشن بہت کمزور ہے‘ یہی معاملہ امریکی مڈٹرم الیکشن کے ساتھ ہے اقتدار کی دونوں کرسیاں ڈگمگا رہی ہیں ا مریکی صدر کی تیسری فرمائش بھی چین نے پوری نہ کی امریکی صدر چاہتے تھے کہ ایرانی صدر جناب مسعود پریشکیان کی ان سے ملاقات میں اپنا کردار ادا کریں‘ چینی صدر نے جو مناسب سمجھا وہ کیا یہ ملاقات تمام تر امریکی کوششوں کے باوجود نہ ہو سکی ایرانی صدر خوب سمجھتے تھے کہ انکی اس ملاقات کے بعد ڈھنڈورا پیٹا جائے گا ہو گیا ہو گیا ایران سے سب کچھ منوا لیا گیا اور اپنی اس جعلی فتح کو آئندہ مڈٹرم الیکشن میں استعمال کیا جائے گا۔
چینی صدر اور ایرانی صدر کے دورہ امریکہ سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہ ہوا اس سے امریکہ کی جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہوا ہے نیتن یاہو اور ٹرمپ جنگ کا ایک راﺅنڈ چاہتے ہیں لیکن امریکی جرنیل انہیں واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ اس جنگ سے امریکہ کو بہت نقصان ہو چکا ہے لہٰذا مزید نقصان سے بچنے کی کوشش کی جائے بصورت دیگر ایران نے مزید اگر کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لی تو امریکہ اور امریکی فوج کے پلے کچھ نہ رہے گا وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب اب تک نہیں کھلوا سکے۔
گزشتہ چند دنوں میں ایرانی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والا بیان دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے ایران پر فضائی پابندیوں کے بعد انہوں نے کہاکہ اگر ہمارا تیل نہیں بکے گا تو دنیا میں پھر کسی کا تیل نہیں بکے گا اگر ہمارے جہاز فضا میں پرواز نہیں کر سکیں گے تو پھر دنیا میں کسی کے جہاز بھی پرواز نہیں کر سکیں گے ہم پابندیوں میں امریکہ کے ساتھ چلنے والوں کے ایئرپورٹ ناکارہ بنا دیں گے دنیا سوچ رہی ہے ایران یہ وار کیسے کرے گا کیا وہ ہر جگہ میزائلوں اور ڈرون کی برسات کر دے گا یا کچھ اور؟ ایران یہ مقصد اپنے پانیوں سے گزرے والی کیبل کاٹ کر بھی نصف دنیا کو مفلوج کر سکتا ہے اسکے پاس ابھی کئی ٹرمپ کارڈ ہیں جبکہ ٹرمپ کے ہاتھ میں اب کچھ نہیں وہ خالی ہاتھ ہے۔