ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت، امن معاہدے کی اطلاعات اور ایران پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی بڑھتی ہوئی توقعات نے خطے کی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خاص طور پر ایرانی کرنسی ”ریال“ کی قدر میں نمایاں بہتری نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے سرمایہ کار ایرانی ریال کو ایک ممکنہ منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تاہم ماہرین اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ اس سرمایہ کاری کے ساتھ غیرمعمولی خطرات بھی وابستہ ہیں۔حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی خبروں کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قدر صرف معاشی عوامل سے ہی نہیں بلکہ سیاسی استحکام، بین الاقوامی تعلقات اور پابندیوں کے خاتمے جیسی پیش رفت سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ ایران کئی برسوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث اس کی معیشت، تجارت اور کرنسی شدید دباو کا شکار رہی ہے۔چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان کے مطابق ایرانی ریال کی موجودہ بہتری بنیادی طور پر ان امیدوں کا نتیجہ ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں نرم یا مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی جب 2016 میں امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا اور بعض پابندیاں ہٹائی گئیں تو ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تھی جو بعد ازاں بڑھتے بڑھتے تقریباً 60 ہزار روپے تک جا پہنچی۔تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کیے جانے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ ایرانی معیشت شدید دباو¿ کا شکار ہوئی، سرمایہ کاری میں کمی آئی اور ریال کی قدر تیزی سے گرنے لگی۔ حالیہ جنگی خدشات اور خطے میں کشیدگی کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت کم ہو کر تقریباً دو ہزار پاکستانی روپے تک پہنچ گئی تھی، جس سے بہت سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اب جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور مختلف معاہدوں و یادداشتوں پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، ریال کی قدر دوبارہ بڑھ کر تقریباً چار ہزار پاکستانی روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار ایک بار پھر ایرانی کرنسی کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔مارکیٹ میں موجود خوش فہمی یہ ہے کہ اگر ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں، منجمد اثاثے بحال ہو جاتے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام تک ایران کی رسائی دوبارہ ممکن ہو جاتی ہے تو ریال کی قدر مستقبل میں نمایاں اضافہ دکھا سکتی ہے۔ بعض سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت دوبارہ 60 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ اندازے مکمل طور پر سیاسی اور سفارتی صورتحال سے مشروط ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار شامل ہیں جو محدود سرمائے کے ساتھ تیز منافع کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن کرنسی مارکیٹ ہمیشہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہتی ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کسی بھی مرحلے پر ناکام ہو جائیں، پابندیاں برقرار رہیں یا خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہو جائے تو ریال کی قدر دوبارہ تیزی سے گر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ملک بوستان کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کار طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق موجودہ سطح پر خریداری کرنے والے سرمایہ کار اگر قیمت 6 سے 8 ہزار روپے کے درمیان پہنچنے پر فروخت کر دیں تو مناسب منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ عوام کو یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ سرمایہ کاری محدود پیمانے پر کی جائے اور اپنی تمام جمع پونجی ایک ہی کرنسی میں لگانے سے گریز کیا جائے۔ ان کے نزدیک 10 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی محتاط سرمایہ کاری نسبتاً محفوظ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ایرانی ریال کی بحالی کے ممکنہ اثرات صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ اگر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ خصوصاً پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی پاکستان کے توانائی بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سستی گیس کی فراہمی سے صنعتی لاگت میں کمی آئے گی اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح ایران کی بڑی صارف مارکیٹ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئی تجارتی راہیں کھول سکتی ہے جبکہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری حلقے ایران سے متعلق مثبت پیش رفت کو نہ صرف کرنسی مارکیٹ بلکہ پورے خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔مختصراً، ایرانی ریال اس وقت ایک پرکشش مگر پرخطر سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ منافع کے امکانات موجود ہیں لیکن خطرات بھی کم نہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حقائق، معاشی اشاریوں اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ موجودہ صورتحال میں محتاط اور محدود سرمایہ کاری ہی دانشمندانہ حکمت عملی قرار دی جا سکتی ہے۔