امارات:ایک سادہ جینوم سیکوئنسنگ ٹیسٹ نے اماراتی خاتون کی زندگی بچا لی۔ اس ٹیسٹ کی بدولت کینسر کی افزائش کی قبل از وقت تشخیص کی گئی، جس سے خاتون موذی مرض میں مبتلا ہونے سے بچ گئیں۔
اماراتی اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق، ایک خاتون جو اماراتی جینوم پروگرام (ای جی پی) کا حصہ تھیں، کو جینوم سیکوئنسنگ ٹیسٹ کے ذریعے ان کے جینیاتی نمونوں میں ایک تبدیلی کا پتا چلا، جو بعد میں تھائیرائیڈ کینسر میں بدل سکتی تھی۔
ایم 42 کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسن جاسم النویس نے دبئی میں منعقد ’عرب ہیلتھ ایونٹ‘ کے دوران بتایا کہ 40 سالہ خاتون کی جینوم سیکوئنسنگ سے ان کے جینز میں ایسی تبدیلی کا انکشاف ہوا جو کینسر کی طرف بڑھ سکتی تھی، لیکن بروقت تشخیص نے انہیں اس موذی مرض سے بچا لیا۔
ای جی پی ایک عالمی جینیاتی منصوبہ ہے جو اماراتی آبادی میں جینیاتی بیماریوں کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔ پروگرام کے تحت 10 لاکھ جینیاتی نمونوں کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں شہری خون کے نمونے جمع کروا سکتے ہیں۔
یہ پروگرام جینیاتی بیماریوں کی وجہ، ان کی اقسام، اور بعض بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص کے لیے اعداد و شمار فراہم کرتا ہے، تاکہ ان کی روک تھام میں مدد مل سکے۔