Wed, September 16, 2026

سڑکیں خالی، سیٹیں خالی، 80 ارب ڈالر

سڑکیں خالی، سیٹیں خالی، 80 ارب ڈالر

5 اگست گزر گیا کچھ ہوا؟ کچھ بھی نہیں، ملک چل رہا ہے۔ ’’پاکستان کے سارے شہرو شاد رہو آباد رہو‘‘ حکومت بھی چل رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ اس میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ طاقتوروں کو کوئی خطرہ نہیں، لاکھوں بیرل تیل اور کروڑوں کیوبک فٹ گیس نکلنے کی خوشخبریاں (اللہ کرے تیل اور گیس نکل آئے عوام کا تیل نکالنے کا سلسلہ تو بند ہو جائے) ٹرمپ صدقے واری جا رہے ہیں، مودی پر امریکی صدر کا عذاب، ٹیرف 25 سے 50 فیصد کر دیا۔ مودی کی میّا مر گئی۔ اپوزیشن کو منہ دکھانے لائق نہیں رہا۔ پاکستان میں معاملہ برعکس یہاں اپوزیشن عوام اور حکومت سے آنکھیں نہیں ملا رہی۔ ہر طرف سکون ڈاٹ کام، بس اڈیالہ جیل کے اندر باہر سے چیخوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ خان مبینہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے عوض عالمی طاقتوں سے 80 ارب ڈالر وصولی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قید کی تاریخ 5 اگست کو یادگار بنانے کے لیے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کا حکم دیا تھا۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بقول ’’عوام سڑکوں پر نہیں نکلے‘‘ کیوں نکلیں بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کی فکر کریں یا پولیس کے کرنٹ بھرے ڈنڈے کھائیں، خان پارٹی کی موجودہ کمپرومائزڈ قیادت سے مایوس، گنڈا پور پر برہم۔ جیل سے تحریک کی قیادت ممکن نہیں تھی۔ کندھے پر ہر وقت چادر ڈالے محمود خان اچکزئی کو مشکل کام سونپ دیا۔ اچکزئی پوری قیادت سمیت دن بھر قومی اسمبلی میں بیٹھے رہے اور پھر سپیکر کی منت سماجت کے بعد پچھلے دروازے سے گاڑیوں میں گھروں کو چلے گئے۔ حالانکہ ایک روز قبل رات کے بارہ بجے جو لائحہ عمل دیا گیا تھا اس کے مطابق انہیں جتھے کی شکل میں اڈیالہ جیل جانا تھا۔ خان کے بچے نہ آ سکے انہیں آنا ہی نہیں تھا۔ علیمہ باجی نے عوام میں کرنٹ دوڑانے کے لیے بچوں کی آمد کا شوشہ چھوڑا تھا۔ اندرونی بیرونی دبائو کام نہ آیا حتیٰ کہ نیو یارک ٹائمز میں 4 لاکھ 20 ہزار ڈالر (ایک کروڑ 80 لاکھ روپے) کا اشتہار بھی کارگر ثابت نہ ہو سکا ملک بھر میں کہیں دو چار سو کہیں ہزار یوتھیے سڑکوں پر نکلے پانچ سو ہزار کے مظاہروں سے رہائی نہیں ملتی، دراز زلف وزیر اعلیٰ اس بار بھی غچہ دے گئے۔ مبینہ طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے تقسیم کر کے ہزار ڈیڑھ ہزار لوگوں کو گاڑیوں میں بھرا اور عوام کا ’’جم غفیر‘‘ لے کر ’’تاریخی ریلی‘‘ میں صوابی تک آئے اور سامنے پولیس کو دیکھ کر تقریر کیے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلے گئے۔ صوابی اور مارگلہ کی پہاڑیوں میں ٹینٹ ولیج لگانے کا منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ گوریلا جنگ کا اعلان بھی ناکامی سے دوچار سوشل میڈیا پر انقلاب آ گیا کا شور، یہاں انقلاب برساتی نالوں کی پُر شور لہروں میں بہہ کر دریا برد ہو گیا۔ خان نے غصہ میں گنڈا پور سے استعفیٰ طلب کر لیا۔ دراز زلف کا مستعفیٰ ہونے سے انکار، تحریک کا نقطہ عروج نہ نقطہ آغاز، مایوسی میں 14 اگست کی نئی کال، مقصد حکومت کو مصروف رکھنا اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنا ٹھہرا، تین دن بعد بھی یہی انجام ہو گا، خالی سڑکیں خالی سیٹیں لوگ مذاق اڑانے لگے ہیں۔ دہری مصیبت، 9 مئی کی سزا دی کے بعد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سمیت 9 ارکان پارلیمنٹ نا اہل کر دئیے گئے۔ سب کے وارنٹ گرفتاری ضمانتوں کی درخواستیں خارج، مزید نا اہل ہوں گے۔ روپوشی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی سیٹ خالی، پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل بیٹھ گئے تو ایوان میں قہقہوں کا شور اٹھا، اپوزیشن لیڈر کے لیے تین ناموں پر غور، عامر ڈوگر، اسد قیصر اور محمود اچکزئی، عامر ڈوگر اس دوڑ میں پہلے نمبر پر ہیں کیونکہ خان نے اسد قیصر کی مخالفت کر دی جبکہ پارٹی مانگے تانگے کے اپوزیشن لیڈر (محمود اچکزئی) کی مخالف ہے۔
اقتدار کی راہداریوں میں کیا چل رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے تین کھوجی کھوج لگانے یا ’’تماشائے اہل کرم‘‘ دیکھنے لاہور سے اسلام آباد پہنچے، دو تین روز راہداریوں کے چکر لگائے اہل کرم سے ملے اور اندرونی کہانیوں سے حیران ہوئے۔ واپسی میں تینوں نے اپنی روداد بیان کی تو عوام پریشان ہوئے۔ اقتدار 
کی راہداریوں میں 27 ویں 28 ویں ترامیم کے بارے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کو 18 ویں ترمیم ختم کیے جانے کی فکر ہے۔ پی پی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی اختیارات ختم کر کے وفاق کو سونپنا گویا ون یونٹ لانے کے مترادف ہے۔ یہ تجویز بھی گشت کر رہی ہے کہ مشرف دور کا بنیادی جمہوریت کا تجربہ دہرایا جائے۔ اس کی توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ صوبوں کو گزشتہ برسوں کے دوران اربوں روپے دئیے گئے لیکن انہوں نے یہ رقم ترقیاتی پروگراموں اور منصوبوں پر خرچ نہیں کی۔ اب یہ رقم براہ راست بلدیاتی اداروں کو دی جائے گی۔ این ایف سی ایوارڈ پر بھی اعتراضات کیے جا رہے ہیں پی پی کے حلقے مبینہ طور پر اس بات پر بھی برہم ہیں کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے اور ان کے ارکان کو نا اہل قرار دینے کے بعد ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کو سیٹیں مل گئیں تو اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے بعد شاید پی پی کی ضرورت باقی نہ رہے اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی آئینی عہدوں سے بھی فارغ ہو جائے گی۔ ان خدشات کے برعکس مسلم لیگی اور حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے بارے میں خدشات قبل از وقت ہیں کچھ نہیں ہو گا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق اتحادی حکومت کو جس ڈور میں پرو دیا گیا ہے۔ یہ اسی طرح چلتی رہے گی کھوجیوں نے ایوان صدر، وزیر اعظم ہائوس اور فوجی حلقوں میں جس ہلچل کا ذکر کیا۔ اسے وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر سے ملاقات کر کے ختم کر دیا۔ چینی کے بحران نے بھی سرکاری حکام کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ سارے اپنے، کس کو کہا جائے لیکن حکومت نے 19 لاکھ میٹرک ٹن چینی پر قبضہ کر کے اور 18 شوگر ملز مالکان کے نام ای سی ایل میں ڈال کر اس بحران کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ چینی درآمد کرنے کے ٹینڈر منسوخ کر دئیے گئے ہیں اور جگہ جگہ چھاپے مار کر چینی کی سرکاری قیمت پر فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود منظر عام پر آنے والے کرپشن کیسز پر وزیر اعظم اور لیگی حلقوں کی پریشانی برقرار ہے۔ 24 اداروں کی نجکاری بھی سرکاری حلقوں میں زیر بحث ہے۔ سیالکوٹ کے اے ڈی سی ریونیو کی گرفتاری پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دبائو قبول کرنے سے انکار اور خواجہ آصف کی میاں نواز شریف سے ملاقات بھی اہم موضوعات ہیں۔ تاہم اس سارے بکھیڑوں میں خان کی رہائی اور پی ٹی آئی کی تباہی کا کوئی ذکر نہیں۔

ٹیگز: