لاہور : آج 25 اکتوبر 2025ء کو معروف صحافی، ادیب اور خطیب آغا شورش کاشمیری کی 50ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ آغا شورش کاشمیری کا اصل نام عبدالکریم تھا، مگر وہ اپنے قلمی نام ’’آغا شورش کاشمیری‘‘ سے مشہور ہوئے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان کی خدمت میں گزرا، اور انہوں نے نہ صرف تحریک ختم نبوت میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ اردو ادب اور سیاسی میدان میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
آغا شورش کاشمیری کی سب سے بڑی خدمت 1973ء کے آئین میں ختم نبوت کے عقیدے کو شامل کروانے میں تھی، جسے وہ اپنی زندگی کا عظیم ترین کارنامہ مانتے تھے۔ ان کا کردار قادیانیوں کو اسلام سے خارج قرار دینے کی تحریک میں بھی نمایاں رہا۔ ان کی جرات اور عزم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔
آغا شورش کاشمیری کی تربیت کا آغاز ’’زمیندار‘‘ اخبار سے ہوا، اور پھر مولانا ظفر علی خان کے زیر اثر تحریک شہید گنج سے ان کی سیاسی اور دینی سوچ نے جنم لیا۔ اس کے بعد وہ برصغیر کے ایک مشہور خطیب کے طور پر جانے جانے لگے۔ ان کی تقریریں لوگوں کے دلوں میں اتنی گہری اُترتیں کہ لوگ ان کے پیغام کو زندگی کا حصہ بنا لیتے۔
ان کی تصانیف میں ’’فیضان اقبال‘‘، ’’چہرے‘‘، ’’فن خطابت‘‘ اور ’’خطبات احرار‘‘ جیسے اہم کام شامل ہیں، جو آج بھی اردو ادب میں زندہ ہیں۔ آغا شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کے ساڑھے بارہ سال قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، لیکن ان کا عزم کبھی نہیں ٹوٹا۔
آغا شورش کاشمیری کا انتقال 25 اکتوبر 1975ء کو لاہور میں ہوا، اور وہ میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ آج ان کی 50ویں برسی کے موقع پر ہم انہیں یاد کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔