Wed, September 16, 2026

دل و جان سے آگے

دل و جان سے آگے

ہماری کہاں جرأت کہ اپنے سفر کا زائچہ ترتیب دے سکیں۔ کہاں طاقت کہ زاد سفر کا اہتمام کریں اور کہاں حوصلہ کہ مستقبل قریب کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیروں میں آسودہ مزاجی کا مقدر لکھیں۔ ہمارے سفر کے تمام گوشوارے وہی بناتا جاتا ہے جسے لکھنے پر لامتناہی قدرت حاصل ہے۔ وہی جو ایسا کہانی کار ہے کہ شک و شبہ سے بالاتر ہے جس کی کہانی میں مچھلی کے پیٹ میں رہ کر بچ جانے والا کردار یوں امر ہوتا ہے کہ شبہات کو شکست دیتا ہے۔ وہ کسی کہانی میں حضرت موسیٰؑ کے ہاتھ میں عصا دے کر اسے سانپ بناتا ہے تو دشمن بے زبان ہو کر حیرت سے تکتا ہے، اعتراض نہیں کرتا۔ کوئی کہانی آگ کو گلزار کرتی ہے اور کہیں سیکڑوں سال لمحوں میں گزر جاتے ہیں۔ شک و شبہ سے بالاتر کہانی کار اپنے قصوں میں اطاعت سے عاری صدیوں کے عبادت گزار شیطان کو تکبر کی بنیاد پر راندۂ درگاہ وحدت بناتا ہے اور پھر اپنے نائب کو علم کی بنیاد پر فرشتوں سے افضلیت کی سند عطا کرتا ہے۔
جی وہی برتر خالق اذن سفر دیتا ہے تو ہم جنت کے سرداروں کے دیس میں اس مٹی پر پاؤں دھرنے سے ڈرتے پھرتے ہیں جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے عرش معلی ہو چکی ہے اور یہاں اطراف میں وہ خوشبو پھیلی ہے جس سے مہکی فضا پاکیزگی ہدیہ کرتی ہے تو بڑے بڑے جلال و جمال کے پیکر جھولیاں بھرتے ہیں۔ یہیں سامنے وہ دروازہ ہے جس پر سردار ملائکہ درزی بن کر نبی زادوں کے ملبوس جنت سے لائے ہیں ۔
انہی گلیوں میں سرکار ابوطالبؓ کی آوازوں کی بازگشت ہے کہ کس کی جرأت ہے کہ کوئی میلی آنکھ میرے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھے۔ اسی دیار میں غلاموں کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر کرم سلیمان فارسیؓ کرتی ہے، ابوذرؓ بناتی ہے تو وہ انمول ہو جاتے ہیں۔ حبشہ کی میمونہؓ جب مخدوم کونینؐ کی خدمت کے صلے میں حسنؓ و حسینؓ کی زبان سے ماں فضہ پکاری جاتی ہے تو شاہوں کے شاہ رشک بھری سوچوں سے ان کا مقام جانچتے ہیں۔
میرے سامنے صدیوں کے پردے اٹھتے جاتے ہیں اور پہچان سکتا ہوں کہ یہیں پر مسجد نبویؐ سے متصل وہ حویلی ہے جہاں پر وفا کے امانت دار نے وفاداری کے مفاہیم میں ترامیم کر دی تھیں۔ انہیں کھیتوں میں وہ کھجوریں ہیں جنہیں کھانے سے پہلے نگاہیں جھکی جاتی ہیں۔
ہمارے ہاتھوں کی لکیروں میں عقیدت کے رنگ بھرنے والے خالق کائنات نے انگلی سے پکڑ کر یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ خود حیرت زدہ ہوں کہ یہ سفر ابھی میرے منصوبے میں نہیں تھا۔ میں ابھی اس قدر شیشہ صفت نہیں ہوا تھا کہ بے خوف ہو کر اس آسمان تلے روشنی کشید کرتا پھروں جس کی کرنوں میں چودہ سو سال پہلے والی تازگی میرے وجود کو معتبر بنا دے۔
ابھی تو اپنے اندر کے کینہ، حسد اور بغض کو قتل کرنا تھا پھر روبرو ہو کر ان گلیوں میں پاؤں دھرنا تھے مگر چند لمحوں میں دریا سے راستہ بنانے والے نے، آگ کو گلزار کرنے والے نے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والوں کو دستار عطا کرنے والے نے ہمیں بھی یہاں لا کھڑا کیا ہے۔بے شک وہی ہے جو سفر کے زائچوں میں اذن کے رنگ بھرتا ہے۔ وہی ہے جو ایک لمحے میں بے زر کو بوذر بناتا ہے اور آج ہم اسی کے لطف کرم سے مال و مال ہوتے جاتے ہیں۔

ٹیگز: