دس محرم یوم ِ عاشور سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا دن ہے۔ دس محرم سن 61 ہجری کو امام عالی مقام حضرت امام حسینؓاکیلے ہی نہیں بلکہ اُن کے خانوادے (اہلِ بیت ) اور قافلہ حسین سے تعلق رکھنے والے 72 افراد کربلا کے لق و دق صحرا کی تپتی ریت کی اپنے خون سے پیاس بجھاتے ہوئے شہادت کے عظیم رُتبے سے سرفراز ہوئے۔ یہ شہادت کیا تھی؟ اِسے کربلا ذبح عظیم کا نام دیا گیا تو اقبالؒ نے اسے غریب و سادہ و رنگین داستانِ حرم کا عنوان دیا ہے، جس کی ابتدا ءجدِ انبیاءحضرت ابراہیم ؑ کی ربِ کریم کے حکم پر اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل ؑ کے گلے پر چھری پھیرنے سے ہوئی تو اس کی نہایت (انتہائی) سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کی کربلا کے میدان میں شہادت سے ہوئی۔ یہ شہادت بلا شبہ تاریخِ اسلام میں ہی نہیں تاریخِ انسانی کا ایسا واقعہ ہے کہ کم و بیش 14 صدیاں گزرنے کے باوجود اس کی یاد ایسے منائی جاتی ہے جیسے یہ کل ہی پیش آیا ہو۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓنے یہ جانتے ہوئے بھی کہ حق اور سچائی کی سربلندی اور دینِ اسلام کی پیروی کی جو وہ نے اختیار کر رہے ہیں وہ کٹھن ہی نہیں اس میں سربھی قلم ہو سکتے ہیں ، اس کے باوجود اس پر چلنے کو ترجیح دی۔
واقعہ کربلا اور امام عالی مقام حضرت امام حسینؓکی اپنے اہل بیت اور اپنے قریبی ساتھیوں سمیت بے مثال قربانی کے بارے میں لکھتے ہوئے سچی بات ہے مجھے اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا احساس ہے اور پھر یہ سوچ کر کہ اس انتہائی حساس اور نازک موضوع پر لکھتے ہوئے کسی کوتاہی ، غلطی اور سوئے ادب کا ارتکاب نہ ہو میں تاریخ ِ اسلام کے اس انتہائی اہم موضوع پر اظہار ِ خیال کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ کچھ احباب کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اب اس موضوع پر اظہارِ خیال کا ارادہ کیا ہے تو یہ فکر دامن گیر ہے کہ اس حساس موضوع پر اگر کوئی بات کی جائے وہ تاریخی لحاظ سے جہاں مستند، مبنی بر حقائق اور مضبوط روایات کی حامل ہو وہاں اُس کے راوی بھی اپنی علمی، دینی اور مذہبی حیثیت سے بلند مقام و مرتبے کے مالک اور ہر طرح کی گروہ بندی سے بالا تر ہوں۔ ایک انتہائی قابلِ قدر اور قابلِ صد احترام شخصیت جن کا حوالہ بہت سارے لوگوں کو قابلِ قبول ہوسکتا ہے وہ نامور عالمِ دین، مفکر و مبلغِ اسلام اور انجمن خدام القرآن اور تحریکِ اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم مغفور ہیں کہ انہوں نے واقعہ کربلا کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جہاں مستند تاریخی روایات اور حقائق پر انحصار کیا ہے وہاں اہلِ بیتِ عظامؓ اور صحابہ کرامؓ کااس انداز سے ذکر کیا ہے کہ ان کے بلند مرتبے و مقام میں کوئی کمی نہیں آنے دی ہے۔
محترم و مکرم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے بیان کے مطابق خلیفہ راشد امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دورِ خلافت جو 5 سال پر مشتمل ہے بڑی خانہ جنگی اور فتنوں کی سرکوبی میں بسر ہوا۔ اس دوران جنگِ جمل، جنگ صفین اور جنگِ نروان لڑی گئیں جن میں ایک لاکھ فرزندانِ اسلام جن میں بڑی تعداد میں کبار صحابہ اکرامؓ بھی شامل تھے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو
بیٹھے۔ حضرت علی ؓ جنہوں نے مدینہ منورہ کی بجائے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تھا وہ کوفہ کی جامع مسجد میں فجر کی نماز کے دوران ایک خارجی ابن ملجم کے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنتے ہوئے شدید زخمی ہو گئے تو لوگ اُن کے پاس آئے تاکہ اُن کے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسنؓ کی خلیفہ راشد کے طور پر بیعت کرنے کے بارے میں رائے لے سکیں ۔ حضرت علی ؓ نے انہیں جواب دیا کہ وہ کسی کو مجبور نہیں کرتے اگر چاہیں تو بیعت کر لیں۔تا ہم حضرت علیؓ کی شہادت کے بعدحضرت امام حسنؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا گیا جو صرف 6 ماہ قائم رہی۔ اس کے بعد حضرت امام حسنؓ ، حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد حضرت امام حسن ؓ کے 6 ماہ کے دورِ خلافت کو خلافتِ راشدہ کے 30 سالہ دور میں جہاں شمار کرتے ہیں وہاں وہ حضرت امام حسنؓ کو پانچواں خلیفہ راشد بھی قرار دیتے ہیں تاہم وہ حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ حکومت جو اس کے بیس سال بعد جاری رہا اور جس میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ بھی از سرِ نو شروع ہو گیا اور امن و امان کی بہترین صورتحال بھی قائم رہی کوخلافت راشدہ کا حصہ شمار نہیں کرتے بلکہ اسے ملوکیت اور اموی دورِ حکومت کا آغاز کہہ کر پکارتے ہیں۔
حضرت امیر معاویہؓ کی حکومت و ملوکیت کا یہ پہلو اپنی جگہ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امیر معاویہ ؓ صحابی رسول ﷺ کے طور پر جہاں بلند مقام کے مالک ہیں وہاں وہ ایک بلند پایہ مدبر اور اعلیٰ درجے کے منتظم بھی تھے ۔ اُن کے دورِ حکومت کے (جو بیس سال پر مشتمل ہے) کا تقریباً آدھا عرصہ گزرا تو اُن کے بعد اُن کی جانشینی کا مسئلہ سامنے لایا گیا ۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق مشہور صحابی رسول ﷺ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓنے حضرت امیر معاویہؓ کے سامنے یہ معاملہ اُٹھایا ۔ یاد رہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا شمار اصحابِ شجرہ اور کبار صحابہؓ میں ہوتا ہے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر حضرت امیر معاویہؓ جیسے مضبوط حکمران کے دور میں جانشینی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو اُن کی وفات کے بعد اسلامی حکومت (خلافت ) ایک بار پھر خانہ جنگی اور فتنہ فساد کا شکار ہو جائے گی۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے بیان کے مطابق حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے جانشینی کے مسئلے پر توجہ دلانے کے باوجود حضرت امیر معاویہؓ اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرنے پر متردد تھے ۔ تاہم ایک اورثقہ روایت یہ بھی ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ اپنے بیٹے یزید کو جب اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کر رہے تھے تو حضرت احنف بن قیس ؓ جیسے مقتدر صحابیِ رسول ﷺ نے جو حضرت امیر معاویہ ؓ کے بھی قریبی ساتھی تھے یزید کی جانشینی کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ یا امیر آپ بخوبی جانتے ہیں کہ یزید کی راتیں کہاں بسر ہوتی ہیں اور دن کیسے گزرتے ہیں۔ اس کا ظاہر و باطن سب آپ پر عیاں ہے تو پھر آپ اسے کس طرح اپنا جانشین مقرر کر رہے ہیں۔
خیر حضرت امیر معاویہ ؓ نے یزید کو اپنے بعد حکمران( خلیفہ) نامزد کیا تو اس کے لیے ولی عہد کی بیعت لینا شروع کی۔ حضرت امیر معاویہ ؓ کو اندازہ تھا کہ حجاز (یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں) بعض انتہائی بزرگ اور ممتاز شخصیات اس بیعت سے انکار کر سکتی ہیں۔ چنانچہ یہی ہوا ۔ مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ ، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت امام حسین بن حضرت علیؓ جیسی انتہائی ممتاز اور بلند مقام و مرتبے کی مالک شخصیات نے یزید کی جانشینی کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت امیر معاویہؓ نے ان سے اغماض برتا اور اُن کے دورِ حکومت کے مزید 10 سال گزر گئے یہاں تک کہ سن 60 ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد یزید کی ولی عہد کی بیعت خلافت کی بیعت میں تبدیل ہو گئی ۔ صوبوں کے گورنروں کو اس کے لیے لکھا گیا کہ وہ یہ بیعت لیں ۔ تقریباً پورے عالمِ اسلام یا اسلامی سلطنت میں یزید کی بطورِ امیر (خلیفہ) بیعت قبول کر لی گئی لیکن پانچ بلند مرتبت شخصیات جن کا ذکر اُوپر ہوا ہے اور جن میں سے حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ وفات پا چکے تھے اُنہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ دونوں بزرگوں نے یزید کی بیعت کو یہ کہہ کر قبول کر لیا کہ کام اگرچہ غلط ہوا لیکن اُمت میں خون خرابے سے بچنے کے لیے ہم بیعت قبول کر لیتے ہیں۔ تاہم حضرت عبداللہ بن زبیرؓ جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے نواسے اور مشہور صحابی حضرت زبیر بن العوام ؓ کے صاحبزادے تھے انہوں نے اورحضرت امام حسینؓ یزید کی بیعت لینے سے انکاری رہے۔ یہ دونوں بزرگ شخصیات مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئےں ۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے بیت اللہ میں پناہ لے لی جبکہ حضرت امام حسینؓ 8 ذوالحجہ سن 60 ہجری کو اپنے اہل بیت اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ کوفہ کے سفر پر روانہ ہو گئے کہ اہلِ کوفہ حضرت امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت اور اپنی حمایت کا یقین دلانے کے لیے مسلسل خطوط اور پیغامات بھیج رہے تھے ۔
حضرت امام حسینؓ نے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا تو انہیں اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں نے منع کیا لیکن حضرت امام حسینؓ اپنے اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کا دینی فریضہ ہے کہ وہ یزید جیسے فاسق، فاجر اور دین کی تعلیمات کے باغی شخص کی بیعت کو قبول کرنے سے انکار ہی نہ کریں بلکہ اس کی مزاحمت بھی کریں۔ مفکرِ اسلام سید ابوالااعلیٰ مودودی ؒ نے حضرت امام حسینؓکے اس فیصلے کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے ،”کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت سے ایک سیاسی کام کہہ لے مگر حضرت امام حسینؓابنِ علی ؓ کی نگاہ میں تو ہ سراسر ایک دینی کام تھا ، اسی لیے انہوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔“
حضرت امام حسینؓ مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں 14 مقامات پر رُکتے ہوئے تقریباً 1ماہ کے سفر کے بعد 1750 کلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہوئے کربلا کے مقام پر پہنچ گئے اور وہاں خیمہ زن ہوئے کہ یزیدی لشکر نے یہاں سے آگے بڑھنے کی اُن کی راہیں مسدود کر دی تھیں ۔ یہاںاُن پر نہرِ فرات کا پانی بند کر دیا گیا اور یہیں وہ اپنے 72 پاک باز نفوس کے ساتھ شہادت کے رُتبے سے سرفراز ہوئے ۔ اُن کی شہادت میں اگر مظلومیت کا پہلوموجود ہے تو عزیمت ، صبر و رضا اور ایثار و قربانی کا پہلو اُس سے بھی بڑھ کر موجود ہے۔