کراچی: نامور اردو ڈرامہ نگار، شاعر اور ادیبآغا حشر کاشمیری کی برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جس میں ان کی اردو ادب اور اسٹیج ڈرامے کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
آغا حشر کاشمیری کا اصل نام محمد شاہ تھا اور وہ 1879 میں بنارس، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہیں اردو اسٹیج ڈرامے کی تاریخ کا ایک عظیم نام سمجھا جاتا ہے اور ان کے منفرد اسلوب کی وجہ سے انہیں “اردو کا شیکسپیئر” بھی کہا جاتا ہے۔
وہ متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے جن میں اردو، فارسی، عربی، ہندی، گجراتی اور انگریزی شامل ہیں، جس نے ان کی تخلیقات کو فکری وسعت اور ادبی گہرائی عطا کی۔
ان کے مشہور ڈراموں میں خوابِ ہستی، خوبصورت بلا، اسیرِ حرص، مریدِ شک، شہیدِ ناز، یہودی کی بیٹی، رستم و سہراب اور سفید خون شامل ہیں، جو آج بھی اردو ادب کے کلاسیکی شاہکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
آغا حشر کاشمیری 1935 میں آج ہی کے دن لاہور میں وفات پا گئے تھے، تاہم ان کا ادبی ورثہ آج بھی اردو ادب اور تھیٹر کی دنیا میں زندہ ہے اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔