پنجاب یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کر نے کے بعد مجھے ٹرینی رپورٹر کے طور پر پہلی جاب روزنامہ پاکستان میں ملی، یہ ستمبر انیس سو نوے کی بات ہے، لاہور بلکہ پاکستان کی صحافت کا ایک بڑا نام میاں حبیب اللہ، اس وقت وہاں رپورٹنگ روم کے مدارالمہام تھے، وہیں سے ان کے ساتھ دوستی کا شروع ہونے والا سفر آج تک جاری ہے، وہ گزشتہ دنوں مطالعاتی اور تفریحی دورے پر کینیڈا پہنچے تو میں پاکستان میں تھا، ان سے فون پر بات ہوئی تو ہنستے ہوئے پنجابی میں کہنے لگے ”اسی تہاڈے شہر آئے آں، تُسی لبھ ای نئیں رئے“ میں نے کہا میاں صاحب کینیڈا میں آپکے چاہنے والوں کی کمی نہیں مگر میں جلد پہنچ رہا ہوں، فون بند ہوا تو مجھے ایک اور بہت ہی پیارے، چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز، نوجوان صحافی اور سیاستدان ذبیح اللہ بلگن کا خیال آیا، انہوں نے مجھے کہا ہوا تھا کہ وہ امریکہ جا رہے ہیں اور وہاں سے کینیڈا اس وقت آئیں گے جب میں ٹورنٹو میں موجود ہوں گا، ان کے ساتھ فون پر ٹورنٹو کا شیڈول طے کیا اور کینیڈا پہنچ گیا۔ پاکستان سے کوئی دوست کینیڈا آئے تو وہ کچھ اور دیکھے، نہ دیکھے نیاگرا فالز ضرور دیکھنا چاہتا ہے، بلگن صاحب بھی کینیڈا پہنچ چکے تھے، انہوں نے مجھے فون کیا اور اپنے میزبان حارث کیانی سے بات کرائی جو کبھی لاہور میں بڑے اچھے رپورٹر تھے، اب کینیڈا میں رہتے ہیں پھر وہ انکی ہمراہی میں نیاگرا فالز آ گئے، اسی طرح میاں حبیب اللہ کے ٹورنٹو میں میزبان طباق ریسٹورنٹ کے مالک حاجی محمد جمیل تھے، جو ریسٹورنٹ کم اور لنگر خانہ زیادہ چلاتے ہیں، اللہ نے ان کے اس ریسٹورنٹ میں بہت برکت ڈالی ہے، جہاں پاکستان سے آنے والوں کی اتنی خاطر مدارت کی جاتی ہے کہ وہ لاہور بھول جاتے ہیں، ویسے تو حاجی جمیل انجمن ارائیاں کینیڈا کے صدر ہیں مگر ٹورنٹو کی انجمن آرائیوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں، جس پاکستانی سے بات کریں وہ حاجی جمیل کا تذکرہ ضرور کرے گا، اپنے ایک اور دوست شوکت عمر ڈھلوں کے ہمراہ طباق ریسٹورنٹ سے میاں حبیب کو ساتھ لے کے میں نیاگرا فالز چلا آیا، شوکت کو نیاگرا فالز کی مکمل تاریخ ازبر ہے، وہاں ایک سال میں کتنے سیاح آتے ہیں، مضافات میں کتنی وائنریاں ہیں، کینیڈا اور امریکہ کو کون کون سا برج وہاں سے ملاتا ہے، یہ تفصیل وہ لمحوں میں آپ کو دے دے گا۔
سو قارئین ،ایک بار پھر نیاگرا فالز ہیں ، میں ہوں اور میرے دوست ہیں ، نیاگرا فالز کو جب بھی دیکھیں ،اس کا قدرتی حسن آپ کو سب کچھ بھلا دیتا ہے اور آپ تھوڑی دیر کے لئے خوابوں اور خیالوں کی وادی میں اتر جاتے ہیں ، اپنے دکھ اور تکلیفیں بھول کر اس کے سکون میں کھو جاتے ہیں ،اٹھلاتے پھرتے ہیں،،میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال ،، فالز کے نتیجے میں پانی سے اٹھنے والی ہلکی ہلکی پھوار میں پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ اس وقت یہاں کا درجہ حرارت کیا ہے ، مسٹ کی وجہ سے ایک رومان پرور ماحول بنا ہوا ہے ،دنیا کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سیاح اس ماحول کو انجوائے کر رہے ہیں،ویسے تو اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے مگر اپنے رومان پرور ماحول کی وجہ سے اسے عالمی ہنی مون کیپیٹل کا نام بھی دیا گیا ہے۔جیسے لاہور کے بغیر پاکستان دیکھنے بارے کہا جاتا ہے ، جنیں لہور نئیں تکیا جمیا نئیں،،اسی طرح نیاگرا فالز نہ دیکھیں تو کہا جاتا ہے اس نے کینیڈا نہیں دیکھا،یہ عجوبہ گریٹرٹورنٹو کے قریب ہے ، اس لئے قدرت کے اس حسین مقام کو بار بار نہ دیکھنا نا شکری کے زمرے میں آتا ہے، کینیڈا قدرتی وسائل کے حوالے سے ایک خود کفیل ملک ہے،میٹھے اور شفاف پانی کے سب سے زیادہ ذخائر اس کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق اس جنت ارضی کے طول و عرض میں چھ ہزار سے زائد چھوٹی بڑی میٹھے پانی کی ایسی جھیلیں ہیں جو تین کلومیٹر سے بڑی ہیں،نیاگرا آبشار جنت نظیر کینیڈا کی پہچان بھی ہے،اسے دنیا کی سب سے بڑی آبشار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،قدرتی طور پر یہ آبشار کینیڈا سے امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے،امریکہ میں اسے نیاگرا فالس جبکہ کینیڈا میں نیا گرا فالز کہا جاتا ہے،یہ آبشار دریائے نیاگرا پر ایک گرجدار آواز کے ساتھ پہاڑ گرنے سے وجود میں آئی تھی،آبشار کا بڑا حصہ کینیڈا میں واقع ہے،یہ دنیا میں سیاحوں کے پسندیدہ ترین مقامات میں بھی شامل ہے،شوکت عمر نے گاڑی چلاتے ، میاں حبیب کو نیاگرا فالز دکھانے کے ساتھ ساتھ اسکی تاریخ بتائی تو انکی خوشی دیدنی تھی کہنے لگے گورایہ صاحب ،انہوں نے تو میرے کئی کالموں اور ٹی وی پروگراموں کا مواد مہیا کر دیا ہے۔
شوکت نے ہمیں نیاگرا فالز کے گردو نواح کے خوبصورت پارکس اور علاقے دکھائے ،جنکی خوبصورتی دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ،نیاگرا آبشار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے،اسے پہلی بار 1678 میں فادر لوئس ہپی پن نے دریافت کیا، 1759 میں سیورڈی لاسالی نے یہاں ایک قلعہ فورٹ کاونٹی قائم کیا جس کا نام بعد ازاں فو رٹ نیاگرا ہو گیا، انگریزوں نے سر ولیم جانسن کی زیر قیادت جنگ میں یہ قلعہ فرانسیسیوں سے چھینا تھا، 1819 میں دریائے نیاگرا کو امریکا اور کینیڈا کے درمیان سرحد تسلیم کیا گیا اور 1848 میں نیاگرا کو قصبے کا درجہ دے دیا گیا، یہی قصبہ 1892 میں شہر کا روپ اختیار کر گیا۔امریکا اور کینیڈا سے بذریعہ ہوائی جہاز، سڑک یا ریل گاڑی نیاگرا پہنچا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بذریعہ نیاگرا ریل اور سڑک رابطہ کے لئے دریائے نیاگرا پر دو پل واقع ہیں جن میں سے رین بوبرج بہت مقبول ہے جو 1941 میں تعمیر ہوا اور اس کا تعمیراتی حسن آج بھی برقرار ہے، قوسی شکل میں تعمیر کردہ یہ پل امریکا اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین گزر گاہ ہے،دوسرے برج کا نام پیس برج ہے۔نیاگرا آبشار کا زیادہ تر حسین حصہ کینیڈا کی جانب ہے جس کے لیے امریکہ سے قوس قزح پل سے بذریعہ گاڑی یا پیدل کینیڈا میں داخل ہوا جا سکتا ہے، اسی راستے امریکا اور کینیڈا کے درمیان روزانہ سیکڑوں ٹرک رسل و رسائل کا ذریعہ بھی ہیں ،دونوں ملکوں کے شہریوں کو سرحد عبور کرنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ دیگر اکثر ممالک کے باشندوں کے لیے ویزا لازمی ہے۔
یہاں جزیرہ گوٹ دریائے نیاگرا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جس سے نیاگرا کی عظیم آبشاریں جنم لیتی ہیں، دراصل نیاگرا آبشار کے تین بڑے حصے ہیں جن میں سب سے بڑا اور متاثر کن کینیڈین حصے کی جانب ہے ،اس سے فی سیکنڈ تقریبا سات لاکھ گیلن پانی 180 فٹ کی بلندی سے نیچے آتا ہے اور اسی عظیم نظارے کو دیکھنے کے لیے ہی دنیا بھر سے 40 لاکھ سیاح ہر سال نیاگرا کا رخ کرتے ہیں، بذریعہ کشتی، سیاح نیاگرا آبشار کا بہت قریب سے نظارہ بھی کر سکتے ہیں، جبکہ آبشار کے پانی سے بننے والی حسین قوس قزح کا فضائی نظارہ کروانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی ہوتی ہیں۔