بولنے سے پہلے تولنا، بول کو انمول کرتا ہے .... بولنے کے بعد تولنا بے مول کر دیتا ہے۔ بڑا بول عام طور پر تول میں چھوٹا نکلتا ہے۔ کہتے ہیں، الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے تک اپنے ہوتے ہیں، ایک بار منہ سے نکل جائیں تو دوسروں کے ہیں۔ جس طرح بولنے سے پہلے تولنا ضروری ہے، لکھنے سے پہلے سوچنا اور پھر اپنی سوچ کو تولنا اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تحریر تاقیامت ہوتی ہے۔ بولے ہوئے لفظوں کی یادداشت تو چند سماعتوں تک محددو ہوتی ہے، لیکن لکھے ہوئے نامہ اعمال ہوتے ہیں .... قیامت تک لوگ اس کے گواہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ فی زمانہ نت نئی ریکارڈنگ آلات ایجاد ہو گئے ہیں۔ اب لکھے ہوئے اور بولے ہوئے لفظوں میں چنداں فرق نہیں رہا۔ بولا ہوا بھی پیچھے پڑ جاتا ہے۔ چند الفاظ بھی اگر سننے اور پڑھنے والوں کے یقین و ایمان میں خلل ڈال گئے تو خمیازہ نسلوں کو بھگتنا ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ قارئین اتنے ہی گنا، گناہ .... جتنے زیادہ فالوورز، اتنی ہی زیادہ ذمہ داری۔ اس باب میں گوشہ عافیت میں وہی ہے جو گوشہِ گمنامی میں ہے۔ شہرت ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اپنا گلہ بھی کاٹ سکتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی تعلیم تھی، اور یہ بارہا فرمایا: کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہ کرنا۔ ہاں! اگر اللہ نمایاں کر دے تو اور بات ہے۔ آپؒ اکثر نمایاں کی جگہ انگریزی کا لفظ پرومینینٹ PROMINENT استعمال کرتے۔ یہ لفظ نمایاں سے زیادہ نمایاں ہے، اس کامعنوی ابلاغ زیادہ ہے۔
بلوغت کو پہنچے بغیر تبلیغ ایک دوطرفہ نقصان ہے .... بولنے والے کا بھی اور سننے والے کا بھی۔ قبل اَز وقت بولنے والا اپنی بلوغت کی عمر کو بڑھا دیتا ہے۔ وہ چالیس کی بجائے ساٹھ ستر سال میں جا کر کہیں بالغ ہوتا ہے۔ ناپختہ بات، مبنی بر ابہام ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ اکثر وہ لے جاتے ہیں، جن کے خلاف یہ بات کہی ہوتی ہے۔ بالغ نظر ہونے سے پہلے کسی قسم کی خبر رسانی سننے والے کے ذوق کو متاثر کرتی ہے۔ ناپختہ بات اور ناپختہ کردار اپنے سامعین و حاضرین کے ذوق و شوق کو ماند کر دیتے ہیں۔ مجاز حقیقت کی بات کرنے کا مجاز نہیں۔ مجاز کی بات بھی حقیقت کے منہ سے اچھی لگتی ہے۔ مجاز ابھی خود راستے میں ہے، اسے اپنی حقیقت کی
کچھ خبر نہیں .... وہ حقیقت تک کیسے پہنچائے؟۔
اصل میں بات بڑی نہیں ہوتی .... ذات بڑی ہوتی ہے۔ کلام اللہ ہی قرآن کہلائے گا۔ انسان کلیم اللہ ہی کیوں نہ ہو، اس کا کلام ، کلامِ انسان ہے۔ اناجیل میں یہی تحریف کافی ہے کہ اس میں انسانوں کا کلام بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ شارحین و مفسرین کا کلام بھی کلامِ الٰہی کا حصہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ جب انسان کے کلام، یعنی انسان کی، کی ہوئی شرح، میں کوئی سقم نکل آتا ہے تو اسے کلامِ الٰہی کا سقم سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی پاک ہستی کے کلام کو بھی کلامِ پاک نہیں کہا جا سکتا۔ کلامِ پاک صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلام کو کہا جائے گا۔ الغرض جتنی بڑی ذات ہے، اتنی بڑی بات ہے۔ قدیم، قدیم رہے گا .... حادث، حادث! اللہ قدیم ہے، اللہ کا کلام بھی قدیم .... اس میں کسی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں .... یہ جیسا تھا، ویسا ہے، جیسا ہے، ویسا رہے گا .... ”الآن کما کان“ ذات کا کلام بھی ”الآن کما کان“ ہے۔ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔ اس کی عبارت بھی محفوظ ہے اور کا مفہوم بھی محفوظ ہے .... اور اس کے مفہوم کے حافظ بھی محفوظ! انسانوں میں کچھ لوگ ہمیشہ ایسے رہیں گے جو روحِ قرآن کے امین ہوں گے۔ اس طرح لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے قرآن محفوظ ہے۔
ہم انسانوں کی دنیا میں رہتے ہیں، ہمیں اپنے الفاظ و بیان کی حفاظت پر غور کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بیان بلند ہو تو ہمیں اپنا کردار بلند کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ کردار ہمارے الفاظ کو اتھارٹی دیتا ہے۔ ناصح کا کردار نصیحت کی ضمانت ہوتی ہے۔ کردار ہمارے الفاظ کو معنی کا لباس عطا کرتے ہے۔ لفظ ظاہر ہیں اور اس کے معنی باطن۔ باطن میں متمکن انسان کے الفاظ ہی ٹھہراو¿ ا پیدا کر سکتے ہیں۔
بولنے کا معاملہ بھی معاشیات کے معاملے کی طرح ہے، اگر رسد طلب سے بڑھ جائے تو قیمت گر جاتی ہے۔ لفظ بقدرِ ضرورت ہی بولنے چاہئیں۔ الفاظ کا چناو¿ .... سامع کی طلب اور استعداد کے مطابق ہونا چاہیے۔ اپنا علم ظاہر کرنے کے لیے نہیں بولنا چاہیے، بلکہ دوسروں کے علم میں اضافے کے لیے بولنا چاہیے۔ اپنا علم ظاہر کرنے والا دوسروں کو مرعوب کرنا چاہتا ہے۔ اب اس میں اور ایک قارون ِ وقت میں کیا فرق رہا۔ دولت مند بھی اپنی دولت کی نمائش سے اپنے ہم عصروں کو مرعوب کرتا ہے، قارونِ لغت بھی یہی کام کرتا ہے۔ ایک صاحبِ علم کے الفاظ میں اگر عاجزی مفقود ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اصل علم سے محروم ہے۔ اصل علم عباد الرحمن کے پاس ہوتا ہے .... اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ زمین پر بڑی عاجزی سے قدم رکھتے ہیں اور جاہلوں سے بحث کرنے کی بجائے انہیں دور سے سلام کہہ دیتے ہیں۔ برتری چاہنے والا شجرہِ آدم سے عاق کر دیا جاتا ہے۔ بنی آدم کا خمیر مٹی سے اٹھایا گیا ہے .... اور مٹی نم ہو تو نرم ہوتی ہے .... نرم ہو تو زرخیز ہوتی ہے۔ عجز و ندامت کے آنسو اس میں نمی کے ضامن ہیں۔
روز مرہ زندگی میں ہمارے زیادہ تر جھگڑے الفاظ کے زیادہ استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اپنے سیاسی اور مذہبی نظریات و افکار کا اظہار جابجا کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود کو پسندیدہ جگہوں پر بھی ناپسندیدہ بنا لیتے ہیں۔ بھائی! الفاظ سننے کے لیے بھی ہوتے ہیں .... صرف بولنے کے لیے نہیں! دوسروں کے کردار و افکار پر تبصرے کرنے کی روش نے ہمیں جھگڑالو بنا دیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر جگہ اپنا مافی الضمیر بیان کیا جائے۔ بہت سے احساسات اور بیشتر کیفیات چھپا کر رکھنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ زندگی میں بہت سے لوگ ناپسندیدہ بھی ہوتے ہیں .... لازم نہیں کہ اُن کے منہ پر انہیں ناپسندیدہ کہہ دیا جائے۔ اپنی ناپسندیدگی کا برملا اظہار ہمیں ناپسندیدہ بنا سکتا ہے۔ کسی بدتمیز کو اس کے سامنے بدتمیز کہہ دینا بجائے خود ایک بدتمیزی ہے۔ مہذب طریق ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ ایک ماہر بیٹسمین ہر بال پر چھکا نہیں لگاتا۔ بہت سی ناگوار باتوں کے جواب میں فقط ایک خاموشی کافی ہوتی ہے۔ دراصل خاموشی ہر غیر مہذب بات کا ایک مہذب جواب ہے۔ ہم خاموش ہو جائیں تو زمانہ جواب دیتا ہے۔ زمانے کا جواب زناٹےدار ہوتا ہے۔
اخلاق کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کی توقعات کا احترام کریں۔ ہر شخص اپنے بارے میں ایک اچھا زعم رکھتا ہے۔ اخلاق یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے اس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جو اپنے متعلق اس کے زعم کو پاش پاش کر دے۔ دوسروں کو شرمندہ کرنے والے الفاظ دائرہِ اخلاق سے باہر ہوتے ہیں۔ بابِ اخلاق لفظوں کا ایک اچھا انتخاب ہی تو ہے۔ اچھے الفاظ ہمیں اچھا سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اچھا بولو، اچھا سوچو اور اچھا پالو .... مستقبل!