پاکستان کے قیام کو سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران دنیا کے نقشے پر کئی ایسے ممالک ابھرے جو ہمارے ساتھ یا ہمارے بعد آزاد ہوئے مگر آج ترقی، خوشحالی، تعلیم، صنعت اور سماجی انصاف کے میدان میں ہم سے کوسوں آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان نے بھی قیام کے بعد کچھ نہ کچھ ترقی ضرور کی ہے۔ اگر 1947ءکے پاکستان اور آج کے پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو انفراسٹرکچر، آبادی، ٹیکنالوجی اور سہولتوں میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہم بحیثیت قوم ترقی کی اس دوڑ میں وہ رفتار حاصل نہ کر سکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھی۔وہ اس طرح کہ پاکستان نے ضرور ترقی کی ہے یہاںسڑکیں اورپل بنے ہیں عمارتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ ان عمارتوں میں رہنے والے عام عوام نہیں صرف خواص ہیں۔ بیچارے عوام صرف انہیں دیکھنے والے ہیں اس لحاظ سے آج پاکستانی معاشرہ شدید طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس قیامِ پاکستان کے وقت سائیکل تک نہیں تھی مگر آج وہ بڑے بڑے کارخانوں، فیکٹریوں، بنگلوں، قیمتی گاڑیوں اور بے پناہ دولت کے مالک بن چکے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں ایسے پاکستانی ہیں جو بنیادی انسانی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ان کے پاس سر چھپانے کے لیے چھت ہے نہ بچوں کو پڑھانے کے وسائل، نہ علاج کی سہولت اور نہ ہی دو وقت کی عزت کی روٹی میسر ہے۔یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ بے پناہ وسائل کے باوجود پاکستان آج بھی عوامی خوشحالی، سماجی انصاف اور معاشی استحکام کے میدان میں پیچھے ہے۔ اس سوال کا جواب محض کسی ایک ادارے، کسی ایک طبقے یا چند ایک شخصیات کو موردِ الزام ٹھہرا کر نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ایسا کرنا مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اسے مزید الجھانے کے مترادف ہے۔درحقیقت یہ مسئلہ کسی ایک ادارے یا شعبے تک محدود نہیں ہے۔ اصل مسئلہ وہ مخصوص ٹولہ یا گروہ ہے جو ایک ناسور کی طرح اس ملک کے ہر شعبے میں سرایت کر چکا ہے۔ سیاست،صحافت اورکاروبار سے لے کر ملک کے اہم سرکاری اور نجی اداروں تک ہر جگہ اس گروہ کے نمائندے موجود ہیں۔ یہ لوگ مختلف ادوار میں مختلف حلیوں،نعروں اور بیانیوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں مگر ان کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے اپنے اختیار، اقتدار اور مفادات کا تحفظ۔ اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے یہ گروہ عوام کو ہمیشہ تقسیم رکھتا ہے کیونکہ ایک متحد قوم ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کبھی زبان کے نام پرکبھی رنگ نسل، صوبائیت، کبھی مسلک اور کبھی مذہب کے نام پر عوام کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیا جاتا ہے۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے کبھی”ریاستِ مدینہ “ کا نعرہ لگایا جاتا ہے توکبھی ان کو ”نئے پاکستان“کا خواب دکھایا جاتا ہے اور کبھی کسی اور دل فریب عنوان کے تحت ان کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری عوام سادہ لوحی اور جذباتیت کا شکار ہو کر بار بار فریب کھانے کے باوجود ہر بار ان بازیگروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کے حالات دیکھیں تو عوام کبھی کسی کے اقتدار کے لیے قربانیاں دیتے آئے اورکبھی کسی کے اختیار کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے رہے مگر اپنے حقوق کے لیے کبھی متحد ہو کر کھڑے نہ ہو سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قربانیاں عوام نے دیں اور فائدے ہمیشہ اسی اشرافیہ نے سمیٹے۔یہ مخصوص گروہ عوام کے خلاف ہمیشہ ہی ایک پیج پر رہا ہے۔ البتہ یہ دوسری بات ہے کہ اس گروہ کے اندر بھی آپس میں اقتدار کی جنگ ہوتی رہتی ہے۔ مگر ان کی چالاکی دیکھیں کہ اپنے اقتدار کی اس جنگ میں بھی یہ عوام کو بڑی بے رحمی سے مہروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جس کے لئے کبھی کسی ایک کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی کسی دوسرے کومگر انجام کار ہر بار اس لڑائی میںنقصان ہمیشہ بیچارے عوام کا ہی ہوتا ہے۔
دراصل عوام کو یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی محرومیوں کا ذمہ دار کوئی ادارہ یاسسٹم نہیں بلکہ ان اداروں میں شامل وہ مخصوص ٹولہ ہے جو عوام کو مسلسل بیوقوف بناتا رہتاہے۔ جب تک عوام اس حقیقت کا ادراک نہیں کریں گے کہ ان کا اصل دشمن کون ہے تب تک تبدیلی محض ایک خواب ہی رہے گی۔ عوام کی حالت اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک وہ زبان، رنگ، نسل، علاقے اور مسلک کی بنیاد پر بنائی گئی مصنوعی دیواروں کو گرا کر بطور ایک قوم کے آپس میںمتحد نہیں ہوں گے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ عوام جذبات کے بجائے شعور کا راستہ اختیار کریں اور کسی ایک نام نہاد لیڈر کو مسیحا سمجھنے کی بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کو اپنا اصل مقصد بنائیں۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور غلط فہمیوںکی بجائے ایک دوسرے کے دکھ دردکو سمجھیں۔جب تک عوام یہ سمجھتے رہیں گے کہ اس کا دشمن کوئی مخصوص ادارہ،کوئی شعبہ کوئی اور زبان بولنے والاکسی اور صوبے میں رہنے والا یا کوئی اور مسلک رکھنے والا ہے تب تک یہ کھیل یونہی چلتا رہے گا۔ جب وہ یہ سمجھ لیں گے کہ ان کا اصل دشمن وہ ہے جو انہیں آپس میں بانٹ کر کھاتا ہے۔ ان کی لڑائی ایک دوسرے سے نہیں بلکہ اس مخصوص ٹولے سے ہے جو انہیں مسلسل محرومی غربت اور بے بسی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ اس دن اس غاصب ٹولے اور گروہ کا کھیل بگڑ جائے گا اور عوام کی تقدیر بدلنا شروع ہو جائے گی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اصل انقلاب کسی ایک لیڈر، پارٹی یا کسی ایک نعرے سے نہیں آئے گا۔ اصل تبدیلی اس دن آئے گی جب عوام یہ فیصلہ کر لیں گے کہ وہ کسی کے اقتدار کی سیڑھی بننے کے بجائے اپنے حقوق اپنے مستقبل اور اپنی نسلوں کے لیے جدوجہد کریں گے اور اپنے مستقبل کے معمار خود بنیں گے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی معجزے میں نہیں بلکہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر عوامی بیداری، اتحاد اور مسلسل جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ جب عوام ان بازیگروں کے چنگل سے آزاد ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں گے تب ہی یہ ملک حقیقی معنوں میں ترقی، خوشحالی اور انصاف کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔بس اس کے لئے عوام کو مستقبل میں جاگتے رہنا اوربازی گر قسم کے چوروں اور لیٹروں سے خبردار رہنا ہوگا۔