Wed, September 16, 2026

فخر زمان پنجابی کے احیاءکی ہمہ جہت آواز

فخر زمان پنجابی کے احیاءکی ہمہ جہت آواز

 عنوان بہت دنوں سے ڈاکٹر امجد بھٹی کی فخر زمان کی شخصیت کا احاطہ کرتی کتاب پر کچھ لکھنے کی کوشش میں تھا مگر روایتی سستی جس میں عمر اپنا رنگ دکھا رہی ہے آڑے آ رہی تھی۔ اسی دوران پنجابی کانفرنس کی چھتیسویں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نہ صرف ڈاکٹر امجد بھٹی کی اس کتاب کی رونمائی ہوئی بلکہ ان کی دیگر تین کتابیں بھی پیش کی گئیں جن میں پنجابی کانفرنس کی چالیس سالہ تاریخ پر انتہائی خوبصورت کتاب بھی شامل تھی۔ پنجابی کانفرنس کے حوالے سے فخر زمان کم وبیش چالیس سال سے ماں بولی پنجابی کی خدمت کر رہے ہیں مگر ان کی پنجابی سے محبت کی جھلکیاں ست گواچے لوگ اور انکی پنجابی شاعری ہی سے نظر آنے لگی تھیں۔ ان کے ناول ست گواچے لوگ کو جو پذیرائی ملی اس نے انہیں پنجابی بولنے والوں کی محبت کا حقدار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی پنجاب میں ان کے کام پر پنجابی زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور دانش وروں نے بہت کام کیا ہے۔
میں نے مغربی پنجاب کی نسبت مشرقی پنجاب اور ہریانہ میں انہیں زیادہ مقبول پایا۔ پنجابی زبان پنجابی ثقافت اورپنجابیت کے لیے سرگرم فخر زمان کی زندگی کے مختلف پہلو¶ں کا احاطہ کرتی ڈاکٹر امجد بھٹی کی یہ کتاب فخر زمان کی شخصیت اور ان کی ادبی تخلیقات پر کام کرنے والے سکالرز کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔
چند صفحات میں فخر زمان جیسی ہم جہت شخصیت کا احاطہ کرنا خاصا مشکل رہا ہو گا مگر ڈاکٹر امجد بھٹی نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے فخر زمان ایک دانشور تو ہیں ہی مگر وہ سیاست کے میدان کے بھی کامیاب کھلاڑی رہے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کے مشیر کے طور پر سیاست میں قدم رکھنے والے فخر زمان پاکستان کی سینٹ کے ممبر کی حیثیت سے پاکستان کی سیاست میں مقام پیدا کر چکے ہیں۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے اس حیثیت میں پاکستان پیپلزپارٹی کو پنجاب میں منظم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ پاکستان پیپلزپارٹی کی بد قسمتی ہے کہ اس نے انہیں کھو دیا اور پنجابی زبان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے فخر زمان جیسا کارکن مل گیا۔ میں یہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے پنجاب میں زوال پر بات کر نے سے گریز کروں گا کہ یہ میرا موضوع نہیں اور یہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سوچنے کا کام ہے مگر پنجابی کانفرنس کے حوالے سے فخر زمان کا کام سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کیسے کیسے سیاسی کارکن ضائع کیے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ معمولی سی سوچ بچار پاکستان پیپلزپارٹی کو اپنے زوال کے اسباب سمجھنے میں مدد دے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ابتلا کے دور میں فخر پارٹی کے ساتھ رہے اور جب پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے تو انہوں نے پس منظر میں جانے کا فیصلہ کیا اور اپنی تمام تر توانائیاں پنجابی کانفرنس کی نذر کر دیں۔ ابتلا کے سیاہ دور میں انکا ناول بندی وان شائع ہوا اور پابندیوں کا شکار ہوا۔ ضیا آمریت کے دور میں ان کی کتابوں پر پابندی لگی جو جمہوریت کی بحالی تک جاری رہی۔ اس دور میں وہ بھی گرفتار رہے۔ جب کہ اسی دور میں ان کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو بھی قید و بند سے گزرتے ہوئے عدالتی قتل کا شکار ہوئے۔ بندی وان ان کی اپنی قید و بند کی داستان میں ملفوف ان کے رہنما کی قید و بند کی کہانی ہے۔ ڈاکٹر امجد بھٹی نے فخرزمان کے بچپن اور جوانی کے واقعات اور ان کی ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک اور بیرون ملک مشہور تعلیمی درس گاہوں میں حصول علم کی ان کی کاوشوں کو زیر قلم لا کر انکی شخصیت کے بہت سے پوشیدہ پہلو بھی بے نقاب کیے ہیں۔ خاص طور پر انکے والدین کی تربیت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اس سے اختلاف تو کیا ہی نہیں جا سکتا کہ ماں کی گود سے ملی تربیت اور محبت اور باپ کی شفقت اور روک ٹوک،ڈانٹ ڈپٹ بچے کی شخصیت کو تراشتی ہے۔ ڈاکٹر امجد بھٹی نے بہت خوبصورتی سے انکے والدین کی ان کوششوں کو قلمبند کیا ہے جس نے فخر زمان کی شخصیت کو ترتیب دیا۔
 فخر زمان نے دانش وری، ادب اور سیاست میں نام کمایا ہے۔ قومی سطح کے اور بین الاقوامی سطح کے بےشمار میڈل اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مشرقی پنجاب میں تو ان کی شخصیت اور ان کی ادبی کاوشوں پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کا زوال بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔
فخر زمان بھی اس کا سامنا کر رہے ہیں۔گھٹنوں کے درد نے انہیں سہاروں پر مجبور کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود چھتیسویں کانفرنس کے ہر سیشن میں حصہ لے کر اور اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کر کے انہوں نے پنجابی زبان اور پنجابیت سے اپنی کمٹمنٹ کو ثابت کر دیا ہے۔ اس پر انہیں داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ اسی طرح ڈاکٹر امجد بھٹی کو پنجابی کانفرنس کی تاریخ اور فخر زمان کی شخصیت پر ان کی کتابوں اور پنجابی کانفرنس کے تیسرے سیشن کو کامیاب بنانے کیلئے ان کی کوششوں کی تعریف نہ کرنا بھی ناانصافی ہو گی۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کانفرنس کے شرکاءفخر زمان کی صحت اور ڈاکٹر صاحب کے زور قلم کیلئے دعا گو ہوں گے۔

ٹیگز: