Mon, September 28, 2026

 ”میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے“

 ”میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے“

چوپال سجی ہوئی تھی۔چپ سائیں سمیت سب براجمان تھے۔ تیلی پہلوان کی آواز پر سب چونک گئے۔ تیلی پہلوان نے سب سے باآوازبلند سلام دعا کی۔۔۔ سب نے ایک ساتھ جواب دیا۔۔۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے۔۔ توقف کے بعد گویا ہوئے۔۔ بھئی تیلی پہلوان آج کیسے چوپال کا رخ کرلیا۔۔ اور یہ شیو کیوں بڑھی ہوئی ہے؟۔۔آپ نے توکبھی ایسا حلیہ نہیںبنایا۔۔ اس پر تیلی پہلوان نے کہا کہ سائیں جی۔۔۔ دراصل میرا دل کچھ دنوں سے چاہ رہا تھا کہ میں اپنی شیو بڑھا لو ں،یہ بھی دل چاہ رہا تھا کہ یونہی عام سے کپڑے پہنوں۔۔۔ سب بہت حیران ہوئے ۔ نتھو اور پھتو سے رہا نہ گیا۔۔۔ وہ بولے۔۔ پہلوان جی آپ تو خیر سے صاحب حیثیت ہیں لیکن پھر ایسا کیوں؟۔۔۔ تیلی پہلوان نے کہا۔۔ بھئی دوستو کبھی کبھی امیری میں بھی غریبی کا لطف اٹھانا چاہئے۔۔۔ کبھی کبھار ایسا حلیہ اور روپ دھار لینا چاہئے کہ آپ کے اپنے بھی کہیں کہ بھئی حلیہ درست کرو پر سائیں جی۔۔۔ جواب یہ ہے کہ امیری میں بھی غریبی کا لطف اٹھانا چاہئے ۔ ۔ ۔ یوں محسوس ہو کہ آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن کچھ بھی نہیں۔۔سائیں جی یہ احساس بہت عجیب ہے لیکن اس سے زندگی کا رخ بدل جاتا ہے اور لوگوں کو پہچاننے کاموقع مل جاتا ہے۔۔
تیلی پہلوان بات کررہے تھے اور آج تو چپ کرنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، سب انہماک سے ان کی بات سن رہے تھے ۔۔۔ تیلی پہلوان نے کہاکہ سائیں جی میں کچھ روز قبل سوشل میڈیا کھنگال رہا تھا۔۔۔ ایک بیرون ملک کی ویڈیو میری نظر سے گزری۔۔ نجانے کہاں کی تھی۔۔ لیکن پیغام بہت بڑا تھا۔۔۔ چپ سائیں نے کہا۔۔بتائیں پہلوان جی۔۔۔ تیلی پہلوان بولے۔۔۔ چوپال کے دوستو!۔۔۔ میں نے ویڈیو میں دیکھا ایک مفلوک الحال شخص ،بال گرد سے اٹے ہوئے تھے۔بظاہرکوئی فقیر نظیر آرہا تھا ۔۔ وہ ایک فاسٹ فوڈ کی دکان پر گیا اورلوگوں سے کھانے کے لیے کچھ مانگنے لگا۔۔۔سب نے اسے دھتکار دیا۔۔۔ وہ باہرنکل رہا تھا کہ ایک ویٹر نے اس کو روکا اور اپنی زبان میں کچھ اشارہ کیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس کے لیے اپنی جیب سے پیسے دے کر برگر لے کر آیا۔۔۔ اس مفلوک الحال نے سیر ہوکر کھایا۔۔ بعد میں اٹھ کر جانے لگا۔۔۔ لیکن اس ویٹر کا ہاتھ پکڑ کرایک گاڑی کے پاس رک گیا۔۔۔ اس میں سے ایک شخص باہر نکلا، اس کو اس شخص نے اشارہ کیا۔۔اچھی خاصی رقم اس ویٹر کو دے دی۔۔۔ ویٹر بہت حیران ہوا۔۔۔ اسی مفلوک الحال نے اس کی حیرانی دور کی اور کہا۔۔نوجوان میں اس شہر کا ایک رئیس ہوں بھیس بدل کر لوگوں کی مدد کرتا ہوں اور مجھے اس طرح کرکے خوشی ہوتی ہے۔۔ آج سمجھو تمہاری باری تھی۔۔ جاﺅ اس رقم سے اپنا کاروبار کرو اور حقیقی ضرورت مندوں کو کبھی مت بھولو۔۔۔ تیلی پہلوان چپ کرگئے۔۔۔ چوپال میں سکوت کا عالم تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد پہلوان جی بولے۔۔ سائیں جی اب آپ ہی بتائیں۔۔ امیری میں بھی آیا نا غریبی کامزہ۔۔۔
سائیں جی زیر لب مسکرائے ۔۔۔ بولے۔۔ چوپال کے دوستو! ۔۔۔۔ پہلوان جی نے آج بہت بڑا سبق دیا ہے۔۔ میں ان کی بات کو علامہ اقبال کے شعر میں بیان کروں گا۔
 میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
دوستو!خودی اقبال کے فلسفے کا بنیادی تصور ہے۔ خودی سے مراد خود پسندی یا غرور نہیں، بلکہ اپنی شخصیت، اپنی صلاحیت، اپنے مقصد اور اپنی عزتِ نفس کا شعور ہے۔ انسان جب اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ حالات کا غلام نہیں رہتا۔ مشکلات اسے توڑنے کے بجائے اس کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں۔
صاحبو!علامہ اقبالؒ کے یہ الفاظ محض دو مصرعے نہیں بلکہ ایک مکمل طرز زندگی ہیں۔ ان اشعار میںعلامہ اقبالؒ انسان کو دولت، آسائش اور ظاہری شان و شوکت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے خودداری، قناعت، کردار اور اصولوں کی زندگی اختیار کرنے کا درس دیتے ہیں۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک اصل امیری انسان کے بینک اکاو¿نٹ، لباس، مکان یا عہدے میں نہیں، بلکہ اس کے کردار اور خودی میں ہے۔اس شعر کی روشنی میں تیلی پہلوان کی بات بھی درست ثابت ہوتی ہے کہ امیری میں بھی غریبی کا لطف اٹھانا چاہئے لیکن خود ی سب سے مقدم ہے اورخودداری نہیں چھوڑنی چاہئے۔
دوستو!ایسا شخص جس کے پاس دنیاوی اعتبار سے کم مال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اندر خودداری، حوصلہ، علم، کردار اور مقصد کی دولت موجود ہو، وہ اقبال کی نظر میں حقیقی معنوں میں فقیر ہوتے ہوئے بھی امیر ہے۔صاحبو!سادگی اختیار کرنا شکست نہیں ہے۔جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہو اس کے سامنے چاہے جتنی مرضی آسائشیں ہوں وہ کھانے کی طلب نہیں رکھتابالکل اسی طرح عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی کتنا ہی نفیس ، مہنگااور عمدہ لباس پہنے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔کیوں کہ اس کا من ہی نہیں چاہ رہا تو وہ کیا کرے۔۔۔۔ کم وسائل میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنا ناکامی نہیں۔ اصل ناکامی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنی عزت نفس، دیانت اور ضمیر کو فروخت کر دے۔علامہ اقبال ؒکا فقیر کمزور نہیں ہوتا وہ اپنے اندر ایک ایسی قوت رکھتا ہے جو اسے حالات کے سامنے جھکنے نہیں دیتی۔یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نام پیدا کرنے کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں ہے۔
صاحبو!قناعت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ زندگی کی اصل قدر صرف اس میں نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ضرورت سے زیادہ رقم کو خرچ کرنا کمال نہیں ہے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ اس کو اگر کسی ایسے شخص کو دے دیا جائے جس کو واقعی ضرورت ہو تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کرسکے اور پھر ڈھیروں دعائیں دے۔۔۔ حالانکہ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن فقیری کا مزہ بھی تواس میں ہی ہے۔
چوپال کے بچوں، بھائیو اوردوستو!اصل امیری یہ ہے کہ انسان کم میں خوش رہنے کا ہنر جانتا ہو۔ ایک سادہ کھانا اگر شکر کے ساتھ کھایا جائے تو وہ بہت لطف دیتا ہے۔ چھوٹا سا گھر اگر محبت، سکون اور اپنائیت سے بھرا ہو تو وہ بڑے محل سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔غریبی میں امیری کا لطف دراصل قناعت اور شکر سے ہوتا ہے۔ جو شخص ہر وقت اس چیز کو دیکھتا رہے جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ دولت مند ہو کر بھی غریب ہی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ خود کو پہچانیں اور ہر حال میں خوش رہنے کاہنر سیکھیں اوراللہ کے دی ہوئی نعمتوں میں دوسرے لوگوں کو بھی شامل کریں اور دعائیں لیں کیونکہ دعائیں۔۔دن ہی نہیں بلکہ قسمت بدل دیتی ہیں۔۔ رہے نام اللہ کا۔

ٹیگز: