Wed, September 16, 2026

دْکھی انسانیت اور المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ

دْکھی انسانیت اور المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ

حالیہ سیلاب معمولی نہیں غیر معمولی تھا اْس نے وہ تباہی مچائی کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ہنستے بستے گھروں شہروں اور بستیوں کو ایسے مٹایا کہ جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھے۔ ان ہولناک مناظر نے آنکھوں سے نیند چھین لی۔ زندگی ایسے ہو گئی جیسے کوئی زخمی پرندہ اذیت میں مبتلا پھڑ پھڑا رہا ہو۔جس بستی میں پھنکارتا ہوا پانی داخل ہوا وہاں سے چیخیں بلند ہوئیں گویا لوگوں پر ایک عذاب عظیم ٹوٹ پڑا ہو۔
 مدد مدد کے صدائیں ہر طرف سے بلند ہونے لگی تھیں۔ پانی تھا کہ اوپر ہی اوپر جا رہا تھا کچھ لوگ بھاگ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے ان کے پاس بھوک پیاس مٹانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ وہ کبھی اِدھر تو کبھی اْدھر دیکھ رہے تھے کہ کوئی آئے اور انہیں زندگی کی امید دلائے۔ پھر ان کی سنی گئی مقامی چھوٹی چھوٹی فلاحی تنظیمیں انسانی جزبے سے سرشار کھانے پینے کا سامان لے کر ان تک پہنچ گئیں مگر وہ کب تک ان کے پیٹ بھر سکتی تھیں لہٰذا بڑے فلاحی اداروں نے بھی اْدھر کا رخ کر لیا جن میں عالمی رفاحی وفلاحی تنظیم المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ دواؤں غذاؤں اور اپنے سینکڑوں رضاکاروں کے ساتھ جہاں سیلاب نے لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دیا تھا وہاں پہنچ گئی !
جی ہاں المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ جس کے روح رواں عبدالرزاق ساجد ہیں ان کی خدمات صرف کسی ایک ملک کی حد تک نہیں پوری دنیا میں دیکھی جا رہی ہیں۔ کہیں زلزلہ آیا ہو کہیں جنگ کی وجہ سے 
انسانوں کو مسائل درپیش ہوں یا کہیں سیلاب آیا ہوں وہ اپنی تنظیم کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام حالات میں تعلیم صحت اور صاف پانی کی فراہمی کے لئے بھی وہ بھر پور طور سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنکھوں کے جملہِ امراض کے علاج کے لئے المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ بہت سنجیدہ ہے لہٰذا اس نے مختلف شہروں میں جدید ترین ہسپتال کھول رکھے ہیں جن میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتاہے پرچی کے بھی پیسے وصول نہیں کیے جاتے۔اس حوالے سے کسی اور کالم میں ذکر کیا جائے گا یہاں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بات کرنا مقصود ہے۔
اس تنظیم نے 27 اگست سے لے کر 19 ستمبر تک پاکستان کے 27 اضلاع اور دو سو مقامات پر خدمت انسانی کے کام کیے ہیں اور وہ اب بھی جاری ہیں۔ پچیس میڈیکل کیمپس قائم کرکے بارہ ہزار سات سو ستر مریضوں کو طبی امداد دی گئی ہے دس خیمہ بستیاں بسائی گئیں جن میں پانچ ہزار سے زائد بے گھر بے بس اور مفلوک الحال افراد کو پناہ دی گئی ہے المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ صرف متاثرہ افراد کا ہی سہارا نہیں بنا۔ بے زبانوں کے لئے بھی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی لہٰذا ان کے لئے ساٹھ ستر ہزار کلو گرام چارہ کا انتظام کیا گیا۔جو لوگ پانی میں گِھر گئے تھے وہ گھرے اس لئے تھے کہ انہیں یہ یقین ہی نہیں تھا کہ اتنا بڑا سیلاب آسکتا ہے کیونکہ چھتیس سینتیس برس پہلے آنے والے سیلاب سے یہ اندازہ لگا لیا گیا کہ اب اگر وہ آیا بھی تو معمولی ہو گا جو بہت کم نقصان کرے گا مگر اخیر ہوگئی پانی کی نجانے کہاں سے وہ آگیا جس نے ایسے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا جو لوگ سیلابی پانی کے گھیراؤ میں پھنس گئے انہیں بحفاظت کشتیوں کے ذریعے باہر لے آیا گیا اس سارے آپریشن میں چھے سات ہزار رضا کاروں نے حصہ لیا۔
یہ سب فلیٹیز ہوٹل لاہور میں ایک معلوماتی نشست میں میڈیا کے روبرو پیش کیا گیا۔ محترمہ نصرت سلیم صاحبہ جو المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ کی ایم ڈی ہیں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک ان کے رضا کار فیلڈ میں موجود ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ فلاحی تنظیموں کا دم غنیمت ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل سے انسانیت کی بے لوث خدمت پر مامور ہیں۔ حالیہ سیلاب میں اس کے رضاکار اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے لوگوں کا سہارا بنے ہیں جبکہ انہیں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بھوک پیاس نے انہیں بھی پریشان کیا مگر ان کے سامنے ایک بہت بڑا مشن تھا لہٰذا وہ گھبرائے نہیں۔ہم ان کے اس انسان دوست جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ 
 اہل زر و مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ ان کے شانہ بشانہ آکر کھڑے ہوں۔سیلاب نے جو بربادی کی داستانیں رقم کر دی ہیں انہیں بھلانا ابھی ممکن نہیں مگر بہتے آنسوؤں کو روکنے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا !۔

ٹیگز: