Wed, September 16, 2026

مارخور جب شکار پر نکلتے ہیں تو خالی ہاتھ واپس نہیں آتے!

 مارخور جب شکار پر نکلتے ہیں تو خالی ہاتھ واپس نہیں آتے!

فتنہ خوارج اس وقت وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں اپنے ناپاک عزائم کیلئے متحرک ہے۔ یہ گروہ شاید یہ سمجھ چکاتھا کہ پاک فوج کے بہادر جوانوں پر چھپ کر حملے کر کے آپریشن سے روکا جا سکتا ہے لیکن یہ جانتے ہی نہیں کہ مار خور جب شکار پر نکلتے ہیں تو خالی ہاتھ واپس نہیں آتے۔ حال ہی میں دہشت گردی کی لہر میں اورکزئی اور ڈی آئی خان کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ دہشت گردوں نے پاک فوج کو ٹارگٹ کیا اور پھر پاک فوج کے بہادر جوانوں نے بھی بدلہ خوب لیا ان تمام حالات میں یہ واضح ہو گیا کہ پاک فوج کبھی بھی مشن سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ مذاکرات۔۔ اور وہ بھی دہشت گردوں سے ؟؟
آخر کیوں ؟؟َ
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس نے ملک کے امن و سلامتی کے سلسلے میں وہ حقائق سامنے رکھ دیئے جو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اعداد و شمار خود اپنی زبان بولتے ہیں۔۔ 2024ء میں 799 دہشتگرد مارے گئے، جس کا مطلب ہے تقریباً ہر ایک دن بعددو دہشتگرد وںکا خاتمہ۔ اسی سال 577 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ جن میں 272 جوان، 140 پولیس اہلکار اور 165 بے گناہ شہری شامل تھے۔ 2025 ء میں اب تک 10,115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو چکے ہیں ۔ 917 دہشتگرد مارے گئے اور 516 جانیں وطن پر نثار ہوئیں جن میں 311 جوان، 173 پولیس اہلکار اور 32 شہری شامل ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں اور بے گناہ شہریوں کی شہادت پر ہر پاکستانی دکھ میں ہے۔ یہ وہ قیمتی جانیں ہیں جو وطن پر قربان ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہشت گردوں سے مذاکرات ہو سکتے ہیں ؟
یقینی طور پر اس کاجواب نفی میں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ دہشتگردی میں اضافے کی بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ یہ بات اگرچہ طویل عرصے سے سنی جا رہی ہے، مگر اب پاک فوج نے اپنی پالیسی واضح کی ہے اور اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بہت ضروری تھا۔ نیشنل ایکشن پلان ایک وسیع پالیسی دستاویز ہے جس کا مقصد قیام امن کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کا جڑ سے خاتمہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لئے موت کا پیغام تھا۔ اس پر عملدرآمد میں شق در شق ناکامی کی قیمت ہمارے جوانوں کی قربانیوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ایک اور اہم نکتہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اٹھایا ہے وہ خارجہ امور سے متعلق تھا۔ افغانستان کی سرزمین پر غیر ریاستی عناصر کی موجودگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ شواہد بہت واضح ہیں۔ افغانستان میں بھارت کا آپریشنل بیس قائم ہے۔ افغانستان اپنی سرزمین کا غلط استعمال نہیں روک پایا۔ غیر ریاستی عناصر افغانستان میں موجود ہیں جس کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں آواز اٹھا چکا ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ صرف پاکستان نہیں بلکہ تمام خطے کے لئے خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی پڑوسی ریاست یا اس کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے توآواز اٹھانا ناگزیر ہے۔ پاکستان اس حوالے سے دو طرفہ مذاکرات کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ دفاع اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اہم ترین پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ہم برادر اسلامی ملک کے طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے خواہاں ہیں۔ پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے سامنے ڈٹی رہے گی۔ شہداء کا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوران پریس کانفرنس خیبرپختونخوا کا خصوصی ذکر کیاجو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا اور اسی دہشتگردی کے پیچھے ’’سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ‘‘ ہے۔ رواں سال انسدادِ دہشتگردی عدالت خیبرپختونخوا میں کسی دہشتگرد کو سزا نہیں دی گئی اور یہ تشویش ناک حقیقت ہے کیونکہ ناکافی قانونی کارروائی، تاخیر یا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مجرمانہ نیٹ ورکس کو بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی خلا دہشتگردی کے خاتمے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بعض عناصر کی جانب سے گمراہ کن بیانیہ کو بھی بے نقاب کیا۔ یعنی ایسے نظریات اور پروپیگنڈا جن کا مقصد نفرت، فرقہ واریت یا قیام امن کے خلاف بیانیہ کی تشہیر ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خوارج اور ان کے سہولت کاروں کو سخت وارننگ دی تین آپشنز تجویز کیے، یا تو وہ خود دہشتگردوں کو ریاست کے حوالے کریں، یا ریاست کے ساتھ مل کر ان کے خلاف کارروائی کریں، یا پھر ریاست کے ایکشن کے لئے تیار رہیں۔
اس موقف میں واضح وارننگ ہے اور پالیسی عیاں ہے کہ اب کسی دہشت گرد اور سہولت کار کو معافی نہیں ملنے والی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا بھارت کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان کیخلاف سازش کرنے والوں سے بات چیت کا فیصلہ درست ہے؟ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں۔
یقینی طور پر قوم اپنے شہدا کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے جوانوں کے خون کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تو ہمیں معاشرے کو کھوکھلا کرنے والی انتہا پسندی کا بھی سدباب کرنا ہوگا۔

ٹیگز: